پروگرام میں تلخ کلامی پر فردوس عاشق اعوان کو 58 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس
- ہفتہ 10 / جولائی / 2021
- 5650
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی قادرمندوخیل نے نجی ٹی وی پروگرام میں تلخ کلامی اور نوک جھونک پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں اٹھاون ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نوٹس کے متن کے مطابق ٹی وی پروگرام میں فردوس عاشق نےمنتخب نمائندے کو تھپڑمارا، غلیظ زبان استعمال کی۔ فردوس عاشق اعوان 7روز میں معافی مانگیں ،58 ارب روپے ہرجانہ بھی ادا کریں۔ لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے کلائنٹ قادر مندوخیل اپنے حلقے میں قابل احترام شخصیت ہیں۔ پروگرام میں فردوس عاشق اعوان نے قادر خان مندوخیل پر من گھڑت الزامات لگائے۔
اس نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قادرخان مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کو کرپشن کا آئینہ دِکھایا تو آپے سے باہر ہوگئیں۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان قادر مندوخیل سے تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگیں اور معافی نامہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں شائع کرایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندو خیل سے ہاتھا پائی اور تلخ کلامی کی ویڈیو لیک ہوگئی تھی۔ فردوس عاشق اعوان کا اس ویڈیو پر ردعمل میں کہنا تھا کہ جو ویڈیو لیک کی گئی ہے وہ سلیکٹو ہے اسی لیے وہ چاہتی ہیں کہ مکمل ویڈیو سامنے آئے۔
قادر خان مندوخیل کی جانب سے فردوس عاشق اعوان کے خلاف ٹی وی پروگرام کے دوران تلخ کلامی اور دھمکی آمیز گفتگو کرنے پر کراچی کے تھانے میں مقدمہ کے اندراج کی درخواست بھی دی تھی جسے مقامی عدالت نے مسترد کردیا ہے۔
ہفتہ کو عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق حملہ میں کسی کے زخمی ہونے پر ہی ایسئ درخواست دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں واقعہ پیش آیا ہے، واقعے کا مقدمہ اسی تھانے میں درج کرایا جائے۔