دلیپ کمار:نسلوں کا ہیرو
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 07 / جولائی / 2021
- 16880
11دسمبر 1922کو پشاور کے قصہ خوانی بازار سے ملحق محلہ خداداد کی ڈوما گلی میں جنم لینے والا بچہ محمد یوسف خاں، قدرت کا انمول شاہکار، جو اپنی فنی صلاحیتوں، سچی لگن اور محنت سے انڈین فلم انڈسٹری کا آفتاب بن کر جگمگایا، ٹریجیڈی کنگ دلیپ کمار کی حیثیت سے نسلوں کا ہیرو کہلایا۔
اس نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا سے منوایا۔ حکومت ہند نے انہیں اپنے سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا تو حکومت پاکستان نے اپنا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ ان کی نذر کیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس آفتاب فن کی روشنی میں تمام تر ایوارڈز کی چمک ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ شاید دلیپ کمار کی زندگی کا سب سے بڑا ایوارڈ کروڑوں انسانوں کی ان کے ساتھ وہ والہانہ محبت ہے جو کئی نسلوں پر محیط ہے۔ جو مذہبی، نسلی، لسانی یا جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے ۔
درویش نے 1988 میں جب وہ پاکستان تشریف لائے تھے ان پر ایک مضمون لکھا تھا جو اس وقت ایک ادبی میگزین میں شائع ہوا ’’دلیپ کمار! عظمت کا شاہ بلوط‘‘ اس کے جو الفاظ یاد ہیں ان میں ایک بات یہ تھی: ’ لوگ کہتے ہیں کہ دلیپ کمار بہت بڑا اداکار ہے، میں کہتا ہوں جھوٹ ، اداکار بہت چھوٹا ہے، لفظ اداکار اتنا چھوٹا ہے کہ دلیپ کمار اس میں سما ہی نہیں سکتا۔ آپ اسے سماجی مصلح کہئے جو نسلوں پر اثرانداز ہوا جس نے دکھی انسانوں کے دلوں پر مرہم لگایا، زندگی سے اکتائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی امید دلائی۔ وہ جس روپ میں بھی ہو لگتا ہے پیدا ہی اس روپ میں ہوا تھا۔ ڈائیلاگز کی ڈلیوری یا الفاظ کی ادائیگی کے کیا کہنے جیسے شبنم کے قطرے یا تسبیح کے موتی گر رہے ہوں یا آبشار کی روانی ہو‘۔
چند برس قبل عصر حاضر کی پانچ محبوب ترین شخصیات یا لیجنڈز کے حوالے سے آرٹیکل تحریر کیا تھا افسوس یہ سب یکے بعد دیگرے راہی ملک عدم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ صرف ایک شخصیت باقی ہے قدرت اس کی نگہبانی فرمائے۔ بلاشبہ موت برحق ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جو پیدا ہوا ہے اسے ایک دن جانا ہے۔ دلیپ کمار سے بڑھ کر کیا مثال دی جاسکتی ہے، اس کے باوجود تمنا تھی کہ وہ سنچری پوری کر کے جائیں جو پوری نہیں ہوئی۔ بہرحال اب یہی کہہ سکتے ہیں کہ قدرت اتنی محبت بھری طویل اور خوبصورت زندگی سب کو عنایت فرماۓ۔ یہ نہیں کہوں گا کہ ان کے جانے سے انڈین فلم انڈسٹری میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ سب خلا پر ہو جاتے ہیں۔ قدرت نئے سے نئے ان گنت پھول اگاتی ہے جو اپنی مدت گزارتے ہیں اور پھر نئے پھول آ جاتے ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ آپ کو دنیا کی اس سٹیج پر کارکردگی دکھانےکا جو محدود دورانیہ ملا ہے، آپ نے اس میں کون سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں؟
دلیپ کمار نے اپنے طویل فلمی کیرئیر میں اگرچہ بہت زیادہ فلمیں نہیں کی ہیں ساٹھ سے آگے نہیں بڑھے۔ مگر جو کی ہیں ان میں پوری لگن سے اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ وہ باکس آفس میں کس قدر ہٹ ہوئی ہیں، اس سے بھی بڑھ کر اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رول میں ایسی جان ڈالی ہے جس نےاہل فن کو ہمیشہ کیلئے مسحور کئے رکھا۔ سہراب مودی، پرتھوی راجکپور اور دادا منی سے لے کر نئی نسلوں کے محبوب اداکار شاہ رخ خاں تک سب کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔ یوں وہ انڈین فلم انڈسٹری کے شہنشاہ کہلاۓ مابعد آنے والے بڑے سے بڑےفنکاروں نے فن کے اس دیوتا کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہونے میں کبھی تساہل یا بخل سے کام نہیں لیا۔ انہیں اپنا گرو اور استاد مانتے ہوئے آگے بڑھے۔ وہ نئے آنےوالے فنکاروں کے لیے ایک اکیڈمی ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔
دلیپ کمار کی فلموں کے تقابلی جائزے یا فنی محاسن کی بحث چھیڑی جائے گی تو کالم کی تنگنائی آڑے آئے گی۔ مثال کے طور پر دیوداس تین مرتبہ بنی، دلیپ صاحب کے علاوہ کے ایل سہگل اور شاہ رخ خاں نے بھی اپنی صلاحیتوں کے مظاہر دکھائے ہیں۔ درویش نے تینوں کا باریکی سے جائزہ لیا بلاشبہ زمانی وتکنیکی ارتقا سے انکار نہیں جیسے سیٹ شاہ رخ کو ملے ان کا کوئی تقابل نہیں مگر دیوداس کے رول میں جس طرح دلیپ کمار ڈھلا ہے، وہ بے مثال و لاجواب ہے ایسے جیسے دلیپ کمار کو دیکھ کر ہی یہ بنگلہ ناول لکھا گیا تھا۔
جوار بھاٹا اور جگنو سے شروع ہو جائیں مغل اعظم، دیدار ، انداز، جوگن، میلہ، ملن، سنگ دل، داغ، آن، نیا دور، ترانہ، مدہومتی رام اور شیام ، دل دیا درد لیا، مشعل ،مزدور، لیڈر، آزاد، یہودی، کوہ نور، گنگا جمنا، مسافر، گوپی، امر، داغ، اڑن کھٹولا، داستان، ودھاتا ۔۔۔ کس کس کی بات کریں۔ ’’آدمی ‘‘ جو بطور ہیرو ان کی آخری فلم تھی، کیا بات ہے ہر فلم گویا ایک شاہکار ہے ۔
وہ فلموں میں کیسے آئے دیویکا رانی کی نظریں ان کی خوابیدہ صلاحیتوں پر کس طرح جم گئیں، ان سب کی تفصیلات تو ان کی خود نوشت میں موجود ہیں۔ درویش کو تو یہ عرض کرنا ہے کہ ایک طرف اگر وہ اپنی آرٹسٹک صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے پنڈت جواہر لعل نہرو سے لیکر عام سے عام انڈین شہری تک کے ہیرو بنے رہے تو دوسری طرف وہ ہندو مسلم منفی امتیازات کو مٹاتے ہوئے عمر بھر ایک برج کا سچا رول پوری جانفشانی کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں لبرل سیکولر انسان تھے۔ان کی ذاتی زندگی میں کچھ محرومیاں بھی آئیں مگر عامتہ الناس کے سامنے وہ خندہ پیشانی سے ملتے ہوئے ہمیشہ مسکراتے رہے ۔گویا ان کا در دولت تہذیبوں کا سنگم تھا۔ اردو ہندی ادیب ہمیشہ ان کے گن گاتے رہے اور اپنے ادبی پروگراموں کی رونق بڑھاتے رہے ۔ وہ اپنی فلم “انسانیت” اور “پیغام” کی طرح محبت اور انسان نوازی کی آواز تھے۔
سیاسی طور پر وہ شیرف آف ممبئی کے علاوہ، راجیہ سبھا میں بھی پہنچے۔ بلاتمیز مذہب و فرقہ خواص و عوام نے ان سے اتنی محبت کی جو انمول اور بے مثال ہے۔ انڈین فلم انڈسٹری میں کون ہے جس نے انہیں گلہائے عقیدت پیش نہ کئے ہوں۔ سچی بات ہے تمام تر محبتوں کے باوجود ان دنوں سوشل میڈیا پر ان کی بڑھاپے، بیماری اور کمزوری والی تصاویر دیکھ کر دل دکھتا تھا اور تمنا ہوتی تھی کہ کاش کوئی سائیرہ بانو کو سمجھائے کہ یہ سلسلہ بند کریں کیونکہ ہم انہیں اسی ہیرو کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ناچیز نے 88 میں انہیں ملنے کیلئے جو بے تابی دکھائی، وہ بھی ایک کہانی ہے اور پھر 93یا 94 میں ایک ٹریننگ کورس کے سلسلے میں پشاور یونیورسٹی قیام کا موقع ملا تو اجنبی شہر میں سب سے بڑی زیارت محلہ خدا داد کی ڈوماگلی میں اپنے ہیرو کا وہ گھر تھا جس میں اس وقت بادشاہ خان نامی صاحب رہائش پذیر تھے۔ وہاں کیسے پہنچے اور کیا باتیں ہوئیں، یہ سب تحریر کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ بہرحال دلیپ صاحب کے چاہنے والے ہم سب، کے پی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے دلیپ کمار اور راجکپور صاحبان کے گھروں کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوۓ میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
آج ہمارے لیجنڈ ہیرو دلیپ کمار ہندو جا ہسپتال سے جوہو قبرستان میں منوں مٹی تلے جا چکے ہیں۔ وہ چلے گئے اور انہیں جانا ہی تھا، ان کی کمزوری اور سانس کی بیماری جیسی اذیت دیکھی نہ جاتی تھی۔ فلموں سے تو وہ ربع صدی سے ریٹائر ہو چکے تھےاور چند برس ہوۓ عملی زندگی سے بھی۔ اب ان کی فلمی یادیں ہیں جو ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔
ان کے تمام رول آج دماغ کی سکرین پر فلم کی طرح تیزی سے چل رہے ہیں وہ اپنے انمول جاندار کرداروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ہم سب چاہنے والوں کے دل ودماغ میں وہ امر ہیں اور امر رہیں گے ۔ آج مدھو بالا پر ان کیلیے فلمائے گئے گیت کے الفاظ کس قدر اپنے لگ رہے ہیں: “جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی” اور یہ کہ:
“خدا نگہباں ہو تمہارا ہمارا سلام لے لو”