سینیٹ نے زیرِ حراست افراد پر تشدد کے تدارک کا بل منظور کرلیا
- منگل 13 / جولائی / 2021
- 6690
پاکستان کی سینیٹ نے دورانِ حراست افراد کے خلاف تشدد اور ہلاکت کی روک تھام اور سزا کا بل منظور کر لیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ میں زیرِ حراست افراد کے خلاف تشدد اور ہلاکت کی روک تھام کے بل کی متفقہ منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بھی یہ بل جلد منظور کر لے گی۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے حکومت سے اقوامِ متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن کے تحت ایک قانون وضع کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی تھیں جس میں نہ صرف زیرِ حراست تشدد کی جامع تعریف بیان کی گئی ہو بلکہ اس مجوزہ قانون کے تحت تشدد کے ایسے واقعات کو جرم قرار دے کر ان کا سدِ باب کیا جا سکے۔ اس بل کا مسودہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شری رحمٰن نے ایوان میں پیش کیا تھا۔
اب یہ بل پاکستان کی قومی اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔ اگر قومی اسمبلی اس بل کو اسی شکل میں منظور کر لیتی ہے تو یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔ سینیٹر شیری رحمٰن نے اس بل کی سینیٹ سے منظوری کے بعد ایک ٹوئٹ میں اسے ایک جامع بل قرار دیا جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں مبینہ تشدد کے واقعات کے روک تھام میں معاون ہو گا۔
پیر کو سینیٹ میں منظور ہونے والے اس بل میں نہ صرف تشدد کی جامع تعریف کی گئی ہے بلکہ تشدد کے واقعات میں ملوث اہلکاروں کے لیے جرمانے کے ساتھ مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ اس بل کے تحت کوئی بھی اہلکار دورانِ حراست تشدد یا جنسی تشدد کے جرم کا مرتکب ہوگا یا ایسی کسی جرم کی سازش میں ملوث پایا گیا تو اسے عمر قید کے ساتھ ساتھ 30 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
وہ سرکاری اہل کار جو ایسے واقعات کی روک تھام کے ذمے دار ہیں اگر وہ ایسے واقعات میں جان بوجھ کر ملوث پائے گئے اور ان کی غفلت کی وجہ سے ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو انہیں کم ازکم سات برس قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ اور قانون دان حنا جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بل کا خیر مقدم کیا ہے۔ حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ اس بل میں تشدد کی جامع تعریف کی گئی ہے جو خوش آئند امر ہے۔ حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فوجداری قانون میں تشدد کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے فوجداری قانون میں بھی اس تعریف کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت زیرِ حراست تشدد کا نشانہ بننے والوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی ایسے کسی واقعے کا مدعی بن سکتا ہے اور یہ معاملہ متعلقہ حکام اور مقامی سیشن کورٹ کے جج کے سامنے لا سکتا ہے۔