مسعود اشعر کی اجلی شخصیت اور یوم سیاہ

پانچ جولائی جمہوریت پسندوں کے لیے سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ وہ دن تھا جب 1977 ء میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کی حکومت کا خاتمہ کیاتھااورا س کے بعدجمہوریت کا نام لینا بھی جرم قراردے دیاگیا۔پھر صحافت پر پابندیوں کے بدترین دور کا آغاز ہوا۔صحافیوں کو گرفتارکیاگیا۔انہیں کوڑے مارے گئے اور انہیں ملازمتوں سے برطرف کیاگیایہی وہ دورتھا جب مسعود اشعر بھی جنرل ضیاء الحق کے عتاب کاشکارہوئے۔وہی ضیاء الحق جو ان کے ملتان میں قیام کے دوران دن بھر ان کے دفتر میں آکر بیٹھے رہتے تھے۔جو ان کے دوستوں میں شمارہوتے تھے۔اور ملتان میں امروز کے ایڈیٹر کی حیثیت سے مسعود اشعر صاحب سے بہت سی سہولتیں بھی حاصل کرتے تھے۔”فلاں تقریب کے لیے مولوی کی ضرورت ہے فوراً بھجوادیں۔۔۔ فلاں تقریب کی کوریج کے لیے فوٹو گرافربھیج دیں۔۔۔ اور میرا فلاں مسئلہ حل کروادیں۔۔۔“۔ضیاء الحق مسعود اشعر صاحب کو اس قسم کے فون کرتے رہتے تھے۔یہ ضیاء الحق کا وہ زمانہ تھا جب وہ کرنل کی حیثیت سے ملتان میں تعینات تھے۔بعد کے دنوں میں وہ یہیں کورکمانڈر بنے اور پھرآرمی چیف کے لیے بھٹو صاحب کی ”مردم شناس“ نظر ضیاء الحق پر پڑگئی۔مسعود اشعر ایک وضع دار انسان تھے۔ ضیاء الحق نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انتہائی افسوسنا ک تھا لیکن اشعر صاحب کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔ان کا احتجاج بہت منفردتھا کہ اس اجلی شخصیت نے اس دنیا سے رخصتی کے لیے اسی یوم سیاہ کا انتخاب کیاجو ضیا آمریت کا استعارہ بن چکا ہے۔
مسعود اشعر صاحب کی لاہور اور ملتان کے ساتھ یکساں وابستگی تھی۔ انہوں نے امروز ملتان کے اقامتی ایڈیٹر کی حیثیت سے یہاں 19برس گزارے۔وہ 1958 ء میں ملتان آئے یہ ایوب آمریت کا زمانہ تھا۔ملتان اس زمانے میں ایک قدامت پسند شہر تھا۔مسعود اشعر نے یہاں ترقی پسند رویوں کوفروغ دیا۔ وہ روشن خیالی کے علمبردارتھے اورانہوں نے ملتان میں اسی سوچ کوپروان چڑھایا۔ملتان میں اس زمانے میں ڈاکٹر انوار احمد، اصغر ندیم سید،ڈاکٹر صلاح الدین حیدر سمیت بہت سے نوجوان طالب علم کی حیثیت سے اپنے ادبی سفر کاآغاز کررہے تھے۔اسی طرح صحافت کے شعبے میں رشید ارشد سلیمی، ولی محمد واجد، مسیح اللہ جام پوری،مظہر عارف، نوشابہ نرگس جیسی شخصیات اپنی صلاحیتوں کااظہارکررہی تھیں۔مسعود اشعر نے ان سب کو آگے بڑھنے کاحوصلہ دیا۔آج یہ سب نام دنیا بھر میں ملتان کی پہچان ہیں۔مسعود اشعر صاحب ملتان پریس کلب کے بانی صدرتھے اور آج جس جگہ ملتان پریس کلب قائم ہے یہ جگہ بھی ان کی کوششوں سے ہی ملتان کے صحافیوں کوملی اور پھر اسی جگہ پر ملتان پریس کلب کی پہلی عمارت تعمیر ہوئی۔ملتان کے ساتھ یہی وہ طویل وابستگی ہے جس کے نتیجے میں وہ عمربھر ملتان اور اہل ملتان سے بے پناہ محبت کرتے رہے۔یہ محبت ان کے کالموں میں بھی جھلکتی ہے اور افسانوں سے بھی۔


1999ء میں ملتان سے ایک قافلہ چولستان کے سفر پر گیااس قافلے میں سینئر صحافی شکیل انجم،سیاسی رہنماء مناشیخ، ملک مونی کمبوہ،ملک خلیل اللہ لابر، مرتضی کھراورملک فاروق کھرمرحوم شامل تھے۔اس زمانے میں چولستان میں شدید قحط سالی تھی۔یہ قافلہ چولستان میں بھٹک گیااورپیاس سے سب کی حالت غیر ہوگئی۔بستی کھیر سر کے قریب ملک خلیل اللہ لابر بھوک اورپیاس سے دم توڑگئے جبکہ مناشیخ اورمرتضی کھر کی حالت نازک تھی۔شکیل انجم بناتے ہیں کہ اگر ریسکیو ٹیمیں مزید کچھ دیر نہ آتیں تو وہ دونوں بھی دم توڑ جاتے۔یہ ایسا المناک واقعہ تھا جس نے پورے خطے اوراس خطے سے محبت کرنے والوں کو آزردہ کردیا۔مسعوداشعر بھلا یہ واقعہ کیسے نظرانداز کرسکتے تھے۔انہوں نے ”پیاسی دھرتی پر آخری سُر“ کے نام سے اسی واقعہ کو اپنے افسانے کا موضوع بنادیا۔
مسعود اشعر ملتان کے ساتھ اپنے رشتے کو اٹوٹ قراردیتے تھے اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ ان کے والد کی قبر ملتان میں ہے۔یہ 1983 ء کا سال تھا، ضیاء آمریت کا سورج نصف النہار پر تھا اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ جمہوریت کا نام لینا بھی اس زمانے میں جرم سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں مسعود اشعر سمیت جمہوریت پسند دانش وروں اور صحافیوں نے ایک ایسی قرارداد پر دستخط کر دیے جس میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دستخط کرنے والے دیگر قلم کاروں میں منو بھائی، شفقت تنویر مرزا اور اظہر جاوید شامل تھے۔ سزا یہ ملی کہ سب کو ملازمتوں سے سبک دوش کر دیا گیا۔ ضیا آمریت میں جمہوریت کا تحریری مطالبہ بھی نا قابلِ معافی جرم ہوا کرتا تھا۔میں نے ان دنوں کارزار صحافت میں ابھی قدم ہی رکھا تھا۔ان ادیبوں اورشاعروں کی برطرفی کے خلاف روزنامہ سنگ میل میں پانچ اکتوبر 1983ء کومیرا کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا ”بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی“۔اس کالم میں میں نے لکھا تھا۔

اظہر جاوید اورمسعود اشعر کو جس جرم کی پاداش میں برطرف کیاگیا وہ سبھی جانتے ہیں۔ انہوں نے صرف ایک ایسی قرارداد پردستخط کیے تھے جونیشنل پریس ٹرسٹ کی پالیسی کے خلاف تھی۔انہوں نے اپنے دل کی بات سب کے سامنے کہہ دی تھی۔ سچ بولا تھا اور منافقت سے کام نہیں لیاتھاورنہ تو ان سے بھی زیادہ ترقی پسند اور حکومت کے کٹرمخالف اسی ادارے میں ملازم ہیں مگر صرف اپنے ضمیر کومردہ کیے بیٹھے ہیں۔اپنے احساسات کو کچل کر کام کررہے ہیں۔ افسوس صرف یہ ہے کہ اظہر جاوید اور مسعود اشعر کی برطرفی پر کسی ادیب یا صحافی کی جانب سے احتجاج نہیں ہوا۔ شاید ایسی باتیں اب ہمارے مزاج کاحصہ بن چکی ہیں اور ہم چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہمیں اپنی فکر ہوتی ہے کہ اگر ہم نے ان قلم کاروں کی برطرفی پر احتجاج کیا تو کل کو ہماری بھی برطرفی یا گرفتاری ہوجائے گی اور پھر کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

شاید اس سناٹے میں یہ واحد کالم تھا جس میں ان برطرفیوں پر احتجاج کیا گیا تھا۔ملتان سے شائع ہونیوالے اس کالم کی آواز لاہور میں اظہر جاوید اورمسعود اشعرصاحب تک بھی پہنچ گئی۔ان کیلئے یہ کالم بہت حیران کن تھا۔پھر مجھے اظہر جاوید صاحب کا ایک خط موصول ہوا۔جس میں انہوں نے ایک طرف تو میرا حوصلہ بڑھایا مجھے حق گوئی پر داد دی اور دوسری جانب مجھے یہ تلقین بھی کی کہ کیریئر کے آغاز میں مجھے احتیاط سے بھی کام لینا چاہیے۔مسعود اشعر صاحب کے ساتھ میرے تعارف کی بنیاد وہی کالم بنا۔ اس دوران میں لاہور بھی گیا لیکن ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔
پھر ایک طویل وقفہ ہے یہاں تک کہ 17اگست 1988ء کو ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں کام آگئے۔مسعود اشعر اور اظہرجاویداس دوران دوبارہ امروز سے منسلک ہوگئے اورپھر میں نے ملتان واپس آکر 1990 کے عشرے میں روزنامہ امروز کے لیے ”ملتانِ ما“کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کر دیا۔ مسعود اشعر صاحب اخبار کے ایڈیٹر اور اظہر جاوید صاحب ادبی صفحے کے انچارج تھے۔ملتان کے ادیب میری ”چاند ماری “سے بہت تنگ تھے۔۔سردار غلام عباس مرحوم نے پہلے تو رشید قیصرانی کے ہمراہ لاہور جاکر مسعود اشعر صاحب سے ملاقات کی اورپھرانہیں بذریعہ خط یاددلایا کہ نعیم چوہدری صاحب کی رہائش گاہ پر آپ سے عرش صدیقی،ڈاکٹر طاہر تونسوی، عاصی کرنالی، افسرساجد اور ڈاکٹرانوار احمد نے مطالبہ کیاتھا کہ امروز کو رضی کے کالموں سے نجات دلائی جائے۔ لیکن آپ نے یہ مطالبہ پورا نہیں کیا۔آزادی اظہار کے علمبردار مسعود اشعر بھلا ایسا کوئی مطالبہ کیسے پورا کرسکتے تھے۔26اپریل 1990ء کو انہوں نے یہ خط امروز میں شائع کردیا۔پھر کیا ہوا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)