اتنی قربانیوں اور جدوجہد کے بعد پاگل نہیں کہ ڈیل کرلیں: مریم نواز

  • منگل 06 / جولائی / 2021
  • 3830

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اتنی قربانیاں دینے اور جدوجہد کے بعد کیا ہم پاگل ہیں کہ ان ہی لوگوں سے ڈیل کرلیں گے جن کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں عدم شرکت کے بارے میں کہنا تھا کہ اس میں میری اور جماعت کی نمائندگی ہمارے صدر شہباز شریف نے کی جہاں وہ موجود ہوتے ہیں وہاں ہماری ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ قیادت نے انہیں آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کی ذمہ داری دی ہے جس کی تیاریوں میں وہ مصروف تھیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلوچستان کے شرپسندوں سے بات چیت کے عندیے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ کو کوئٹہ کی ہزارہ برادری کے پاس جانا چاہیے تھا، آپ کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے بلوچستان نزدیک آنے کے بجائے مزید دور جائے گا۔  ان کی شکایات دور کر کے انہیں پاکستان سے جوڑنا چاہیے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے استعفوں اور لانگ مارچ نہ ہونے اور بجٹ اجلاس میں عدم شرکت کے پیچھے ڈیل سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ڈیل کیوں اور کس کے ساتھ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن سب سے مضبوط ہے اور اگر انتخابات آزادانہ اور شفاف ہوئے تو بلا شک و شبہ ہم بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔ لیکن عوام کو نظام پر اعتماد نہیں اور چونکہ دھاندلی ہوتی آئی ہے اس لیے وہ تحفظات کا شکار ہیں اس کے باوجود اس بات میں  کوئی 2 رائے نہیں کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں سب سے مضبوط جماعت ہے۔

افغانستان سے متعلق پالیسی کے بارے میں سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ آپ کو پہلے اپنے گھر کو دیکھنا اور اسے ٹھیک کرنا چاہیے۔ خارجہ پالیسی، سیاسی ساکھ سے منسلک نہیں ہونی چاہیے وہ آپ کی ذاتی نہیں بلکہ قومی پالیسی ہے اور اس پر پورے پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کمزور ہیں تو مؤقف کچھ اور ہو اور مضبوط ہیں تو کچھ اور ہو۔  قوم سے سچ بولنا چاہیے، قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکنا چاہیے۔

انتخابی دھاندلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم صرف الزامات نہیں لگارہے بلکہ اس کے پسِ پردہ بہت بڑے بڑے ثبوت ہیں۔  ڈسکہ الیکشن اس کی مثال ہے کہ جب الیکشن کمیشن کے عملے کو اغوا کرلیا گیا تھا، پھر بھی ہار گئے اور اگر آزاد کشمیر میں بھی یہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے بہت اہم مقاصد حاصل کیے ہیں، پی ڈی ایم عوام کو یہ بآور کروانے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ اس سے زیادہ نالائق، نااہل اور عوام دشمن حکومت پاکستان کے 73 سالوں میں نہیں آئی۔ پی ڈیم کچھ کرے نہ کرے، لیکن ملک میں جس قدر مہنگائی ہے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، گیس کی بندش کی وجہ سے صنعتوں کا پہیہ رک گیا ہے، اس سے قوم کے سامنے ان کی ساری حقیقت کھل کر آگئی ہے۔

اسرائیل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے کیوں کہ بہت سارے خبر رساں ادارے اس بات کو رپورٹ کررہے ہیں جس کی تردید نہیں کی جارہی اور اگر ایسا ہے تو قوم کو بتائیں، یہ آپ کا ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔

حکومت کے خاتمے سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ اللہ تعالی کو معلوم ہے لیکن یہ حکومت جب جائے گی تو دوبارہ نہیں آئے گی۔

صحافی ندیم ملک کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے نوٹس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایف آئی اے کا نوٹس ان لوگوں کو جانا چاہیے تھا جنہوں نے ارشد ملک کو بلیک میل کیا، جو ایشو سامنے لانے والے افراد انہیں نوٹس نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے یہ تحقیقات کی جائیں کہ کس طرح ایک جج کو ان کی پرانی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا اور نواز شریف کو جھوٹی سزا دلانے کی کوشش کی گئی۔