پاکستانی خارجہ پالیسی: نعروں کی گونج میں اصول عنقا

پاکستانی خارجہ پالیسی کو وزیر اعظم عمران خان ،  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  یا مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف  کے بیانات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ان میں خودداری کی کھنک ،  نعروں کا جلال  اور جذبے کی فراوانی تو  وافر مقدار میں محسوس کی جاسکتی ہے۔  لیکن ان بیانات سے یہ اخذ کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ پاکستان  ہمسایہ ملکوں کے علاوہ دور نزدیک کی بڑی طاقتوں  سے کیسے مراسم استوار کرنا چاہتا ہے۔ اور ان تعلقات کے  لئے   مقررہ اہداف کیسے حاصل کئے جائیں گے۔

پاکستانی قیادت  کے پرزور بیانات سن کر یا پڑھ کر  یہ احساس بھی فزوں تر ہوتا ہے کہ پاکستان سے تعلقات استوار کرنا سب اہم ملکوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔  جیسے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکہ مجبور ہوکر پاکستانی شرائط پر بات چیت کے لئے آمادہ ہؤا تھا،  اسی طرح امریکہ سمیت باقی ممالک بھی پاکستانی مؤقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کیوں کہ پاکستان کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ سوچنا چاہئے کہ اس احساس سے جو تصویر بنتی وہ کس حد تک معروضی علاقائی اور عالمی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا اہم ہوگا کہ بین الملکی تعلقات میں پالیسی جذبات اور نعروں کی بجائے درپیش مسائل کے تناظر میں اختیار کی جاتی ہے اور نہایت چابک دستی سے سفارت کاری میں اپنے مؤقف کے کچھ حصوں کو منواکر کچھ مراعات دی جاتی ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب خارجہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے سیاسی مجبوریوں اور گیلری کی ضرورتوں کو بنیادی اہمیت نہ دی جائے۔ 

گزشتہ کچھ عرصہ میں خارجی امور اور سلامتی کی صورت حال کے بارے میں جو بیانات سامنے آئے ہیں،   ان سے یہ  بھی واضح ہوتا ہے کہ  پاکستان تو دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن چاہتا ہے لیکن ہمارا دیرینہ حلیف امریکہ اور ہمسایہ ممالک بھارت  و افغانستان کی طرف سے   حکمت عملی کی یک رنگی  دیکھنے میں آتی ہے۔  یا تو   یک طرفہ ڈکٹیشن  سے پاکستان کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے یا بعض سطحی مراعات کی بنیاد پر   پاکستان  سے  ایسا طریقہ اختیار کرنے کی توقع  کی جاتی ہے  جو اس کے اپنے مفادات کے برعکس ہوتا ہے۔ پاکستان اب نئی خارجہ  پالیسی کے تحت اس  رویہ کی اجازت نہیں دے سکتا۔  اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک تو  پاکستان اب جیو اکنامکس کی پالیسی اختیار کرچکا ہے اور عسکریت پسندی یا علاقائی جنگوں کو مسترد کرتا ہے۔ دوسرے پاکستان نے اب اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  وہ دوسروں کے مفاد کے لئے اپنی پالیسیاں ترتیب نہیں دے  سکتا۔

یہ بیانات اس حد تو خوش آئیند ہیں کہ پاکستان ایک خود مختار، متوازن اور  سب کے ساتھ دوستی کی  پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کررہا ہے۔ تاہم  اس پالیسی کے خد و خال غیر واضح   ہیں اور  یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ دوسرے ممالک کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے واقعی پاکستان کی حکمت عملی غرض و غایت سے بالا ہے اور  وسیع تر امن و امان، سب کی خوشحالی، تجارتی فروغ اور انسانی سہولتوں کی فراوانی  ہی پاکستان کا واحد اور بنیادی مقصد ہے۔  یا پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر خود کو پیش کرنا چاہتا ہے جو نہ تو دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور  نہ ہی کسی دوسرے ملک کو یہ اجازت دے گا کہ اس سے اس کے اپنے قومی مفادات اور ضرورتوں سے متصادم کوئی توقع کی جائے۔ خاص طور سے امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے بارے میں اگر قومی مباحث پر غور کیا جائے تو یہ اصول  پوری قوت سے نمایاں کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر بیشتر حکومتی ارکان نے  اصرار کیا  کہ   افغانستان سے  فوجی انخلا کے بعد کسی صورت امریکہ کو   فوجی اڈے نہیں دیے جائیں گے۔  ’ہرگز نہیں‘   کی اس تکرار میں البتہ امریکہ کے ساتھ  2001  میں کئے گئے ان معاہدوں کا ذکر نہیں کیا جاتا  جن کے تحت  پاکستان ، افغانستان کی نگرانی کے لئے امریکہ کو فضائی اور زمینی سہولتیں فراہم کرنے کا پابند ہے۔

اڈوں کی بحث میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے  اپنا ’انکار‘ شامل کرتے ہوئے ان  معاہدوں کا حوالہ دیا تھا لیکن ملک کی سیاسی قیادت نے کسی مرحلے پر ان معاہدوں کی موجودگی یا انہیں غیر مؤثر کرنے کے کسی اقدام کا ذکر نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتیں جو عمران خان پر ’کشمیر فروشی‘ کا الزام لگانے میں غیر ضروری  بے احتیاطی سے کام لیتی ہیں، امریکہ کے ساتھ  فوجی تعاون کے سوال پر خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب خیال کرتی ہیں۔  اب  آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل  میجر جنرل  بابر افتخار نے  ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ سچ بیان کیا ہے کہ افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ کو پاکستان میں کسی قسم کے اڈوں کی حاجت نہیں ہے۔ اسی نکتہ کو پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری  جو آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں، نے یہ کہہ کر واضح کیا تھا کہ امریکی اڈوں کی بحث بے  وجہ شروع کی گئی ہے کیوں کہ امریکہ نے پاکستان سے اڈے دینے کی  خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کے  بیان کی تردید نہیں کی ۔ اب  فوج کے ترجمان بالواسطہ طور سے اس مؤقف کی تائد کررہے ہیں۔

اس پس منظر میں قومی غیرت کی بنیاد پر پالیسیاں بنانے کا اعلان کرنے والوں کو ضرور سوچنا چاہئے کہ خارجہ پالیسی اور ملکی سلامتی کے حوالے سے بیانات میں سیاسی مفادات کی چاشنی  کس حد تک  شامل کی جاسکتی ہے۔ تاکہ سانپ بھی مرجائے  اور  لاٹھی بھی نہ  ٹوٹے والا معاملہ ہو۔  یعنی ملک و قوم کے مفاد کو نقصان پہنچائے بغیر کسی خاص صورت حال اور معاملہ سے سیاسی  فائدہ حاصل کرلیا جائے۔ امریکہ کو اڈے نہ دینے کے  سوال پر البتہ جس طرح ہمارے وزیر اعظم نے اپنا قد اونچا کرنے  کی کوشش کی ہے، سوچنا چاہئے کہ واشنگٹن میں ان بیانات کو کیسے محسوس کیا گیا ہوگا اور وہاں کے سیاسی نمائیندے پاکستانی لیڈر و حکومت کے بارے میں کس قسم کی قیاس آرائی کرتے ہوں گے۔ واشنگٹن  دنیا کی واحد سپر پاور کا دارالحکومت ہے ۔  پاکستانی رہنماؤں کو احساس ہونا چاہئے کہ   پاکستان  خود مختارانہ خارجہ پالیسی کے جیسے بھی  دعوے کرے، امریکی ایوانوں میں  خیر سگالی قائم رکھنا اس کے اپنے وسیع تر مفاد میں ہے۔ اس حوالے سے  برتی جانے والی لاپرواہی  اس کے  لئے مشکلات کا باعث ہوگی۔

 اس تناظر میں اگر  امریکہ کے علاوہ بھارت، افغانستان اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت اور اس حوالے سے خارجہ پالیسی کے بیان کردہ خدو خال پر غور کیا جائے تو   یہ تصویر  سامنے آتی ہے:

امریکہ: پاکستان امریکہ کا دیرینہ حلیف ہے۔ افغان جنگ میں اسے نیٹو ممالک کے بعد اہم ترین حلیف ملک کی حیثیت حاصل رہی ہے اور  پاکستان نے اس کی بھاری قیمت بھی وصول کی ہے۔ گو کہ وزیر اعظم عمران خان کا اب یہ مؤقف ہے کہ یہ ’قیمت یا امداد‘ اس نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے  جو پاکستان کو انسانی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا تھا۔ البتہ  یہ بات  امریکہ کی بجائے  افغان جنگ میں شراکت کا فیصلہ کرنے والی پاکستانی قیادت کو سوچنی چاہئے تھی۔  20 سال بعد اس کا الزام امریکہ کو نہیں دیا جاسکتا۔ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدل رہاہے۔ وہ اس سے ’  ڈو مور‘ کا مطالبہ سننے پر تیار نہیں ہے۔ عمران خان کے الفاظ میں پاکستان اب صرف امن میں امریکہ کا ساتھی ہوگا جنگ کا پارٹنر نہیں بنے گا۔

شاہ محمود قریشی  نے گزشتہ روز سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ  پاکستان امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں وسعت چاہتا ہے اور  مراعات کا خواہاں ہے۔ باالواسطہ طور سے امریکہ سے توقع کی جارہی  ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف  سے  معاملات طے کروانے میں  پاکستان کامعاون ہو اور پاکستانی فوج کو  دی جانے والی  ایسی متعدد مراعات بحال کرے جو ٹرمپ دور میں معطل کردی گئی تھیں۔ امریکہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔  اس کے ساتھ ہی  پاکستان،      افغانستان سے  عجلت میں فوجی  انخلا   اور چین و بھارت کے  بارے میں امریکی پالیسیوں  کا سخت ناقد ہے۔ یہ واضح کیا گیاہے کہ پاکستان کسی قیمت پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات  کمزور نہیں کرے گا۔ 

بھارت:  ہمارا ہمسایہ ملک ہے لیکن اس کے ساتھ شروع دن سے دشمنی کا رشتہ استوار  ہے جو 1965 اور 1971 کی جنگوں  کے بعد ابتر ہوچکا ہے۔ پاکستان ہمہ وقت بھارت کے ساتھ محاذ آرائی کے لئے تیار رہتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے بھارتی خطرے ہی کی  وجہ سے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے۔ اس وقت بھارت کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت  بند ہے ۔  موجودہ حالات میں کابینہ بھارت کے ساتھ کسی بھی سطح پر تجارت بحال کرنے سے انکار کرچکی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ  بھارت مقبوضہ کشمیر میں اگست 2019 میں کئے گئے اقدامات واپس لے، پاکستان کے خلاف تخریب کاری بند کی جائے اور افغانستان کو پاکستان میں تشدد و انتشار کے لئے استعمال  نہ  کیاجائے۔  پاکستان کشمیر کی آئینی حیثیت بحال ہونے تک بھارت کے ساتھ مذاکرات  سے انکار کرتا ہے۔ اس کے باوجود توقع کی جاتی ہے کہ عالمی فورمز پر بھارت پاکستان کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرے۔

افغانستان:امریکی افوج کے انخلا کے بعد  وہاں پیدا ہونے والی صورت حال پاکستان کے لئے سب سے زیادہ تشویش کا باعث  ہے۔   اس کے باوجود پاکستان افغان حکومت کی بجائے افغانستان کے مختلف فریقوں کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن عملی طور سے اس کا جھکاؤ طالبان کی طرف ہے۔ حالانکہ  پارلیمانی لیڈروں کو یکم جولائی کو  عسکری قیادت  کی بریفنگ میں اعتراف کیا گیا تھا کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان  ایک ہی ہیں۔  آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایک تازہ انٹرویو میں افغانستان کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’ اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ افغان عوام کا فیصلہ ہوگا۔ کوئی باہر سے ان پر رائے مسلط نہیں کرسکتا‘۔ یہ رائے ایک ایسے گروہ کے حوالے سے  دی جارہی ہے جو دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرتا رہا ہے۔

چین:  وزیر اعظم  کا  کہنا ہے کہ  چین کی کمیونسٹ پارٹی نے دنیا کو متبادل نظام حکومت فراہم کیا ہے جو نہ صرف یہ کہ منصفانہ ہے، احتساب  کی بنیاد پر استوار  ہے بلکہ  فعال بھی  ہے جس میں طویل المدت منصوبہ بندی  یا فوری  فیصلے نافذ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ وہ صدر شی جن پنگ کو عالمی امن و خوشحالی کی سب سے بڑی امید اور چین کو وسیع تر عالمی تعاون کا ضامن سمجھتے ہیں۔   عمران خان  مغربی ممالک کے دوہرے معیار اور اسلاموفوبیا کو مسترد کرتے ہیں لیکن چین  میں مسلمان اقلیت کے ساتھ  ہونے والے سلوک کو یہ کہہ کر تسلیم کرتے ہیں کہ ہم چین کے سرکاری مؤقف کو مانتے ہیں۔ پاکستان کا  کہنا ہے کہ سی پیک کے ذریعے چین اس کی معاشی بحالی کا ضامن بنا ہے اور ان تعلقات پر کسی صورت نظر ثانی نہیں ہوسکتی۔

ان چار اہم ممالک کے ساتھ  تعلقات کے حوالے سے پاکستانی حکمت عملی کے اس خاکہ سے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اس میں نہ اصول ہے اور نہ  ہی توازن۔ پاکستان چینی سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کا محتاج ہے اور اس کی ہر قیمت ادا کرنے پر راضی ہے۔ یہی طریقہ پہلے امریکہ کے بارے میں اختیار کیا گیا تھا۔  اس تناظر میں یہ پالیسی ماضی کی غلطیوں  ہی کا عکس ہے۔  امریکی اثر و رسوخ سے خود مختاری کے دعوؤں کے باوجود امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔  خود مختاری  و توازن پر مبنی پالیسی کے دعوؤں کے بین السطور  غیر محسوس خوف اور سراسیمگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان  اب  امریکہ کی بجائے چین کا دم  بھرتا ہے  لیکن اس بات پر پریشان بھی ہے کہ   اس علاقے میں پاکستان کی بجائے  اب بھارت امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے۔  پاکستانی قیادت کو طے کرنا ہے کہ وہ کس کشتی کے سوار ہیں۔ دنیا میں  ممالک کے دو گروہ ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کی تیاری کررہے ہیں۔ ایک کی قیادت امریکہ ، دوسرے کی چین کے پاس ہے۔   اس صورت میں پاکستان کب تک ’غیر جانبداری ‘کے   نام پر دونوں گروہوں کا چہیتا رہ سکتا ہے؟