ایک ماہ میں امن کیلئے تحریری منصوبہ پیش کرسکتے ہیں: طالبان

  • منگل 06 / جولائی / 2021
  • 5410

طالبان کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی روانگی سے بڑے علاقائی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ تک افغان حکومت کو امن کے لیے تحریری منصوبہ پیش کرسکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے بگرام بیس خالی کرنے کے بعد طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار پڑوسی ملک تاجکستان فرار ہوگئے۔ امریکا نے افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں تک جنگ کے بعد 11 ستمبر تک اپنی تمام افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

نئے اضلاع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان کی مہم میں اضافہ ہؤا ہے۔ دوسری طرف طالبان رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رائٹرز کو بتایا کہ ’آنے والے دنوں میں امن مذاکرات اور امن عمل میں تیزی لائی جائے گی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوں گے۔ فطری طور پر یہ امن منصوبوں کے بارے میں ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اس مرحلے کو پہنچنے میں ایک مہینہ لگے گا جہاں دونوں فریقین اپنے تحریری امن منصوبوں کو شیئر کریں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ  جنگ کے میدان میں ہمارا ہاتھ اوپر ہے لیکن ہم مذاکرات اور بات چیت میں بھی بہت سنجیدہ ہیں۔

طالبان کے نمائندے کے ریمارکس پر رائے دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ ہم فریقین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سنجیدہ مذاکرات میں مشغول ہوں تاکہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک سیاسی روڈ میپ طے کیا جاسکے جو ایک منصفانہ اور پائیدار تصفیہ کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا افغانستان میں طاقت کی بنیاد پر قائم حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔ کسی بھی افغان حکومت کے لیے قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ حکومت کو انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت دے۔

مغربی سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ طالبان  نے 100 سے زائد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ انہیں 34 صوبوں میں 200 سے زائد اضلاع کا کنٹرول حاصل ہے۔ طالبان کی پیش قدمی کے بعد ایک ہزار سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکار شمالی سرحد پر تاجکستان میں داخل ہوگئے جبکہ درجنوں اہلکاروں کو طالبان نے پکڑ لیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کی نگرانی کرنے والے سفارت کار بار بار ہمسایہ ملک پاکستان کی مدد طلب کرتے ہیں تاکہ وہ طالبان رہنماؤں کو تحریری امن منصوبے کی پیش کش پر قائل کرسکیں۔ افغانستان کی وزارت برائے امن امور کی ترجمان نازیہ انوری نے اس بات کی تصدیق کی کہ انٹرا افغان مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ طالبان ایک ماہ میں ہمیں امن منصوبے کی تحریری دستاویز فراہم کریں گے تاہم مثبت رہنا بہتر ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ وہ منصوبہ پیش کریں گے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔