ملالہ کی تصویر والی کتاب ضبط کرنے کا حکم

  • منگل 13 / جولائی / 2021
  • 5320

پنجاب  ٹیکسٹ بک بورڈ​ نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی تصویر والی نصابی کتابیں ضبط کر نے کا حکم دیا ہے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق کتاب بغیر اجازت کے چھاپی گئی ہے۔

کتاب کے پبلشر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے کہا ہے کہ وہ معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے جماعت ہفتم کی معاشرتی علوم کی کتاب چھاپی تھی جس کا اسٹاک قبضے میں لیا گیا ہے۔ کتاب کے ایک صفحے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 کی جنگ میں شرکت کرنے والے فوجی افسر میجر عزیز بھٹی کی تصویر کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کی تصویر چھاپی گئی تھی۔

ملالہ یوسف زئی کی تصویر پاکستان کے قومی ہیروز کے ساتھ چھاپنے پر آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی کتاب پر سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی تھی۔  پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ  کے حکم پر ملالہ کی تصویر والی کتابیں ضبط کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ملالہ یوسف زئی کی تصویر کو معاشرتی علوم کی جماعت ہفتم کی کتاب کے صفحہ 43 پر چھاپا تھا۔ اِس صفحے پر ملالہ کے ساتھ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح، پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کی تصاویر بھی چھاپی ہیں۔ اِسی صفحے پر سر سید احمد خان، پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان، پاکستان کی سابقہ سفیر بیگم رعنا لیاقت علی خان، سماجی کارکن عبد الستار ایدھی اور پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے افسر میجر عزیز بھٹی کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ نے اس سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے پاکستان میں ریجنل دفتر لاہور اور مرکزی دفتر  کراچی رابطہ کیا۔ آکسفورڈ یوینورسٹی پریس سے وابستہ انتظامی حکام نے مختصراً اپنا مؤقف دیا کہ وہ اِس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ٹیم نے لاہور میں اردو بازار سمیت دیگر مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی کی تصویر والی کتابوں کو قبضے میں لیا ہے۔

ترجمان پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق جب بھی کوئی پبلشر بغیر اجازت کے کتاب چھاپتا ہے تو اُس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ مذکورہ کتاب کے خلاف بھی قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رانا طارق محمود نے کہا کہ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے 2015 کے قوانین کے مطابق کوئی بھی کتاب بغیر اجازت نہیں چھاپی جا سکتی۔

رانا طارق کے مطابق جو بھی کتاب بغیر این او سی  چھاپی جائے گی اُس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ویب سائٹ پر کتابیں چھاپنے سے متعلق قواعد و ضوابط، طریقۂ کار اور این او سی لینے کا طریقہ درج ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی کتاب سے متعلق ترجمان نے مزید کہا کہ مذکورہ کتاب کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کی گئی۔ ادارے کی ٹیمیں بازاروں میں گشت کرتی رہتی ہیں۔ جو بھی کتاب بغیر این او سی کے ہوتی ہے اُسے ضبط کر لیا جاتا ہے۔ رانا طارق کی مطابق یہ ادارے کی معمول کی کارروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ کتاب سمیت کسی بھی کتاب نے این او سی کے اپلائی کیا ہو یا نہ ہو وہ علیٰحدہ کیس ہے۔ البتہ بغیر اجازت نامے کے وہ چھاپی نہیں جا سکتی۔

خیال رہے اِس سے قبل گزشتہ سال پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرکاری اور نجی کتابیں چھاپنے والے اداروں کی جانب سے چھاپی گئیں کتابوں میں غلطیوں کے باعث بہت سی کتابوں پر بھی پابندی لگا دی تھی جس میں پبلشرز کو غلطیاں درست کرنے کو کہا گیا تھا۔

گزشتہ برس جولائی ہی میں پنجاب میں درسی کتب کے اشاعتی سرکاری ادارے ٹیکسٹ بک بورڈ نے اسلام اور پاکستان مخالف مواد کی بنیاد پر نجی پبلشرز کی 100 سے زائد کتب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ان پبلشرز میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور کیمبرج سمیت 31 پبلشرز کی کتب شامل تھیں۔