امریکی وزیر خارجہ کا شاہ محمود قریشی سے فون پر رابطہ
- ہفتہ 10 / جولائی / 2021
- 5380
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں عہدے داروں نے افغان امن عمل میں مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس رابطہ میں افغان صدر اشرف غنی اور چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد افغانستان میں امن عمل کے لیے پاک امریکہ تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بات چیت کی گئی۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس ٹیلی فونک رابطے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کے ساتھ بااعتماد شراکت دار کے طور پر مخلصانہ کاوشیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلا سے افغان امن عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون، علاقائی روابط کے فروغ اور علاقائی امن کے حوالے سے تعاون پر محیط، وسیع البنیاد اور طویل المدتی تعلقات کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان امریکا کے ساتھ دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔
پاکستانی ترجمان کے مطابق دونوں عہدے داروں نے امریکی مالی تعاون سے وسط ایشیا سے براستہ افغانستان پاکستان کے لیے توانائی اور رابطے کے مختلف منصوبہ جات پر بھی گفتگو کی۔ بات چیت میں اس بارے میں اتفاق کیا گیا کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے دونوں ممالک کے نکتہ نظر میں مماثلت ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام افغان قیادت اور علاقائی و عالمی متعلقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تمام متعلقین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان گروہوں پر جامع مذاکرات کے ذریعے، افغان مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکا کی جانب سے فراہم کردہ معاونت پر، امریکی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے افغان امن عمل میں بامقصد پیش رفت کے حصول کے لیے، دو طرفہ روابط اور تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے قبل جمعے کی صبح سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کے اجلاس میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'آج پوری دنیا ہمارے مؤقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یہی بات عرصہ دراز سے وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں۔'