زندگی کا روحانی تجربہ

گیارہ روز تک درامن کے مرکزی ہسپتال  کی بارھویں منزل پر بطور مریض قیام کے دوران  میں گوناگوں باطنی کیفیات سے دو چار رہا ہوں۔ بارھویں منزل کی بلندی سے درامن شہر، دریائے درامن ، رہائشی علاقے،  لائبریری، ریلوے سٹیشن اور  دور دور تک پھیلے ہوئے سر سبز شاداب کہساروں اور نواحی بستیوں کا حُسنِ ترتیب جادوئی اور  طلسماتی  سحر طاری کر دیتا ہے۔  اور روح  کے ہونٹوں پر خُدائے عزوجل کی  حمد جاری ہو جاتی ہے۔

یہ تو بیرونی مناظر ہیں مگر مریضوں کے کمروں میں انسانی خدمت کا جو معیار یہاں قائم ہے ،  وہ انسان کی روحانی عظمت کا مونہہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں نہ کوئی مسلمان ہے نہ عیسائی، نہ ہندو نہ سکھ۔ سب انسان ہیں اور ڈاکٹر، نرسیں  اور تیمار دار خواتین و حضرات سب کی خدمت کرتے ہیں۔ مونہہ دھلوانے سے لے کر  کپڑے بدلوانے تک اور جرابیں  اور جوتے پہنانے تک ہر کام اتنی لگن سے ہوتا ہے کہ  ان کے اخلاقی اور اعلیٰ انسانی  معیار  پر جی عش عش کر اُٹھتا ہے۔ گھنٹی بجاؤ تو فوراً ایک خدمت گار حاضر ہو جاتا ہے اور پہلے تو وہ مسکراہٹ  کے پے در پے وار کر کے حیران کردیتا ہے۔ تب میں یاد کرتا ہوں  کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے  مگر ہمارے یہاں کے علما بھی اتنے کنجوس ہوتے ہیں کہ عام مسلمان کے لیے اپنے ہونٹوں کو جنبش دینا بھی کسرِ شان سمجھتے ہیں اور اس کے باوجود عشق رسول ﷺ کا تمغہ سینے پر سجا کر پھرتے ہیں۔

میری اور آپ کی پرورش جس اُمت نے کی  وہ زندگی کو ہڈیوں کا ڈھانچہ، گوشت، خون اور  جلد سمجھتے تھے۔  ایسے لوگوں کے درمیان ایک حساس آدمی تنہا رہ جاتا ہے  کیونکہ بیشتر لوگ اپنے جسمانی بُت کی پوجا میں لگے رہتے ہیں  لیکن میری خوش نصیبی کہ مجھے لاہور میں   خُدا رسیدہ درویشوں کا ٹھکانہ مل گیا  اور میں نے اُن کی صحبت میں یہ سیکھا کہ  انسان در  اصل شعور ہے۔ اور اس شعور نے اپنے اظہار کے لیے  طبعی شکل اختیار کی ہوئی ہے ۔ یہ شعور عناصرِ اربعہ کی دنیا میں  اپنے ہونا ظاہر کرتا ہے۔ یعنی ہماری روزمرہ  دنیا کی طبعی اور ذہنی دنیا کے پردے  کے پیچھے ایک روحانی شعور موجود ہے۔ یہ ایک فطری کیفیت ہے جو ہمیشہ برقرار رہتی ہے   اور ہرفرد میں موجود ہے  بلکہ ہر شخص کے خمیر میں گندھی ہوئی ہے۔ لیکن یہ  دوہری پرت کی  ایک ایسی کیفیت ہے  جو الجھاؤ اور مصائب پیدا کر سکتی ہے۔ چنانچہ بیماری  بالعموم اس طرح پیدا ہوتی ہے  کہ ہمارا ذہنی  رویہ، ہمارے احساسات اور ہماری عادات  ہمارے خالص روحانی شعور سے متصادم ہوتی ہیں  اور ہماری روحانی حقیقت  جو ہماری تخلیق میں جاگزیں ہے  وہ فرد کو داخلی نظم و ضبط اور حُسنِ اخلاق سے مالا مال بھی  کر سکتی ہے۔

ہم جب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ  ہم سب میں ایک بے بایاں اور لا محدود قوت موجود ہے  تو ہم تصوف کے بنیادی اصول کو جان لیتے ہیں۔ اور یہ سمجھ لینا  ایک عالی شان علامت ہے  جو یہ ظاہر کرتی ہے  کہ آپ میں روحانی روشنی کے امکانات موجود ہیں۔  اصل میں دنیا بھر کے  مذاہب، دینی نظریات   اور نظام ہائے اخلاق کا مقصد یہی ہے کہ وہ لوگوں کو  ان کی زندگی  سے مکمل طور پر  لطف اندوز ہونے کے مواقع مہیا کریں۔ اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگ ماضی کو ترک کرکے اور زمانہ  مستقبل  کے اندیشوں کو خُدا کی رضا پر چھوڑ کر  زمانہ  حال میں جینا سیکھیں۔  جو ہیں وہی رہیں۔ حال کے راستے سے نہ بھٹکیں  کیونکہ حال سے بھٹکنا گمراہی ہے۔  لیکن برا ہو ہماری عادتوں کا کہ ہم  کچھ نہ کچھ بننے کی  کوشش میں اپنے حال سے روگردانی کرتے ہیں  اور  اپنے سونے جیسے قیمتی زمانہ ء حال کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔

 چنانچہ میری اور آپ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم وہی رہیں جیسا ہمیں خُدا نے بنایا ہے۔ میک اپ اور بہروپ سے خود کو بدلنے کی کوشش نہ کریں۔  ہم اپنے روز مرہ کا براہِ راست اور پوری وسعتِ عمل کے ساتھ  جیئیں۔  یاد رکھنا چاہیے کہ اونچ نیچ  اور دکھ سُکھ زندگی کا لازمی جزو ہیں ،  چانچہ ہر شخص کو ہمیشہ الحمد للہ علیٰ کلِ حالً کا  فارمولا ازبر رہنا  ہے۔ یہ عادات کی نیند سے بیداری  کا سگنل ہے۔ بظاہر ہر کیفیت کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا ۔ کمزور آدمی کی  مجبوری یہ ہے کہ  وہ حالات و واقعات اور معاشرتی بیانیوں سے  بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔  لیکن جوں جوں فرسودہ  عادات اور  جہالت کی وہ زنجیریں ٹوٹتی ہیں جن سے ہم نے اپنی ذات کو  جکڑ کر رکھتے ہیں۔ ہماری عادت ہے کہ ہم بالعموم ردِ عمل کی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں ۔ ان زنجیروں کی شکل اُن زخموں جیسی  ہے جو ہماری انا کو ٹھیس بن کر لگتے  ہیں  کہ فلاں نے مجھے گالی دی، فلاں نے میری بے عزتی کی  اور اس طرح کے زخم عمر بھر رستے رہتے ہیں  اور ہم پر یہ راز افشا نہیں ہوتا  کہ گالی کھا کر دعا دینا کیسا رویہ ہے۔  تاہم  اپنی اوقات کا  ہم یہ کہ کر بند کردیتے ہیں کہ:

سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سُن کر دعائیں دیں

اور اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ سے  عشق کا دعویٰ کرنے کے باوجود  محبت کا یہ انتہائی پاکیزہ  طرزِ عمل نہیں سیکھا۔  یہی وجہ ہے کہ  ہم پر بیماریوں  کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔  اور ردِ عل میں مبتلا ا رہنے والے لوگ  روحانی طور پر ہمیشہ نا آسودہ رہتے ہیں، حالانکہ  ہر شخص اپنی ذات میں  خُدا کی منفرد اور نادر تخلیق ہے۔ کوئی بھی کسی سے کم یا زیادہ نہیں ہے مگر لوگ  خود کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرلیتے ہیں  جس سے اُن کی روز مرہ زندگی سوہانِ روح بن جاتی ہے۔  چنانچہ بھالئی اسی میں ہے کہ  اپنے ارد گرد کی خوبصورت زندگی کو دیکھا جائے  اور اپنے اور دوسرے کے درمیان موازنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہ کارِ ابلیسی ہے  جس نے تخلق کی ساعت میں آدم کو کم تر اور خود کر برتر قرار دیا تھا۔ 

بے لوث خدمت اور لگن خُدا کے  تخلیقی حُسن کو بے نقاب کرتی ہے۔  خدا کرے کہ ہم سب زبانی جمع خرچ کے بجائے میدانِ عمل کے شہسوار بنیں  اور ہمارا معاشرہ بھی زمین پر جنت نظیر بن جائے۔ اور اب چند گھسے پٹے اشعار:

چھوٹے بہت ہی آدمی اور گھر بڑے بڑے

گنجوں کی وگ کی تاک میں پتھر بڑے بڑے

پدی کے شوربے سے بھری دیگ کا اُبال

ڈھینچوں کا راگ گاتے ہوئے خر بڑے بڑے

اب بیٹھتی ہیں صوفوں پہ گوبر کی مکھیاں

چھوٹی سی آنکھیں دیکھتی، منظر بڑے بڑے

بیٹھے ہوئے ہیں مسندِ علمی  پہ مسخرے

دہلیز کے بغیر ہیں اب در بڑے بڑے

بدلا گیا نصاب مگر  آنکھ دیکھ لے

ہیں خیر کی کتاب میں اب شر بڑے بڑے

پھیلا رہے ہیں کب سے کرپشن ملیریا

ہیں ڈینگی مچھروں کو بہم پر بڑے بڑے

مسعود ، مرد و زن میں تفاوت نہیں رہی

پہنے ہوئے ہیں ساڑھیاں اب نر بڑے بڑے