داسو پاور پلانٹ کے قریب حملے میں 9 چینی انجینئرز سمیت 12 افراد ہلاک
- بدھ 14 / جولائی / 2021
- 5020
خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب حملے میں 9 انجینئرز، دو فرنٹیئر کور (ایف یس) اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات متضاد تھیں۔ تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسے ایک 'بزدلانہ حملہ' قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقدامات سے توجہ نہیں ہٹ سکتی‘۔ بابر اعوان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دینے اور ایوان کو اس واقعے سے متعلق اعتماد میں لینے کا کہیں گے۔
کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ نے حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس 'تکنیکی خرابیوں‘ کے باعث بس کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔ دفتر خارجہ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی جن میں 9 چینی شہری شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’اعلی سطح کے وفد اپر کوہستان روانہ ہو چکا ہے، زمینی حقائق سے عوام اور میڈیا کو آگاہ کریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے، چینی اہلکاروں کی سیکیورٹی پر مامور بڑی تعداد میں عملہ موجود تھا۔
شدید زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ریسکیو 1122 کے ایمبولینسز اور اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ریسکیو سروسز فراہم کر رہے ہیں۔
ادھر چین نے پاکستان سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حملے کی مذمت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ملک میں چینی شہریوں، تنظیموں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے مجرمان کو سخت سے سخت سزا دے۔
ایک بیان میں پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین اور زخمیوں سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنی پوری کوشش کریں گے۔
واقعے کے فوراً بعد اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی بتایا تھا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک بس برسین کیمپ سے 30 ورکرز کو لے کر پلانٹ کے مقام پر جارہی تھی۔ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔ عارف خان یوسف زئی نے بتایا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
بعد ازاں دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ مکینیکل خرابی کے بعد بس ایک کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔