وبا اور حکمرانی کا بحران
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 16 / جولائی / 2021
- 5780
پوری دنیا اور باالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک میں کرونا کی وبا کے نتیجے میں ایک بڑا سیاسی، سماجی، اقتصادی بحران دیکھنے کو ملا اور یہ بحران ابھی بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔
پاکستان جس کا سماجی انتظامی ڈھانچہ اور بنیادی سہولیات کی کمی سمیت حکمرانی کا نظام بھی کئی حوالوں سے تنقید کے زمرے میں آتا ہے۔اس لیے کرونا کے بحران کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنی حکمرانی کے بحران سے جڑے معاملات پر زیادہ سنجیدگی، تدبر اور فہم وفراست کے ساتھ اپنے معاملات کا جائزہ و تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام علمی اور فکری بنیادوں پرہی ہوسکتا ہے جس میں جذباتیت کے مقابلے میں ٹھوس اور شواہد کی بنیاد پر ان محرکات کو سمجھنا، پرکھنا ہوگا کہ وہ کیا محرکات یا کیان وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہمیں بھی کرونا کے بحران میں حکمرانی کے تناظرمیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی جانب سے دو روزہ کانفرنس’پاکستان میں کوڈ 19کے دوران حکمرانی کے مسائل‘ پر ایک اہم فکری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس شعبہ کی ڈین ڈاکٹر عنبرین جاوید، شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر ارم خالد،پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ ہاشمی، ڈاکٹر ظل ہما اور پروفیسر ڈاکٹر رانا اعجازسمیت دیگر فیکلٹی ممبران اور بالخصوص جامعہ پنجاب کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اخترکی کاوشیں شامل تھیں۔ کانفرنس کے افتتاعی تقریب سے سیاسیات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی، ایف سی کالج کے پالیسی سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر سعیدشفقت،چین کے سفیر نونگ رونگ،وفاقی وزیر پلائنگ اینڈ ڈولیپمنٹ اور این سی اوسی کے سربراہ اسد عمراور وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز اختر نے کرونا بحران میں حکومتی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے مختلف سیشن اور مباحثوں سے مختلف جامعات کے اہم پروفیسرز، مختلف حکومتی اداروں کے سربراہ نے تفصیل کے ساتھ اپنا اپنا مقدمہ پیش کیا اور سوال وجواب کی اہم نشست نے بھی طلبہ وطالبات کو اچھا موقع دیا کہ وہ اپنا نقطہ نظر پیش کرسکیں۔تعلیمی اداروں میں اس طرح کی فکری نشستوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ طلبہ و طالبات سمیت فیکلٹی کے مختلف ممبران کو قومی مسائل او ران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات، مسائل اور چیلنجز کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا کے بحران نے جہاں پوری دنیا میں حکمرانی کے نظام کو چیلنج کیا ہے وہیں پاکستان کا نظام بھی زیر بحث رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک حادثاتی بحران ہے جس کے لیے دنیا پہلے سے تیار نہیں تھی، مگر یہ دیکھا گیا کہ اس بحران سے نمٹنے میں وہی ممالک زیادہ کامیاب رہے جن کا حکمرانی کا نظام مضبوط، مربوط، شفاف او ربالخصوص ان کا سیاسی نظام مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت پر قائم تھا۔
اس کانفرنس میں تین سطح پر حکمرانی کے بحران کو سمجھنے کی کوشش کی گئی جن میں عالمی، گلوبل، علاقائی یا ملکی نظام کے تناظر میں کس طرح کا بحران دیکھنے کو ملا۔اگرچہ پاکستان کے بارے میں کرونا سے نمٹنے کے تناظر میں بہت تنقید کی جاتی ہے۔لیکن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی کارکردگی بہت سے ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر رہی۔ بالخصوص سمارٹ لاک ڈاؤن، کاروبار کو چلانے میں ایک متوازن پالیسی، مکمل کاروبار کی بندش سے گریز، این سی او سی کا مرکزی و صوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی رابطہ، روزانہ کی بنیاد پر حکمت عملی میں تبدیلی، حکومتی سطح سے کمزور افراد کے لیے مختلف پیکجز، ویکسینیشن کی فراہمی کا موثر نظام، متبادل ہسپتالوں کی تعمیر میں جہاں بہت سے ہمیں مسائل دیکھنے کو ملے وہاں بہت سے امور پر ہماری کارکردگی کو بھی سراہا جانا چاہیے۔ بالخصوص ڈاکٹرز او رپیرا میڈیکل سٹاف سمیت سماجی اور خدائی خدمت گار تنظیموں کی کارکردگی بھی مثالی تھی۔البتہ ہمیں کچھ سنگین نوعیت کے مسائل بھی دیکھنے کو ملے جن میں بالخصوص ہمارے صحت کے شعبہ کا کمزور ڈھانچہ، صحت کی بنیادی نوعیت کی سہولیات کی کمی، حکومتی امداد اوروسائل کی غیر منصفانہ اور عدم شفافیت پر مبنی تقسیم، مقامی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی، وفاق اور سندھ کے درمیان بداعتمادی کی فضا، ویکسین کی تاخیراور کرونا کے بارے میں مختلف حلقوں کی جانب سے غلط فہمیو ں کو آگے بڑھانے سمیت تعلیم کے نظام میں تعطل جیسے امور بھی سر فہرست تھے۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اور ڈاکٹر سعید شفقت نے بنیادی سوا ل یہ ہی اٹھایا کہ کرونا کے بحران نے ہمارے حکمرانی سے جڑے نظام میں جو بھی خرابیاں یا خامیاں تھیں ان کو نمایاں کیا ہے۔ اس لیے ہمیں بنیادی طو رپر کرونا کے بحران سے سبق سیکھ کر اپنے حکمرانی کے نظام میں موثر شفافیت کے نظام کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔بنیادی طور پر اہم سوال اس ملک میں حکمرانی کے نظام کی شفافیت کے لیے سماجی شعبہ میں زیادہ سے زیادہ سیاسی، سماجی، مالی اور انتظامی سرمایہ کاری کا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج دنیا میں جن بھی ممالک نے اپنے حکمرانی کے نظام کو موثر بنایا ہے تو ان کی ترجیحات میں مقامی حکومتوں کا نظام اہم رہا ہے۔ کیونکہ وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم اور مقامی سطح پر اہم ترجیحات کو بنیاد بنا کر ہی ہم مقامی سطح پر لوگوں کو زیادہ مستحکم اور طاقت دے سکتے ہیں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ محض اسلام آباد یا صوبائی ہیڈ کواٹر سے بیٹھ کر ملک یا اضلاع کے نظام کو شفافیت یا لوگوں کی توقعات کے مطابق چلانا ممکن نہیں۔
اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کے نظام کی شفافیت کا بنیادی تعلق ادارہ جاتی نظام کی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارا مقدمہ عملی طور پر ادارہ جاتی نظام کے تناظر میں کمزور ہے۔ اداروں کی کمزوری نے حکمرانی کے نظام کی شفافیت کو چیلنج کیا ہے اور ہماری اب بھی اہم ترجیحات میں اداروں سے زیادہ افراد کو مضبوط بنانا یا زیادہ سے زیادہ اختیارات کو اپنی حد تک مختص کرکے پورے نظام میں ایک بڑے بگاڑ کو پیدا کرنے کا بن گیا ہے، جو تبدیلی چاہتا ہے۔18ویں ترمیم کے بعد حکمرانی کے نظام کی شفافیت کی ایک بڑی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور وہی حکمرانی کے نظام میں حقیقی معنوں میں جوابدہ بھی ہیں۔ لیکن اول تو صوبائی حکومتیں جوابدہی کے لیے تیار نہیں اور دوئم وہ بھی صوبائی سطح تک انتظامی او رمالیاتی اختیارات کو محدود کرکے نظام کو خراب کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔
اس لیے واقعی اگر ہم کرونا کے بحران کو بنیاد بنا کر کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام روائتی انداز میں ممکن نہیں۔ بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک بڑے اصلاحاتی اور قانون سازی سمیت ریاستی، سیاسی او رانتظامی ڈھانچوں کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔وسائل کی تقسیم کو ان اہم اور بنیادی مسائل جن میں صحت کا نظام بھی ہے جوڑنا ہوگا تاکہ ہم نہ صرف روزمرہ معاملات بلکہ حادثاتی صورت میں بھی اپنا کامیابی سے دفاع کرسکیں۔اسی طرح سے حکمرانی کا بحران سیاسی تنہائی میں دور کرنا ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے معاشرے میں موجود تمام فریقین کو بنیاد بنا کر عملی طور پورے نظام کی اصلاح کرنی ہوگی۔ فیصلہ سازی کے نظام کو عام لوگوں کی بنیادی ضروریات سے جوڑنا ہوگا او ران میں حکمرانی کی ملکیت کا احساس اجاگر کرنا ہے تاکہ ان کا ریاستی، حکومتی نظام پر اعتماد بحال ہو۔
ہمارے حکمرانی کے نظام کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ نظام عملی طور پر ایک ردعمل کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی ہم حادثات یا واقعات کی بنیاد پر تو سامنے آتے ہیں مگر ہماری حکمرانی کی پالیسی میں شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پرحکمت عملی کا فقدان ہے۔ جب تک ہم دنیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنی حکمرانی کے نظام کی اصلاح نہیں کریں گے اور جدیدیت کے مقابلے میں فرسودہ اور روائتی نظام سے جان نہیں چھڑائیں گے، کچھ ممکن نہیں۔ اس کام میں یقینی طور پر ہمارے علمی و فکری تعلیمی اداوں کی بڑ ی اہمیت ہے جو نئی تحقیق کی بنیاد پر نیا قومی بیانیہ پیش کرسکتی ہیں۔