ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہو: وزیر اعظم
- سوموار 05 / جولائی / 2021
- 3940
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کریں گے کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہو۔
گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور مفاہمتی یادداشتوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہ ملک میں ترقیاتی کاموں میں کئی علاقے پیچھے رہ گئے اور اس میں بلوچستان کو بھی ہم نے پیچھے چھوڑ دیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کو اوپر لے کر آئیں۔
گوادر پاکستان کا فوکل پوائنٹ بننے والا ہے، یہاں بنیادی سہولیات نہیں تھیں، یہ مسئلہ اب حل کردیا ہے۔ میں خواب دیکھتا ہوں کہ پاکستان ایک عظیم ملک بننے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انسان کی زندگی میں جب اونچ نیچ آتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔ میں نے 60 کی دہائی میں پاکستان کو تیزی سے اوپر جاتے دیکھا تھا، پاکستان ایشیا میں ترقی کا ایک رول ماڈل تھا مگر پھر ہم نے غلطیاں کیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ گوادر کا منصوبہ بہت پہلے سے بنا ہوا تھا تاہم یہاں بنیادی مسائل تھے، یہاں پانی بجلی اور گیس اور رابطوں کا مسئلہ تھا۔ اب سب پر کام شروع ہوگیا ہے اور اس پر چین کے شکر گزار ہیں۔ گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر سے اس کا رابطہ وسیع ہوگا۔ ہمیں سرمایہ کاروں کو سہولیات دینی ہوں گی، اس کے لیے حکومت کی جانب سے ون ونڈو آپریشن جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ سرمایہ کار ایسی صنعتیں لگائیں، جس سے ہماری برآمدات بڑھیں، جب تک ایسی صنعتیں نہیں لگیں گی روپے پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔ ماضی میں کبھی برآمدات پر مبنی نمو پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے معاشی زونز میں سرمایہ کاروں کو دعوت دیں تاکہ ملک سے برآمدات میں اضافہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کافی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں۔ کئی چیزوں کے لیے وفاق اجازت دے دیتا ہے تاہم صوبے مسائل پیدا کرتے ہیں، چاہتا ہوں کہ وفاق اور صوبوں کے ساتھ رابطوں کو مزید بہتر کریں۔ کسی ملک میں سرمایہ کاروں کو سہولیات اچھی ملتی ہیں تو مزید سرمایہ کار آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین دنیا میں معاشی طور پر سب سے آگے جارہا ہے، اس کا ہمیں فائدہ حاصل ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ساتھ رابطوں کے ساتھ ہم ان تمام منصوبوں کی نگرانی کریں گے تاکہ ان پر تیزی سے عمل در آمد ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لیے 730 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے۔ اس میں سے ہم یہاں کے ویران علاقوں کے روابط بھی بڑھائیں گے۔ اس کے علاوہ ہم انسانی ترقی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ گوادر تمام وسطی ایشیا سے منسلک ہورہا ہے، کئی ممالک جن کے پاس سمندر نہیں وہ یہاں سے تجارت کریں گے۔
پڑوسی ملک افغانستان کی حالیہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو، ہماری پوری کوشش ہے کہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک مل کر کوشش کریں کہ وہاں خانہ جنگی نہ ہو۔ افغانستان میں خانہ جنگی کا نقصان ان کے ساتھ ساتھ اس کے تمام ہمسایہ ممالک کو بھی ہوگا۔ پناہ گزینوں کے علاوہ اس سے وسطی ایشیا کے تمام تجارتی روابط متاثر ہوں گے۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ گوادر سمیت بلوچستان کی ترقی میں وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی پر وزیر اعظم کے مشکور ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچے تھے۔ وزیر اعظم کے میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کو بلوچستان پر حکومت کی خصوصی توجہ کے ویژن کے تحت جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے گوادر فری زون، ایکسپو سینٹر اور ایگریکلچرل انڈسٹریل پارک کے ساتھ ساتھ تین فیکٹریوں کا افتتاح کیا۔ دورے کے دوران وزیر اعظم مقامی عمائدین، طلبہ اور کاروباری شخصیات سے بھی خطاب کریں گے۔