پاکستان افغان امن عمل کا سہولت کار ہے ضامن نہیں: ترجمان پاک فوج

  • ہفتہ 10 / جولائی / 2021
  • 4710

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل کا سہولت کار ہے ضامن نہیں ہے۔

افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بندوق فیصلہ نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں سول وار ہوتی ہے تو اس کا  اثر پاکستان پرہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  افغان امن عمل کے بہت سے پہلو ہیں۔ پاکستان نے خلوص نیت سے امن عمل بڑھانے کی کوشش کی۔ امن عمل آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا، افغان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔  پاکستان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن کے لیے کوشش کرتے رہے ہیں  اور کرتے رہیں گے۔ افغانستان سے کچھ خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا نے افغان فوج کی تربیت پر بہت پیسے خرچ کیے۔ افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کریں گے یہ دیکھنا ہو گا۔ اس وقت افغان فوج کی پیشرفت خاص نہیں۔ اب تک کی خبروں کے مطابق طالبان کی پیشرفت زیادہ ہے۔ افغان فوج کی تربیت پر کھربوں خرچ کیے گئے، ان کی اپنی فضائیہ بھی موجود ہے۔  افغان فوج کی تربیت پر امریکا کی جانب سے بڑی رقم خرچ کی گئی۔ افغان فوج کی لڑنے کی اپنی گنجائش تو ہے۔ افغانستان میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2611 کلو میٹر طویل بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔  سرحد پر سکیورٹی تعینات ہے، افغانستان میں سول وار ہوتی ہے تو اس کا  اثر پاکستان پر ہو سکتا ہے، ہم نے پہلے ہی تیاری کی ہوئی ہے کیا کرنا ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکان کے پیش نظر تیاری کی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مہاجرین کے آنے کا خدشہ ہے۔ وزارت داخلہ پہلے ہی پلاننگ کر چکی ہے۔  وہ ہی اس پر مفصل بات کریں گے، ہم نے اپنی سر زمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا۔ جیسے انتظام ہم نے کیے وہ دوسری طرف سےبھی ہونے چاہیے تھے۔ سرحد پر انتظامات دوسری طرف سے ایئر ٹائٹ نہیں رکھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بندوق فیصلہ نہیں کر سکتی، افغانستان میں بندوق 20 سال میں فیصلہ نہیں کر سکی۔ افغانستان میں تمام دھڑے بھی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ امریکا نے جلد بازی میں انخلاکیا۔  سب جانتے ہیں داعش، ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان میں تشدد بڑھا تو مہاجرین کی آمد کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکی فوج کا 31اگست تک انخلا مکمل ہوجائے گا۔ ہم افغانستان میں ڈیڈلاک ختم کرانے کے لیے ایک حدتک جا سکتے ہیں۔ ہماری ایک حد ہے جوہوگا افغانستان کی اندرونی صورتحال کے تناظرمیں ہو گا۔ افغان عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیسے حکومت بنانی ہے، پاکستان کو بلاوجہ مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ  بھارت اپنے پروپیگنڈے پر کسی کی توجہ حاصل نہیں کر پا رہا۔  بھارت دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان کے مسائل کی وجہ پاکستان ہے۔ دنیا افغانستان میں پاکستان کے امن عمل کوسراہتی ہے۔ پاکستان خلوص نیت سے اپنا کام کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز امریکا کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا چاہتے تھے۔ امریکا کو ذمے داری سے انخلا کرنا چاہیے تھا۔ امریکا کا افغانستان سے انخلا کچھ جلدی ہو گیا۔ امریکی بیسزکاکوئی سوال نہیں پیدا ہوتا، امریکہ کو بیسزکی کوئی ضرورت نہیں۔