مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کی کوشش، مشتبہ شخص گرفتار
- جمعرات 08 / جولائی / 2021
- 6070
کراچی کے علاقے کورنگی میں قائم دارالعلوم کی مسجد میں ملک کے ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش رکھنے والے شخص کے پاس سے چاقو بر آمد ہونے پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔
دارالعلوم کی مسجد سے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مشتبہ شخص نے فجر کی نماز کے بعد مفتی تقی عثمانی سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر ان کے محافظ نے اس شخص کی تلاشی لی تو جیب سے چاقو برآمد ہوا۔ چاقو برآمد ہونے پر محافظوں نے مشتبہ شخص کو پکڑ کر اسے پولیس کے حوالے کردیا۔
زیر حراست مشتبہ شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گھریلو مسئلے سے متعلق بات کرنے پر مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کرنے آیا تھا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ زیر حراست مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب دارالعلوم کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مفتیٰ تقی عثمانی خیریت سے ہیں۔ واقعے کے بعد مفتی تقی عثمانی کے سامنے آنے والے آڈیو ریکارڈنگ بیان میں انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے مجھ سے علیحدگی میں بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، میں ان سے بات کرنے اٹھا ہی تھا کہ انہوں نے جیب سے چاقو نکالا، جس پر فوری طور پر ساتھیوں نے اسے پکڑ لیا۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مفتی تقی عثمانی کو ٹیلی فون کرکے مبینہ چاقو سے حملے کے متعلق پوچھا اور مفتی تقی عثمانی سے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مبینہ حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی زندگی کے لیے دعا کی۔
گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے مفتی تقی عثمانی کے زیر انتظام دارالعلوم کورنگی سے گرفتار مشتبہ شخص کے قبضہ سے چاقو برآمد ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے جامع رپورٹ پیش کرنے اور علمائے کرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ 22 مارچ 2019 کو کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر بھی مفتی تقی عثمان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کا محافظ پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔