دہشت گردی کی ’بین الاقوامی اسکیم‘ کا انکشاف اور حکومت کی لفظی چاند ماری

وزیر  داخلہ شیخ رشید احمد  نے ایک ٹی وی انٹرویو میں  پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ’بین الاقوامی اسکیم‘ کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا  کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی  منظم اور مبسوط کاروائیوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ لاہور کے دھماکے میں بھارت کا تعلق ثابت ہوگیا  ہے اور  کراچی سے ایک ’خطرناک‘ گروہ پکڑا گیا ہے جو ملک میں تشدد اور قتل و غارتگری  کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ انہوں نے بھارت کے پاکستان دشمن منصوبوں کے بارے میں غلط فہمی ختم کرنے اور چوکنا رہنے  کا مشورہ دیا ۔

ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وفاقی وزیر داخلہ  کے اس انتباہ کا اصل مقصد یہ بتانا تھا کہ ان کی حکومت اور ایجنسیاں اب پہلے کے مقابلے میں چوکس و ہوشیار ہیں اور دشمن کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ہراس پھیلانے اور خوفزدہ کرنے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، اس کے ملکی خارجہ و سلامتی کی  صورت حال پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔  اسی انٹرویو میں شیخ رشید احمد نے اپوزیشن کو ناکام  وناکارہ قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا  بھی ضروری سمجھا کہ ملکی سیکورٹی کے حوالے سے  اپوزیشن پارٹیوں کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ ساری اپوزیشن کچھ ہی دیر میں عمران خان حکومت کے تلوے چاٹتی دکھائی دے گی۔ وزیر داخلہ   کا یہ بیان   پارلیمانی لیڈروں سے فوجی قیادت  کی ملاقات و بریفنگ اور اس اپیل کے بعد سامنے آیا ہے کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر وسیع تر قومی ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران ہونے والی اس بریفنگ میں وزیر اعظم عمران خان شریک نہیں ہوئے تھے لیکن آئی ایس آئی کے  ڈائیریکٹر جنرل  لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سیکورٹی صورت حال کی تفصیلات  فراہم کی تھیں جبکہ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سوالوں کے جواب دیے تھے۔  اس بریفنگ کے بارے میں کوئی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اپوزیشن لیڈروں نے  عمومی طور سے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے  اور یہ کہتے ہوئے تفصیلات بتانے سے گریز کیا کہ  یہ اجلاس ’ان کیمرا‘ تھا اور وہاں کی جانے والی باتیں عام نہیں کی جاسکتیں۔ اگرچہ جن موضوعات پر جو باتیں کی گئی ہیں، ان کے بارے میں پاکستانی عوام کو عام طور سے معلومات حاصل ہیں اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں عمومی تشویش اور پریشانی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

اسی پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان کی اس اہم  بریفنگ  سے  غیر حاضری کو نوٹس کیا گیا۔ کیوں کہ ایسی ملاقات میں خواہ کوئی نئی اور چونکا دینے والی بات نہ بھی سامنے آئے لیکن جس قومی یک جہتی کی ضرورت پر  سیکورٹی اداروں کی طرف سے  زور دیا جارہا ہے ،    حکومتی اور اپوزیشن لیڈر مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے  ہی   اس کا کوئی راستہ متعین کرسکتے ہیں۔    لہذا ایک طرف ملکی فوج قومی یک جہتی کی بات کررہی ہے  تو دوسری  طرف  ملک کا وزیر اعظم ایسے اجلاس سے ہی  غیر حاضر تھا جہاں اس یک جہتی کا اظہار کیا جاسکتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ایک انٹرویو میں یہ وضاحت دینا پڑی کہ وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر شہباز شریف  کے الٹی میٹم کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر کو مطلع کیا تھا  کہ اگر وزیر اعظم اجلاس میں آئیں گے تو اپوزیشن اس کا بائیکاٹ کرے گی۔ وزیر اطلاعات کا دعویٰ تھا کہ اس صورت میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’آپ اس بریفنگ میں آجائیں، میں اس میں شرکت نہیں کروں گا‘۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے بعد میں  فواد چوہدری کے اس دعوے کو  مسترد کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے عمران خان کی شرکت کے بارے میں کوئی  بات کی گئی تھی۔ انہوں نے وزیر اطلاعات کو چیلنج کیا کہ  وہ اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے دستاویزی ثبوت سامنے لائیں کہ شہباز شریف نے کب اور کس طرح اسپیکر آفس  سے یہ کہا تھا کہ وہ عمران خان کی موجودگی میں اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس بحث اور تنازعہ سے قطع نظر  وزیر  اطلاعات کی طرف سے  ایک اہم اجلاس سے وزیر اعظم کی غیر حاضری کی   عذر تراشی   کم از کم یہ تو ظاہر کرتی ہے کہ وزیر اعظم بھی  موجودہ صورت حال میں اپوزیشن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے  کا اشارہ دینا چاہتے ہیں۔  فواد چوہدری کے اس بیان کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت فوج کے اس بیان سے سو فیصد اتفاق  کرتی ہے کہ قومی سلامتی  کو لاحق خطرات کی موجودہ صورت حال میں  وسیع تر قومی ہم آہنگی ضروری ہے۔

اس پس منظر میں اگر شیخ رشید کی طرف سے اپوزیشن کا تمسخر اڑانے اور قومی سلامتی  میں اس کے ہمہ قسم کردار سے انکار پر غور کیا جائے تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ حکومت  شدید پالیسی  بحران کا شکار ہے اور   حالات کی سنگینی اور  پریشان کن صورت حال کے باوجود    ملک کی دوٹوک اور واضح  داخلہ و خارجہ پالیسی کے اشارے سامنے نہیں آرہے۔  وزیر داخلہ ایک طرف پارلیمانی لیڈروں کو فوج کی بریفنگ پر رطب اللساں تھے تو دوسری  طرف اس مقصد کو ماننے  سے  گریز  کررہے  ہیں جو اس بریفنگ کا موجب تھا۔ یعنی سب سیاسی قوتوں کو آن بورڈ لیا جائے اور  ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے رائے عامہ بنانے اور پالیسی سازی میں حکومت اور اپوزیشن مل کر  کام کریں۔  

حکومتی بیانات اور   رد عمل سے  یہ سمجھنا مشکل ہے کہ  حکومت کو    قومی یک جہتی کی ضرورت و اہمیت کا  کوئی اندازہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان  نے  آج بلوچستان کے دورے کے دوران کی گئی تقریروں میں   اپوزیشن کے ساتھ سیاسی حساب برابرکرنا ضروری سمجھا۔  ان کے خیال میں بلوچستان کے مسائل اور وہاں پائی  جانے والی بے چینی  کی ساری ذمہ داری سابقہ حکومتوں اور خاص طور سے ان کی  دو پیش رو  حکومتوں کے رویہ  پر عائد ہوتی ہے۔ کسی حکومت  نے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیوں کہ ان کے خیال میں   سیاسی کامیابی کے لئے بلوچستان کے عوام کو خوش کرنا ضروری نہیں ہے۔  عمران خان  نے تقریر کا بیشتر حصہ  نواز شریف کے لندن اور آصف زرداری کے دوبئی  دوروں کی تفصیلات بتا نے پر صرف کیا اور  اپنی بلوچستان سے وابستگی  کا اعلان کیا۔  انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بلوچستان کی تقدیر بدل دے گی  کیوں  کہ وہ بجٹ مشکلات کے باوجود صوبے کے لئے سب سے بڑا مالی پیکیج لائی ہے۔ وزیر اعظم کراچی کے لئے  بھی ایسے ہی پیکیج کا  اعلان کرچکے  ہیں  جس کے بارے میں سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے وعدے کے مطابق فنڈز فراہم نہیں کئے گئے۔

عمران خان ہوں یا شیخ رشید  یا دوسرے سرکاری وزیر و نمائیندے،  جب بھی سیاسی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا جائے گا اور سنگین داخلی و علاقائی حالات کے باوجود قومی ہم آہنگی کی حقیقی ضرورت کو تسلیم کرنے سے انکار   دیکھنے میں آئے  گا تو  عوام کی پریشانی میں اضافہ ہوگا اور قومی مسائل مزید الجھتے چلے جائیں گے۔ اس وقت پاکستان  کا سب سے بڑا چیلنج افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال  ہے۔ وہاں  متحارب گروہوں میں خانہ جنگی شروع ہونے سے ایک طرف  پناہ گزینوں کا  نیا ریلا  پاکستان کا رخ کرسکتا  ہے تو دوسری  طرف  وہاں  سے  متعدد پاکستان دشمن عناصر  ملک میں تخریبی کارروائیوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔  اس موقع پر پاکستان کی  واضح اور شفاف حکمت عملی  سے  ہی  پاکستانی عوام  مطمئن ہوسکتے ہیں  اور  خطے کے علاوہ عالمی طاقتوں کو بھی پاکستان کی نیک نیتی کا یقین دلایا جاسکتا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران  پاکستان کو سیاسی طور  نظر  انداز کیا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ غور فکر کی بجائے ، وزیر اعظم اور ان کے معاونین نے   امریکہ کو چیلنج کرنے اور  اپنی خود مختاری کے جذباتی دعوے کرنا ضروری سمجھا ہے۔ حالانکہ کسی ملک کی قیادت  عملی اقدامات سے ہی دوسرے ملکوں کو یہ باور کرواتی ہے کہ وہ اپنے بیان کئے گئے مقاصد میں سنجیدہ ہے۔ پاکستانی حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہے۔

افغانستان  میں  متفقہ حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے اور افغان عوام کو سیاسی عمل  کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دینے  کے باوجود پاکستان کسی طرح اپنے ان دعوؤں کا عملی ثبوت فراہم  نہیں کررہا۔  ملک کے وزیر خارجہ تسلسل سے افغان حکومت  پر حملہ آور رہتے  ہیں اور  بین الافغان مذاکرات پراسرار طریقے سے معطل ہیں۔  وزیر اعظم اس  کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ اب پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ نہیں ہے۔  ستم ظریفی یہ ہے کوئی ملک  اس  دعوے کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتا۔  اسی طرح افغانستان کے بارے میں  کوئی سنجیدہ طریقہ  اختیار کرنے   کی بجائے  پہلے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے  گرے لسٹ سے نام نہ نکالنے کے سوال پر سیاست کی گئی اور اب لاہور دھماکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کا سراغ لگا کر اس پر عوام کو جوش دلانے اور  بھارتی حکومت کو للکارنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔ گزشتہ کئی ماہ سے  امریکہ کو اڈے نہ دینے کے معاملہ کو اچھالا گیا اور  وزیر اعظم نے  یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کی امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان چین کے ساتھ تعلقات  کو کمزور نہیں ہونے دے گا۔  ایسے بیانات کے بعد  میڈیا میں موجود سیانے   یہ اعلان کرنا شروع کردیتے  ہیں کہ پاکستان امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہے۔

اب ملک کا وزیر  داخلہ   دہشت گردی کی کسی عالمی اسکیم کا انکشاف کررہا ہے۔  یعنی اس کے نزدیک بھارت  کو پاکستان کے  خلاف تخریب کاری کی   منصوبہ بندی میں  دوسرے ملکوں کی اعانت  حاصل ہے۔ یا تو شیخ رشید اس بین الاقوامی سازش کی تفصیلات سامنے لاتے یا حکومت کو یہ اندازہ ہونا چاہئے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات  تشدد و دہشت گردی کے ایک واقعہ سے کئی گنا  زیادہ ملکی مفاد کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔   خارجہ امور کے متعدد ماہر حکومت کو یہ باور کروا چکے ہیں کہ سفارت کاری میں الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔    ملکی خارجہ پالیسی کے   بارے میں  ہوشمندی سے   پیغام رسانی اہم  ہے۔ لیکن   عمران خان کی حکومت  اس مشورہ کوسننے پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ الفاظ کے گولوں سے ہر دشمن کو زیر کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ داخلی محاذ پر خود ساختہ کامیابی کے بعد اب عالمی ’دشمنوں‘ کا صفایا کرنے کا عزم ظاہر کیا جارہا ہے۔