ایک اسلام پسند ترک پروفیسر بھی وطن میں مرنا چاہتا ہے
ایک ترک پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کاایک بیان نظروں سے گزرا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ انڈونیشیا گئے جہاں کورونا ٹیسٹ کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ کر دیے گے جس کی وجہ سے وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ اگر وہ پردیس میں مر گئے تو کیا ہو گا۔ انہوں نے دعا مانگی کہ ان کی موت اپنے وطن میں ہو۔
خلیل طوقار استنبول یونیورسٹی شعبہ ادبیات کے انچارج ہیں۔ وہ ایک اسلام پسند اور محبت وطن ترک ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ سرکاری پروٹوکول کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کے بھی کئی دورے کر چکے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے بھی متحرک رہتے ہیں اللہ ان کی عمر دراز کرے ۔ 2014 میں مجھے انہوں نے استنبول یونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر اور اس کے حل کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی۔ اور شعبہ تاریخ کے سربراہ پروفیسر علی ارسلان نے مجھے ایک شیلڈ بھی دی۔
خطاب سے قبل باقاعدہ اس پروگرام کی تشہیر بھی کی گئی مگر پیش آنے والے واقعات سے اندازہ ہوا کہ کشمیر کے خودساختہ وکیل نے اس پروگرام کے خلاف کافی مہم بھی چلائی۔ میرے خطاب کے بعد ایک با پردہ خاتون نے مجھے اسی ہال میں کہا کہ مسلمان پہلے ہی تقسیم ہیں اور آپ بھی جموں کشمیر کو ایک الگ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے مختصراً کہا کہ ہم پہلے ریاست کی وحدت کی بحالی چاہتے ہیں جس کے لیے غیر ملکی افواج کا انخلاء ضروری ہے۔ لیکن عام ترک مسئلہ کشمیر کو حکومت پاکستان کی نظر سے دیکھتے ہیں جو خود دوغلی پالیسی کا شکار ہے۔ اس کے مطابق مسئلہ کشمیر وہی ہے جو پاکستان کہتا ہے کہ اس نے ہمیں آزاد کشمیر آزاد کرا کر دیا ۔
یہ باتیں پروگرام کے اختتام پر ہوئیں اور پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ سر راہ اس طرح کی گفتگو کو طول نہ دیا جائے۔ البتہ ڈاکٹر طوقار نے میری حوصلہ افزائی کے لیے اتنا کہا
کہ انہیں کشمیریوں کے نقطہ نظر کا بھی علم ہے۔ 2016 میں ایک اور بڑے ادارے میں بھی مجھے دعوت دی گئی جس میں پاکستان کے سفیر مہمان خصوصی تھے۔ مجھے دعوت دینے والوں نے کہا کہ میں بھی گفتگو کے پینل میں شامل ہوں گا مگر بعد میں پتہ چلا کہ کشمیریوں کے خود ساختہ وکیل نے کہا کہ اس کی موجودگی میں کسی کشمیری کے بولنے کی ضرورت نہیں۔ ترک ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ میں اس پروگرام میں کسی قسم کی بدمزگی کا الزام نہیں لینا چاہتا تھا اس لیے پروگرام میں تو خاموش رہا مگر بعد میں ترک میزبانوں کو لکھا کہ "یہ کشمیریوں کے ساتھ بڑی دلچسپ یکجہتی کا اظہار تھا جس میں سب بول سکتے تھے مگر کشمیری نہیں بول سکتا تھا"۔
پاکستان کی یہی وہ دوغلی پالیسی ہے جو جموں کشمیر کے بیانیہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر آج تک کشمیریوں کا مسئلہ بننے کے بجائے پاک ہند علاقائی مسئلہ بنا ہوا ہے جس سے پاکستان اب عملی طور پر دستبردار بھی ہو چکا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے جو لوگ ریاست کی وحدت کی بحالی چاہتے ہیں، ان پر غیر اسلامی سوچ کا الزام لگایا جاتاہے۔ لیکن یہاں دو سوالات پیدا ہوتے ییں۔ جس اسلامی سوچ کے تحت کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں کیا وہ اسلام پاکستان میں کہیں نظر اتایے؟ پاکستان اپنے نصاب اور بود و باش کے اعتبار سے دن بدن غیر اسلامی بنتا جارہاہے۔
بڑے اداروں کے بظاہر بڑے اہلکار نوکری سے فارغ ہوتے ہی بیرون ملک بنگلے خرید کر پاکستان کو ہمیشہ کے لیے بھول جاتے ہیں۔ محب وطن پاکستانیوں کو تو پہلے ان عناصر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کی پاکستان میں دوران ملازمت بھی وفاداریاں کہیں اور ہوتی ہیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کشمیر اور فلسطین کو جو اسلامی ممالک اسلام کے لیکچرز دیتے ہیں وہ آزاد ہونے کے باوجود خود متحد کیوں نہیں ہوتے؟۔ ترکی، شام ، ایران اور عراق سب ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں ییں۔ پاکستان، ایران اور افغانستان کے تعلقات بھی اطمینان بخش نہیں جبکہ عربوں کا تو کوئی حال ہی نہیں۔ اسلامی ملکوں کے درمیان اگر اتحاد ہو تو تب ہی وہ ایک دوسرے یا کشمیر اور فلسطین کی مدد کر سکتے ہیں۔ محض کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کو اسلام پرستی کے لیکچرز دینے سے اسلامی کو سرفرازی نہیں مل جائے گی۔
جہاں تک یہ الزام کہ وطن پسندی، اسلام پسندی کی ضد ہے اور وطن سے محبت غیر اسلامی ہے، سراسر غلط سوچ ہے۔ نظریے کی آبیاری زمین پر ہوتی ہے نہ کہ آسمان پر اور وطن سے محبت کا مطلب اپنے خونی و خاندانی رشتوں سے محبت ہوتی ہے جن کے درمیان انسان جینا اور مرنا چاہتا ہے۔
اس کے لئے ڈاکٹر طوقار کی وطن میں مرنے کی خواہش ہی ایک بڑی مثال یے۔ وطن میں انسان کے خونی رشتے ہوتے ہیں جن سے مرتے وقت دوری کا احساس اور بڑھ جاتاہے۔ یہی انسانی درد کشمیریوں، فلسطینیوں اور کردستانی مسلمانوں کے سینوں میں بھی پنپ رہا ہے جن کی کئی نسلیں جدائی میں چل بسیں اور نہ جانے دردوں کا یہ سفر مزید کتنا طویل ہے۔