منافرت پر سیاست نہ چمکائیں
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 10 / جولائی / 2021
- 9360
قومی ریاستوں کا جدید تصور انسانی شعور کے ارتقائی سفر کا ثمر ہے جس کابڑا حاصل یہ ہے کہ امپائر قائم کرنے کا نظریہ دم تو ڑ گیا ہے۔ انسانیت کے عظیم ہیرو ابراہم لنکن کی ولولہ انگیز جدوجہد سے انسانی خرید وفروخت یا انسانی غلامی کی لعنت کا کرۂ ارضی سے خاتمہ ہوگیا ہے۔
اسی طرح قومیت کے جدید تصور نے اقوام دیگر کو غلام بنانے کی شیطانی سوچ کابھی بہت بڑی حدتک خاتمہ کردیا ہے۔اس کامیابی کوتسلیم کرنے کےباوجود قومیتی تصور میں موجود کچھ قباحتوں کی درستی یا ضرورتِ اصلاح سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کےطور پر اپنے ایک محدود ہنگامی مفاد کی خاطر وسیع تر انسانی مفادات کو بھون ڈالا جائے۔ ایسی سوچ کا بہرصورت خاتمہ ناگزیر ہے۔ آپ اپنے فرد کوضرور بچائیں مگر دوسری اقوام کے افراد کی جانوں کا احترام بھی لازم سمجھیں۔ قومیتی نظریے کی تطہیر اسی طرح ممکن ہے، جب اس میں سچائی، اخلاقی و تہذیبی بلندی، انسان نوازی یا اعلیٰ انسانی اقدار کو حاوی ہونے دیا جائے۔
کوئی امریکی ہو یا چینی شہری اس سے یہ تقاضا ہرگز نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ملک یا قوم کے موقف کو سچا ثابت کرنے پر کمربستہ رہے گا۔ حالانکہ زمینی حقائق یا انسانی تقاضے اس کے برعکس جا رہے ہوں۔ کسی بھی چینی شہری کو علانیہ اس سچائی کے اظہار کا حق ہونا چاہیے کہ چینی ریاست نظریہ جبر پر استوار ہے اور امریکی سماج آزادی اظہار کی پاسداری پرپروان چڑھا ہے۔
ہمارے جیسے گھٹن زدہ معاشروں میں امریکا پر تنقید کرنے والے امریکی نوم چومسکی کے خیالات کو خوب بیان کیا جاتا ہے لیکن امریکی سماج کے اس قابل تحسین پہلو کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کے چوراہے میں کھڑے ہو کر وہ نہ صرف حکومت بلکہ خود ریاست کے لتے لیتا ہے۔ اپنی ریاست پرتنقید کرتے ہوئے وہ توازن کی حدود کوبھی پھلانگ جاتا ہے۔ لیکن مجال ہے کوئی اس کا بال بھی بیکا کر سکے یا اسے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے۔ یہی آزاد جمہوری سسٹم کی عظمت کا کمال اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کاتقابل ذرا اپنے ریاستی سسٹم سے کریں جہاں ریاستی محکمے پر معمولی تنقید ہی اگر گراں گزر جائے تو بندہ اٹھا لیا جائے یا غائب کردیا جائے مگر بولنا نہیں کیونکہ ہم مقدس ریاست مدینہ ہیں۔
یہاں جو بھی اقتدار کا حریص ہے وہ بظاہر عوامی نعرے لگائے گا مگر عوامی اجتماعات میں کھڑےہوئے بھی بین السطور تلوے طاقتوروں کے چاٹ رہا ہوگا۔ بچگانہ و احمقانہ بے ڈھنگا زور لگایا جا رہا ہوگا کہ میں تووطن پرست اور ریاستی طاقت کا خادم ہوں جبکہ دوسرے سب ریاست دشمن ہیں وہ مودی کے یار ہیں۔ گویا مودی کا یار ہونا کوئی گھناؤنا جرم ہے اور وطن دشمنی ہے۔ ’’ہم اپنی شادیوں پر مودی کو نہیں بلائیں گے‘‘ آپ شادی ضرورکرلو، بھلے اس میں مودی کو نہ بلاؤ اور یقین رکھو وہ آپ کے بلاوا نہ بھیجنے کو قطعی مائنڈ نہیں کرے گا۔
یہاں قابل غور نقطہ یہ ہے کہ ایک طرف اس سوچ پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ بشمول بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے دوستانہ تعلقات قائم کرنا خود ہمارے اپنے قومی مفاد میں ہے، جنگیں مسائل کا حل نہیں باعث ہیں۔ پچھلی چار جنگوں میں ہم نے سوائے اپنی معاشی و قومی بربادی کے کچھ حاصل نہیں کیا۔ نانا جان نے 65 میں جو جنگ شروع کروائی تھی اس کا حاصل ان کی ذات کو جو ہوا سو ہوا ملک و قوم کو اور ہماری ابھرتی ہوئی قومی معیشت کوسوائے تباہی کے اور کئی برس پیچھے دھکیلے جانے کے کیا ملا؟۔
آج کٹھ پتلی حکومت کو طعنہ دیا جا رہا ہے کہ اس نے کشمیر کا سودا کیا یا بیچ دیا۔ ذرا غور فرمائیں اور بتائیں کہ حکومت کیا کرے؟ اگر آج یہاں پی پی یا ن لیگ کی حکومت ہوتی تو وہ کون سے تیر سرینگر یا دہلی پر مار سکتی تھی؟ جہاں طاقتوروں کے پر جل رہے ہیں وہاں کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ کشمیر پر اپنی سیاست چمکانے کے خواہاں سوچیں کہ نانا حضور فوجیوں کے بدلے کیا دے کر آئے تھے؟ کبھی شملہ معاہدے کی شقیں پڑھنے کی کوشش کریں، خود دستخط کرکے اٹھے تھے کہ کشمیر کی حیثیت بین الاقوامی نہیں دوطرفہ ہوگی۔ سچائی تو یہ ہے کہ یو این کی قراردادوں کا بالفعل خاتمہ اسی دن ہو گیا تھا۔
انڈین وزیر اعظم سے اچھے تعلقات یا دوستی اگر اتنی بری چیز ہے تو ایک انڈین وزیر اعظم کی اسلام آباد آمد پر اس کی خوشنودی کے لئے کیپٹل سٹی میں لگے کشمیر کے تمام بورڈ کس پاکستانی لیڈر نے اتار پھنکوائے تھے؟ذرا اسی لہجے میں کسی روز اس کی بھی مذمت کردیں اسے بھی راجیوگاندھی کی یاری کا طعنہ دے ڈالیں بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے فرمایا تھا اور درست فرمایا تھا کہ ہم نے انڈین پرائم منسٹر کی اس وقت مددکی تھی جب مشرقی پنجاب میں انڈیا کے ٹکڑے کرنے کی سازش کی جا رہی تھیں۔ یہ ہے اصلی یاری لہذا آپ دوسروں کو مودی کی یاری کے طعنے دینے بند فرمائیں، اتنی بڑی بڑی نہ چھوڑا کریں۔ عصر حاضر میں کٹھ پتلی بن کراقتدار کا حصول کوئی قابل فخر چیز نہیں ہے مگر اس کا اینڈ کیا ہے؟ اصل چیز اصولوں پر سٹینڈ لینا ہے عوامی حق کے لئے جبر کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔
اپنے وطن کو منافرتوں کی دلدل سے نکالنے کےلئے شعوری سربلندی کے ساتھ دشمنیوں کو دوستیوں میں بدلنا ہے۔ میاں صاحب اور محترمہ جیسے قد آور جمہوری لیڈروں نے جبر کے تھپیڑے کھانے کے بعد یہ سیکھا تھا کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو آگے لے کر جانا ہے تو پھر انڈیا دشمنی کے منحوس سائے سے باہر نکلنا ہو گا۔ وہ اس حقیقت کو پاگئے تھے کہ طاقتور انہیں کشمیری ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگا کر اور منافرت کی دلدل میں پھنسا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔
اگر کسی کو غلط فہمی ہے کہ وہ غزوۂ ہند کی جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہوئے کشمیر بزور طاقت انڈیا سے چھین لے گا تو پھر دیر کاہے کی ہے؟ کاش یہاں نوم چومسکی جیسی آزادیٔ اظہار درویش کوبھی حاصل ہو، اگر ہمیں اپنے ان مسلمان بھائیوں کا اتنا ہی درد ہے تو ذرا آگے بڑھتے ہوئے ایک نظر سنکیانگ کے مسلمانوں کی حالت زار پر بھی ڈال لیں۔ ان کے لئے ہمارے سینوں میں وہی ابال کیوں نہیں اٹھتا ہے؟ یہاں تو پھر بھی جیسی تیسی ڈیموکریسی اور آزاد سوسائٹی کی سات دہائیوں پر محیط ایک تاریخ ہے جبکہ شہد سے میٹھی دوستی سے جو چیخیں نکل رہی ہیں، ان کی گونج مغرب میں تو سنائی دے رہی ہے قریبی ہمسائیگی میں نہیں۔ بس یہی جدید قومی ریاستی سسٹم کی وہ بڑی خامی ہے، اکیسویں صدی میں، جس کی اصلاح ہونی چاہیے۔