بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کی حکمت عملی

وزیر اعظم پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ  جوہر ٹاؤن لاہور  کے دہشت گرد حملہ میں بھارتی ساز باز کا انکشاف ہونے کے بعد  بھارت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس سے پہلے  قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پنجاب کے آئی جی پولیس انعام غنی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے   انکشاف کیا تھا کہ ’کسی ابہام کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ اس دہشت گرد حملے کی ساری کڑیا ں بھارت  سے جاکر ملتی ہیں۔ حتی کہ اس  دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ بھارتی ایجنسی را کے لئے کام کرتا ہے، بھارتی شہری ہے اور بھارت میں ہی رہتا ہے‘۔

23 جون کو لاہور کے جوہر ٹاؤن میں  کالعدم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے گھر کے  نزدیک  ایک زوردار دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے چند روز بعد ہی ملزموں کو گرفتار کرنے کا  اعلان کیا تھا۔ شروع سے ہی یہ شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس حملہ میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ پاکستان    کسی ایک واقعہ کا حوالہ دیے بغیر بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا الزام عائد کرتا رہتا ہے۔ جس روٹین میں یہ الزامات  عائد کئے جاتے ہیں ، اسی روٹین کے مطابق نئی دہلی انہیں مسترد کردیتا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی   دہشت گردی کے  متعدد  واقعات   کا الزام   پاکستان میں موجود  گروہوں اور افراد  پر عائد کرتا رہا ہے جن میں خاص طور سے لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور جیش محمد کے مولانا  مسعود اظہر  شامل ہیں۔ پاکستان نے کبھی ان الزامات کو درست تسلیم نہیں کیا لیکن بھارت کا دعویٰ ہے کہ  یہ عناصر پاکستانی  خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں  کام کرتے رہے ہیں۔ اس وقت یہ دونوں گروہ کالعد م ہیں اور ان کے سربراہان قید ہیں۔

پاکستان کو خاص طور سے اس بات پر تشویش رہی  ہےکہ بھارت،  افغانستان میں مقیم  تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ قوم پرستوں کی  مالی  اور لاجسٹک امداد کرتا ہے اور انہیں پاکستان میں حملوں کے لئے تیار کیاجاتا ہے۔ تاہم  پاکستان کا یہ مؤقف  کبھی عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ۔ پاکستان نے اس حوالے سے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ کو ایک  ڈوسئیر فراہم کیا تھا جس میں پاکستانی حکومت کے بقول پاکستان میں  بھارتی تخریب کاری کے ٹھوس دستاویزی شواہد پیش کئے گئے  تھے ۔ بھارت کے خلاف لاہور دھماکے  کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر نے   آج پریس کانفرنس میں  اس ڈوسئیر کا حوالہ بھی دیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان تو پہلے ہی بھارتی تخریب کاری اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے بارے میں اس کی کارروائیوں کی تفصیلات عالمی اداروں اور اہم ممالک کو فراہم کرچکا ہے۔  جوہر ٹاؤن میں دھماکہ کے بعد پنجاب پولیس اور دیگر اداروں نے  ان تمام ذرائع کا سراغ لگایا ہے  جو اس  دہشت گردی میں ملوث تھے ۔ اس طرح پاکستان اب کسی شک و شبہ کے بغیر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس حملہ میں مالی وسائل بھی بھارت سے فراہم ہوئے اور اس کی ساری منصوبہ بندی بھی بھارت میں را کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے کی تھی جو بھارتی شہری ہے اور وہیں مقیم ہے۔

پاکستان کی طرف سے کسی دہشت گرد حملہ میں بھارت پر الزام لگانا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے لیکن جس تفصیل سے واقعات کی کڑیا ں ملا کر اس بار پاکستانی حکام نے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے ، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان اب اس معاملہ کو  اپنی سلامتی اور  خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح  بنا رہا ہے۔ پریس کانفرنس میں پولیس یا متعلقہ وزیر کی بجائے وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے معلومات فراہم کیں اور پریس کانفرنس کے فوری بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں  بھارت  پر  ملوث ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا: ’ انہوں نے اپنی ٹیم کو جوہر ٹاؤن حملہ کی حقیقت بتانے کی ہدایت کی تھی۔ پنجاب پولیس نے اس سلسلہ میں نہایت مستعدی و سرعت کا مظاہرہ کیا اور اصل ملزموں کا سراغ لگایا۔ اس سلسلہ میں ہماری سول و ملٹری انٹیلی جنس نے شاندار تعاون کیا۔  اس تعاون کی وجہ سے دہشت گردوں اور ان کے بین الاقوامی رابطوں کا  پتہ لگا یا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس ناقابل قبول رویہ کا نوٹس لے‘۔

ملک کی سیاسی قیادت کی طرف سے پوری صراحت اور شدت  کے  ساتھ   پیش کئے گئے اس  مقدمہ  کے سیاسی ، سیکورٹی  اور خارجہ پالیسی سے متعلق پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔   اگرچہ اس  معاملہ کے داخلی سیاسی  اثرات  بھی  مرتب ہوں  گے  لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس واقعہ سے پہلے ہی  بھارت  کے پاکستان دشمن ارادوں  اور   ملک میں تخریب کاری کے بارے میں  ذہنی و جذباتی طور سے تیار کرلیا گیا ہے۔ انہیں  بھارت کی بد نیتی اور پاکستان دشمنی کا یقین دلانے کے لئے  حکومت کو کوئی خاص جتن کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ ملک کی اپوزیشن سے  حکومت مسلسل  اندیشے کا شکار رہتی ہے ۔  حال ہی میں پارلیمانی لیڈروں کو  فوجی قیادت کی سیکورٹی بریفنگ میں  بھی   سلامتی  چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ’قومی ہم آہنگی‘ کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا ۔ لیکن اس اجلاس میں   عمران خان کی  عدم شرکت کے بارے میں   حکومت اور اپوزیشن کے متضاد بیانات سے  جو تصویر بنتی  ہے، اس میں  بھارت کے خلاف تازہ ترین مقدمہ  کے ذریعے اپوزیشن   کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے  پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور سے کشمیر کے سوال پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ،  وزیر اعظم کو براہ راست مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔  اب بھارت کی دہشت گردی کے خلاف   مقدمہ پیش کرکے   اپوزیشن لیڈروں کو اپنا لب و لہجہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔

تاہم اس معاملہ کا اصل ٹارگٹ بھارت اور  نریندر مودی کی حکومت ہے جو عمران خان کی خواہش اور مسلسل تگ و دو کے باوجود  پاکستان کی خواہش کے مطابق بات چیت پر آمادہ ہونے اور مقبوضہ کشمیر میں  اگست 2019 سے پہلے کی صورت حال بحال کرکے پاکستانی حکومت کو کوئی سپیس یا فیس سیونگ کا موقع دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ بلکہ  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کےاجلاسوں میں بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف اپنی سفارتی صلاحیتیں استعمال کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد میں یہ شبہ اب یقین میں تبدیل ہورہا ہے کہ امریکہ کے علاوہ   بھارت بھی پاکستان کو بدستور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی حال ہی میں 27 میں  سے  26 نکات پر عمل کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ پررکھنے کو تکنیکی کی بجائے سیاسی فیصلہ قرار دیاتھا۔  اس بھارتی رویہ کا توڑ کرنے کے  لئے پاکستان بھی ایف اے ٹی ایف میں بھارت  کے خلاف کارروائی کی خواہش کا اظہار  کرتا رہا ہے ۔     لاہور میں دہشت گردی کے ایک مخصوص واقعہ میں بھارتی اعانت و سرپرستی کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت ملنے   کا دعویٰ کرتے ہوئے ، پاکستان  دیگر عالمی فورمز کے علاوہ ایف اے ٹی ایف میں یہ  مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ   اس دہشت گردی میں مالی وسائل  چونکہ  بھارت سے فراہم ہوئے   تھے  ، اس لئے  ان کی بنیاد پر  فنانشل  ایکشن ٹاسک فورس بھارت    پر پابندیاں عائد کرے۔

دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ خواہ کتنا ہی مضبوط اور جائز کیوں نہ ہو لیکن اس کی عالمی سفارتی دسترس  ابھی تک  نئی دہلی کے لئے کسی خاص پریشانی کا سبب نہیں بن سکی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کے ساتھ امریکہ اور مغربی ممالک کے تجارتی، اسٹریٹیجک اور  سفارتی مفادات ہیں۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنے الزامات  تسلیم کروانے کے لئے زیادہ ملکوں کی سفارتی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ حتی کہ اس کا قریب ترین حلیف چین بھی  دشمنی  کی بجائے تجارتی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور کسی عالمی فورم میں براہ راست بھارت کو چیلنج کرنے  کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ اسی طرح عرب ممالک کے علاوہ ترکی کے نئی دہلی کے ساتھ مالی مفادات کی نوعیت   کی روشنی میں  یہ  باور  کرنا مشکل ہے کہ  پاکستان، بھارت پر   دہشت گردی کی سرپرستی کے مقدمہ سے    کیا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔

دونوں ممالک نے حال ہی میں  سلامتی اداروں کے درمیان مواصلت کے ذریعے  لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد   یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد سے  ایل او سی پر  جارحیت  دیکھنے میں نہیں آئی۔  لیکن خطے کی تبدیل ہوتی صورت حال اور افغانستان سے امریکی  افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے  بھارتی ارادوں  سے  ضرور اندیشہ  ہوگا۔ آج    پریس کانفرنس کے دوران معید یوسف نے  اصل مقدمہ تو بھارت کے خلاف   پیش کیا لیکن افغانستان کا ذکر  کرنا نہیں بھولے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس حملے کا اہم ملزم عید گل افغان شہری ہے لیکن پاکستان میں رہتا تھا۔ اسی لئے ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ افغان پناہ گزین ہمارے بہن بھائی ہیں  لیکن  اب وقت آگیا ہے کہ وہ باوقار طریقے سے اپنے وطن لوٹ جائیں۔ اگرچہ پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کی بڑی تعداد امن پسند ہے لیکن ان میں ایسے افراد بھی چھپ کررہتے ہیں جو تمام پناہ گزینوں کو بدنام کرتے ہیں‘۔

دہشت گردی کے ایک واقعہ میں دشمن  ہمسایہ ملک کے خلاف مقدمہ پیش کرتے ہوئے افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور ان  کی صفوں  میں دہشت گردوں کی موجودگی کا اشارہ بھی درحقیقت  افغانستان میں بھارتی نیٹ ورک کے خلاف دلیل کا  حصہ ہے۔ اس پاکستانی  مؤقف کے برعکس امریکی حکومت کی کوشش ہوگی کہ انخلا کے بعد وہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کو استعمال میں لائے۔  پاکستانی حکومت نے  قومی و بین الاقوامی  سیکورٹی  پالیسی  پر   دو ٹوک اور ٹھوس اشارہ ضرور دیا ہے لیکن موجودہ حالات میں  اس حکمت عملی کے فوری یا دوررس اثرات ظاہر ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ  اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مشکلات   میں ضرور  اضافہ  ہوجائے  گا۔