ملک میں دہشت گردی بین الاقوامی اسکیم کے تحت ہو رہی ہے: شیخ رشید

  • سوموار 05 / جولائی / 2021
  • 6580

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں دہشت گردی کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے ایک بین الاقوامی اسکیم چل رہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانے اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شیخ رشید سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے لاہور کے جوہر ٹاؤن دھماکے سے بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت دیکھے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھارت کے ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ’انتہائی خطرناک گروہ‘ کراچی میں پکڑا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بیرون ملک جیلوں سے رہائی پانے والے افراد کو پاکستان لایا گیا تھا اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے واقعات کے لیے ایک بین الاقوامی اسکیم چلائی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نہیں جانتا کہ ہماری ایجنسیاں اور پولیس اب کس حد تک تربیت یافتہ ہیں۔ یہ 1978، 1979 کے ادارے نہیں ہیں، یہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہماری تمام تر معاملات پر نگاہ ہے اور ہمیں لاہور میں حملے کی توقع تھی۔ پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے کیونکہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری سے باز نہیں آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان چند لوگ بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے کی بات کر رہے ہیں، وہ کس منہ سے یہ بات کر رہے ہیں۔ پاکستان کو سخت، مضبوط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی سلامتی سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں۔

انہوں نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے کہ بہت زہر اگلا جارہا ہے اور پاکستان پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اس صورتحال میں ہمیں سینڈویچ بنانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اُمید ہے کہ ہم اس سے کامیابی کے ساتھ نکلیں گے۔

پاکستان کی فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سویلین ایجنسیاں مکمل طور پر چوکس اور تیار ہیں۔ وزیر داخلہ نے نشاندہی کی کہ لاہور میں دھماکا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پاکستان کی گرے لسٹ کی حیثیت سے متعلق فیصلے سے چند روز پہلے کیا گیا۔

واضح رہے گزشتہ روز پنجاب پولیس کے سربراہ اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے کا ماسٹر مائنڈ ’ایک بھارتی شہری ہے اور وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک ہے۔

وزیر داخلہ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مسئلے میں اپوزیشن کا کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو ’درست سمت‘ میں واپس آنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وزیر اعظم خوش قسمت ہیں کہ انہیں اتنی تھکی ہوئی اپوزیشن ملی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک یا دو ماہ میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک مرتبہ پھر اچھے تعلقات ہوں گے اور یہ سیاست قومی سلامتی اور پاکستان کو ترجیح دینے پر مبنی ہوگی۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئندہ انتخابات میں منتخب ہونے والی حکومت کو فوج کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔  تاہم پناہ گزینوں کی آمد کی صورت میں سرحدی کیمپوں کے لیے حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔