چلے ہوئے کارتوس، ٹھس سیاسی ڈانس
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 05 / جولائی / 2021
- 7550
وہ بچوں کا قاتل معاشرہ ہے جس کے دوزخ میں کروڑوں مسلمان فاقوں اور جہالت کی آگ میں دن رات جل رہے ہیں ۔وہاں کی سڑکیں اور سرحدیں غیر محفوظ ہیں ۔ خطِ غُربت سے نیچے سسکتے تڑپتے کروڑوں غریب، بے بس اور مجبور لوگ اپنے حکمرانوں کی نا اہلی، نا عاقبت اندیشی اور امورِ حکومت سے نا بلد ہونے کی سزا سہ رہے ہیں۔
آج ہی ٹی وی پر یہ منظر دیکھا کہ دو باریش اشخاص جو خیبر پختوں خواہ میں مقیم ہیں ، اپنی بہن کاور ماں کو بری طرح زدو کوب کر رہے ہیں اور وہ اس لیے کہ بہن باپ کی جائیداد میں سے اپنا حق مانگتی ہے اور ماں اُس کی حمایت کرتی ہے۔ ہر چند کہ بیٹی اور بہن کا حقِ وراثت اسلامی شریعت نے واضح طور پر مقرر کررکھا ہے مگر لالچ کے اندھے اور ہوس کے بندے قرآنِ حکیم کو پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ چنانچہ جب قرآنِ حکیم کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر دار الفتا سے فتویٰ آنا چاہیے کہ اسلامی معاشرے میں حقوق العباد کی ایسی خلاف ورزی قرآنِ حکیم کی شان میں انتہائی سنگین گستاخی ہے لیکن مفتیوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔اور اب تو صورتِ احوال اس قدر بگڑ گئی ہے کہ ہم جنسی کو یہ کہ کر شرعی جواز مہیا کیا جا رہا ہے کہ ایسی خوش فعلیاں تو صحابہ کرام کے دور میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ (نعوذ باللہ) اور پھر اپنے موقف کو مزید تقویت دینے کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں کے غُسلخانوں کی کہانیاں سنا ئی جا رہی ہیں۔ اور اس طرح جنسی بے راہروی کو درست ثابت کیا جا رہا ہے۔
میں زیادہ پرانے قصّے نہیں دوہراتا مگر ماضی قریب میں طفل کُشی کی وہ روایت جو قصور کی مقتولہ زینب سے سر زد ہونے والی واردات کا تسلسل ہے، وہ اس عہد میں تقریباً ہر روز پاکستان کے کسی نہ کسی شہر کے گلی کوچوں میں وقوع پذیر ہوتی ہے اور مُلکِ خدا داد کی سڑکیں اور گلی کوچے معصوم بچوں کے خون سے داغدار ہوتے رہتے ہیں۔ دو دن پہلے ایک ماں کے آشنا نے اس کے دو بچوں کو اس لیے نہر میں ڈبو دیا کہ انہوں نے اپنے قاتل کو ماں سے ملتے دیکھ لیا تھا۔ اور پھر ایک ماں اپنے بچوں کو موت کی نیند سلاتی نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ یہ سن اور پڑھ کر کہتے ہیں کہ ایسا تو دنیا میں ہر جگہ ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ جس مدینے کی ریاست کے دعویدار ہیں اُس کی سبکی ہو رہی ہے۔ یہ استدلال کہ ایسے جرائم دنیا میں ہرجگہ ہوتے ہیں، ہمارے یہاں ہورہے ہیں تو کیا ہوا، ایہ ظالمانہ اور سفاکانہ بیانیہ ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دنیا میں کسی نے قتل کیا ہے تو اس کو آپ اپنے لیے قتل کا پرمٹ سمجھ لیں ۔ ااخر بزعمِ خویش مدینے کے ان زائرین کو یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور انسانیت پاکستان کے گلی کوچوں میں ہر روز قتل ہو رہی ہے مگر نام نہاد علما اپنے کاروباری اسلام کے فروغ کے لیے برسرِ کار نظر آتے ہیں ۔
یہ وہ عہد ہے جس میں پیروں اور ملاؤں نے مذہب کو کاروبار بنا کر بڑی بڑی مذہبی جاگیریں بنا لی ہیں۔ اور نبی ﷺ کا برگزیدہ نام فروخت کر کے قارون اور راک فیلر بننے کی مہم پر رواں دواں ہیں۔ پچھلے دنوں برطانیہ میں مقیم پیروں کے اثاثوں کے بارے میں ایک رپورٹ منظرِ عام پر آئی تھی، جن میں ان مذہبی بیوپاریوں کا چہرا صاف نظر آتا تھا جو الذی جمع مالاً و عددہ (سورہ الہمزہ)کی واضح تردید ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ دوقومی نظریہ جس کی بنیاد مذہب پر ہے، وہاں کے مذہبی ادارے اتنے پیش پا افتادہ ہیں کہ وہ بہتر سالوں میں ایک اُمّت کی تربیت نہیں کر سکے۔ کیا ضرورت ہے انسانی معاشروں کو ایسے اداروں کی جو اپنی اسل ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے۔ ایک قوم کو سچ مچ کے صادق اور امین مسلمان نہیں بنا سکتے مگر المیہ یہ ہے کہ مال بنانے میں و ہ کسی کاروباری ادارے سے پیچھے نہیں رہتے۔
موجودہ پاکستان تین برس کا نہیں بہتر برس کا قصہ ہے۔ اور ان بہتر برسوں میں بھانت بھانت کی جمہورتیں اور مارشل لائیں آئیں مگر کسی حکومت نے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائیں۔کوئی دور، حکومت بھی کرپشن ، ملاوٹ ناجائز منافع خوری سے پاک نہیں رہا۔ آج ہمارے وہ سیاستدان جن کی انگلیاں کتھک ڈانس کرتی ہیں، اور سٹیج پر تقریر کے دوران باقاعدہ بھنگڑا ناچتے ہیں اور اسمبلیوں کے ایوانوں بڑکیں مارتے ہیں ، دوسروں پر کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ خود ان کے ا کاؤنٹوں میں اربوں روپے کہا ں سے آتے ہیں۔ حال ہی میں ایک شریف زادے کے بارے میں یہ کہانی سننے میں آئی کہ ان کے اکاؤنٹ میں ۵۲ ارب روپے کی رقم کہاں سے آئی تو وہ کمال بے نیازی سے بولے کہ میں امورِ سیاست میں اتنا منہمک ہوں کہ مجھے اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ میں اپنا اکاؤنٹ چیک کرتا۔ اب خدا ہی جانے اس ساری کہانی میں صداقت کتنی ہے مگر بات ٹی وی کے مونہہ سے نکل کر کوٹھوں چڑھ چکی ہے۔
پاکستان میں فوجی یا سول مارشل لائیں ہوں، بھٹو کے بعد کی پی پی کی حکومتیں ہوں یا شریف شاہی ہو، سب کی اجتماعی کارکردگی کا شہکار یہ موجودہ پاکستان ہے جو اندھیروں، گرانیوں، بے روزگاری اور خطِ غربت سے نیچے سسسکتے کروڑوں لوگوں کی اذیت گاہ ہے۔ آج کا یہ پاکستان چلے ہوئے سیاسی کارتوسوں کی نا اہلی کا مونہہ بولتا ثبوت ہے ، جن کی استعدادِ کار ٹھُس ہے۔ الا ماشا اللہ
لیکن آفرین ہے ان کی مال بنانے کی صلاحیت اور مہارت پر کہ وہ مسلسل زراندوزی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جا رہے ہیں اور وہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہر جگہ رہتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اُن کے ٹھکانے ہیں۔ ایسے میں یہ طے کرنا کہ ان لوگوں کا پاکستان سے کاروباری رشتے کے علاوہ بھی کوئی دوسرا رشتہ بھی ہے۔ یہ لوگ اپنے اللوں تللوں، عیاشیوں ، فضول خرچیوں اور جاگیروں کو عوام کا نام لے لے کر توسیع دیتے چلے جا رہے ہیں اور بے چاری قوم انا للہ و انا الیہ راجعون کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
یہ بہتر سالہ دورِ اقتدار کے وہی حکمران ہیں جن کے ہاتھوں سے گر کر پاکستان دو لخت ہوا ہے۔ اور اب اصل سوال یہ ہے کہ اس ساری مصیبت سے چھٹکارے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واحد حل ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے فرد کی تبدیلی۔ ایک نئے پاکستانی کا جنم۔ یعنی جب تک فرد نہیں بدلے گا، نیا پاکستانی جنم نہیں لے گا تب تک یہ قوم اپنے اشکوں کے قلزم میں غوطے کھاتی رہے گی اور جھوٹے دلاسے دینے والے جعلی لیڈر ، ملا اور ادارے توبہ کی آگ سے گزر کر ایک نئی صورت میں منظم نہیں ہوں گے ، تب تک تبدیلی ایک خواب ہی رہے گی۔ ایک بے تعبیر خواب:
زمیں کا نام بدل آسمان کا نام بدل
یہ لفظیات پرانی ہیں اب کلام بدل
نئے زمانے میں اک میکدہ جدید سا ہو
یہ نظریاتی شرابیں بدل کے جام بدل
خُدا کو ان کی ضرورت نہیں رہی مسعود
تو مرے مُلک کے لیڈر بدل، عوام بدل