سینیٹ اجلاس میں نیپرا بل اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور

  • جمعہ 16 / جولائی / 2021
  • 4840

سینیٹ اجلاس کے دوران بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ریگولیشن میں ترمیم کا بل اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور کرلیا گیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران نیپرا بل پیش کیا گیا جس کے ایجنڈا میں شامل نہ ہونے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔بل میں کہا گیا ہے کہ صارفین کے مفاد میں نیپرا بجلی کی ترسیل سے وابستہ پبلک سیکٹر لائسنس یافتہ کمپنی کے لیے یکساں ٹیرف مقرر کرے گی۔

منظور شدہ ٹیرف یا یکساں ٹیرف کے حوالے سے نوٹی فیکشن 30 روز کے اندر جاری کیا جائے گا اور اگر وفاقی حکومت نیپرا کے مقرر کردہ ٹیرف کا نوٹی فیکشن مقررہ وقت میں جاری نہیں کرتی یا نظر ثانی کا نہیں کہتی تو نیپرا اپنی سفارش کے فوری اطلاق کی تجویز دے سکتا ہے جس پر وفاقی حکومت 30 روز کے اندر نیپرا کو ٹیرف پر نظر ثانی کا کہہ سکتی ہے۔

نیپرا سہ ماہی بنیاد پر منظور شدہ ٹیرف میں ایڈجسمنٹ کر سکتی ہے جس پر وفاقی حکومت 15 روز کے اندر نظر ثانی کی ہدایت دے سکتی ہے۔ یہ ایڈجسمنٹ ٹرانسمیشن چارجز، تقسیم کے نقصانات، مرمت کی مد میں کی جا سکتی ہے، نیپرا ماہانہ بنیاد پر فیول چارجز کی مد میں منظور شدہ ٹیرف میں ایڈجسمنٹ کر سکتی ہے۔

اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک بھر میں بجلی کے یکساں ٹیرف کا نفاز ہو گا، ملک بھر میں مختلف ٹیرف وصول نہیں کیے جائیں گے۔ بل پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بل کے مطابق اتھارٹی خود سے نوٹی فیکشن جاری کر دے گی، یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارواں کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوٹی فیکشن کا حق صرف وفاقی حکومت کے پاس رہنا چاہیے۔

اجلاس کے دوران مجرمانہ معاملات پر باہمی قانونی تعاون کا ترمیمی بل اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ سینیٹ میں پیش کیے گئے اس ترمیمی بل پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن غلامانہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔

اجلاس کے دوران کالعدم تنظیموں اور غیر ملکیوں کو نادرا کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز کے اجرا پر متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر فیصل سبزواری توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی  کے ڈائریکٹر جنرل سندھ نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں 50 فیصد نادرا اہلکاروں اور افسران نے جعلی شناختی کارڈز بنائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'این ڈی ایس، دشمنی ایجنسی، کالعدم تنظیموں کے جعلی شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں اور 30  سے 40 لاکھ غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں '۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نادرا کے ان افراد کو بے نقاب کیا جائے اور برطرف کیا جایے جن لوگوں نے یہ کارڈ بنائے ہیں اور جعلی شناختی کارڈز بلاک کیے جائیں۔ حکومتی بینچز سے علی محمد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی کا بیان ان کی زبان پھسلنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار شخص ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 40 لاکھ جعلی شناختی کارڈز کی بات کی گئی۔ ہمارے ریکارڑ کے مطابق 2018 سے اب تک کراچی میں 5 لاکھ، سندھ میں 23 لاکھ سے زائد شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسے ممکن ہے کہ 40 لاکھ جعلی شناختی کارڈ جاری ہوں جب کہ کل 29 لاکھ شناختی کارڈزجاری کئے گئے ہیں تاہم پھر بھی غلط کام ہوئے ہیں۔