افغانستان کی پیچیدہ صورتحال
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 12 / جولائی / 2021
- 8000
افغانستان کی صورتحال پیچیدہ اور مشکل بنتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ، اس کی اتحادی افواج، افغان حکومت اور افغان طالبان کسی بھی بڑے سیاسی تصفیہ پر متفق نظر نہیں آرہے۔ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ اور داخلی امن کی ضمانت امریکہ نہیں دے گا بلکہ یہ فیصلہ افغان حکومت اور طالبان کو مل کر کرنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ فیصلہ ان دوفریقوں نے مل کر ہی کرنا ہے تو پھر کئی دہائیوں تک امریکہ افغانستان میں کیوں رہا اور کیوں وہ یہاں طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ خود افغان حکومت ہے جو بنیادی طو رپر امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب نئی صورتحال میں افغان حکومت کا بڑا بھروسہ امریکہ کے مقابلے میں پاکستان پر بڑھ گیا ہے۔اس کے بقول پاکستان افغان طالبان کے خلاف ہماری مدد کرے اور طالبان کو مجبور کرے کہ وہ مزاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
ایک طرف افغان حکومت پاکستان سے سیاسی مدد کی طلب گار ہے تو دوسری طرف پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے وہ مسلسل الزام تراشی ن تعلقات بہتر بنانے کی بجائے بگاڑ رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس اہم موڑ پر افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا بحران ہے۔ماضی میں امریکہ نے افغانستان میں کسی بڑے سیاسی تصفیہ کے بغیر جانے کی جو غلطی کی تھی اس کا امریکہ سمیت ان کے تھنک ٹینک ہمیشہ اعتراف کرتے اور دعوی کرتے کہ مستقبل میں یا آج امریکہ یہ غلطی کسی صورت نہیں کرے گا۔ لیکن آج امریکہ پھر وہی غلطی دہرا رہا ہے کہ فوجیوں کے انخلا سے قبل بغیر کسی سیاسی تصفیہ کے جانا نہ صر ف افغانستان بلکہ پاکستان سمیت پورے خطہ کو عدم استحکام کرنے کے مترادف ہے۔یہ امریکہ کی سیاسی، انتظامی اور عسکری ناکامی ہے یا وہ یہ سب کچھ اس ملک میں ایک بڑی حکمت عملی ”خطہ میں عدم استحکام کو برقرار رکھنا“کے طور پر کررہا ہے۔
بدقسمتی سے اس اہم او رنازک مرحلہ پر جو اعتماد سازی امریکہ، افغان حکومت، طالبان او رپاکستان کے درمیان ہونی چاہیے تھی اس کا ہر سطح پر فقدان ہے۔ پاکستان نے ایک قدم آگے بڑھ کر افغان امن کی سیاسی میز کو سجایا اور یہ میز پاکستان کی حمایت او رمدد کے بغیر ممکن نہیں تھی، اسے بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔افغان حکومت میں ایسے شدت پسند لوگ ہیں جو پاکستان کی حمایت کو یقینی بنانے کی بجائے اس بیانیہ کو تقویت دے رہے ہیں کہ طالبان نے جو نئی سیاسی طاقت حاصل کی ہے اس کی بڑی وجہ خود پاکستان ہے جو ا افغان حکومت کے مقابلے میں افغان طالبان کے پیچھے کھڑا ہے۔جبکہ پاکستان پانچ بنیادی باتیں پیش کرچکا ہے۔ اول افغانستان کا امن پاکستان کی بنیادی ترجیح ہے۔دوئم افغانستان کا حل طاقت سے ممکن نہیں ہے۔سوئم افغانستان کی داخلی صورتحال کے بگاڑ اور افغان امن کو خراب کرنے میں بھارت اہم فریق ہے جو حالات کو درست کرنے کی بجائے بگاڑ کی پالیسی کا حصہ ہے اور افغان حکومت میں کئی کردار بھارت کے ایجنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں۔چہارم امریکی یا اتحادی افواج کا انخلا ذمہ دارانہ ہونا چاہیے اور اگر امریکہ بغیر کسی سمجھوتے کے جاتاہے تو یہ ایک غیر زمہ دارانہ فعل ہوگا۔پنجم اب پاکستان افغانستان میں کسی کی پراکسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا او رنہ ہی اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعما ل ہونے کی اجازت دے گا۔او رنہ ہم کسی ایک فریق کاحصہ بن کر خود کو متنازعہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم سہولت کارہیں او راب ہماری شراکت داری امن کے لیے ہوگی نہ کہ جنگ کے لیے۔
یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا وجہ ہے کہ امریکہ دو دہائیوں کی محنت کے بعد افغانستان کو عدم استحکام کی حالت میں چھوڑ کر جارہا ہے، یہ بات واقعی سمجھ سے بالاتر ہے۔اسی طر ح امریکہ او رافغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر ڈو مور کا دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور ان کی توجہ کا مرکز پاکستان پر دباؤڈالنا یا اس سوچ کو آگے بڑھانا کہ ناکامی کی وجہ ہم نہیں بلکہ خود پاکستان ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو پارلیمنٹ میں کہنا پڑا کہ ہمارے معاملات کو سمجھے بغیر او رہم پر اعتماد کیے بغیر ڈومور کا مطالبہ نہ صرف غلط ہے بلکہ اس کا شدید ردعمل خود ہماری داخلی سیاست اور فیصلہ سازی میں پیدا ہوا ہے۔اس لیے امریکہ او رافغان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی سہولت کاری سے فائدہ اٹھائے نہ کہ اس پر بداعتمادی پیدا کرے پور ے خطہ کو سنگین خطرات میں دھکیلے۔کیونکہ پاکستان کی تجویز کہ خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہ ہر فریق کو شراکت اقتدار کی تجویز دیں گے، یہ ہی مسئلہ کا حل ہے اور سب فریق اسی پر توجہ دیں۔
ایک بڑا مسئلہ افغا ن حکومت کی اپنی ناکامی کا بھی ہے۔ کئی برسوں تک امریکہ کی حمایت یافتہ او رمددگار حکومت کے باوجود افغانستان کی یہ حکومت نہ تو امن و امان کو کنٹرول کرسکی او رنہ ہی اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکی۔ اس کے پاس بھی افغان بحران کا حل نہیں اور یہ خود کو بالادست رکھ کر مسئلہ کا حل چاہتی ہے جو ممکن نہیں۔اس وقت افغان حکومت ایک سیاسی بوجھ ہے او رامریکہ کو بھی یہ اندازہ ہوا ہے کہ مسئلہ افغانستان کی اس حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔البتہ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ افغان طالبان نے کہا ہے کہ یہ الزام کہ ہم محض طاقت یا جنگ کو بنیاد بناکر کابل کا کنٹرول چاہتے ہیں جو ہم کر بھی سکتے ہیں،مگر ایسا نہیں ہم آج بھی افغان حکومت سے سیاسی تصفیہ چاہتے ہیں اور یہ تاثر درست نہیں کہ ہم مذاکرات کے عمل کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔کیونکہ طالبان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ اگر اس نے کابل پر حکومت کو یقینی بنانا ہے تو اسے بین الااقوامی قوتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا۔ سیاسی تنہائی میں حکومت ممکن نہیں او ر یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہم دنیا کے قابل قبول نظام او رمعاہدہ لائیں گے اور جو خطرات یا خدشات ہمارے بارے میں پیش کیے جارہے ہیں وہ درست نہیں، ہم بھی دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔
امریکہ کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اب وہ محض ڈکٹیشن یا دباؤ کی پالیسی اختیار کرکے نہ تو افغان بحران کا حل نکال سکتا ہے او رنہ ہی پاکستان سے یا دیگر ممالک سے اس کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔پاکستان کی بظاہر پالیسی اب علاقائی سطح پر جیو معیشت یعنی ”معاشی ترقی او رنئے معاشی امکانات کو پیدا کرنا اور فائدہ اٹھانے“ سے جڑی ہے۔ اس لیے امریکہ کا یہ دباؤ کہ پاکستان ایک مخصوص بلاک کا حصہ بنے درست نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان بھی بداعتمادی کی بجائے اعتماد سازی، ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھنا، بلاوجہ کا دباؤ ڈالنے یا محض الزام تراشیوں سے گریز پر مبنی ہونا چاہیے۔