سابق صدر کی گرفتاری پر جنوبی افریقہ میں تشدد، 72 افراد ہلاک
- بدھ 14 / جولائی / 2021
- 3840
جنوبی افریقہ میں سابق صدر جیکب زوما کے جیل جانے پر شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے مطابق بلووں اور لوٹ مار کے واقعات میں 72 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مشتعل ہجوم نے منگل کو پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں اور جنوبی افریقہ کے مختلف شہروں میں کاروباری مراکز میں توڑ پھوڑ کی۔ تشدد کے واقعات کا آغاز گزشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب جیکب زوما نے توہینِ عدالت کے جرم میں سنائی گئی 15 ماہ قید کی سزا کاٹنا شروع کی تھی۔
جنوبی افریقہ میں گزشتہ کئی برسوں کی بدترین بدامنی میں لوٹ مار کرنے والوں نے گائنٹنگ صوبے کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ سمیت مختلف شہروں میں شاپنگ مالز اور دیگر دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز میں توڑ پھوڑ کی ہے۔ تشدد کے ایسے واقعات جیکب زوما کے آبائی صوبے کوازولو نتال اور سوویٹو صوبے میں بھی پیش آئے جب کہ سیکیورٹی فورسز بظاہر اس لوٹ مار اور حملوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیں۔
مظاہرین کے سڑکوں پر آنے کی ایک اور وجہ معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج بھی ہے۔ ان مشکلات میں گزشتہ ایک سال کے دوران کورونا کی عالمی وبا کے سبب مزید اضافہ ہوا ہے۔ بدامنی کے سبب ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور جنوبی افریقہ کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو صوبوں کے اندر پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔
پولیس نے منگل کے روز کہا ہے کہ زیادہ تر اموات کی وجہ وہ دھکم پیل تھی جو لوٹ مار کے دوران دیکھنے میں آئی۔ گزشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
جنوبی افریقہ کے صدر سرل راما فوسا نے پیر کو قوم سے خطاب میں ملک کے اندر تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کے پرامن رہنے پر زور دیا تھا۔ صدر رام افوسا کا کہنا تھا کہ تشدد، لوٹ مار اور لاقانونیت کا راستہ صرف تشدد اور بربادی کی طرف ہی لے جائے گا۔
ادھر زوما فاؤنڈیشن نے منگل کو کہا ہے کہ جب تک نسل پرستی کے خلاف لڑنے والے سابق جنگجو سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں، ملک میں امن نہیں آئے گا۔ فاؤنڈیشن نے ٹوئٹر پر ایک اعلان میں کہا کہ "جنوبی افریقہ میں امن اور استحکام صدر جیکب زوما کی فی الفور رہائی کے ساتھ منسلک ہے۔"
واضح رہے کہ جیکب زوما کو اپنے نو سالہ دورِ اقتدار کے 2018 میں اختتام کے بعد بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا اور اس ضمن میں ریاستی تحقیقات میں معاونت نہ کرنے پر انہیں عدالت نے توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر 15 ماہ قید کا حکم دیا تھا۔