کوہستان واقعے کے بعد چینی کمپنی نے داسو ڈیم کی تعمیر روک دی، پاکستانی ملازمین فارغ
- ہفتہ 17 / جولائی / 2021
- 6250
گزشتہ دنوں ایک دھماکہ میں چینی انجینئیرس کی ہلاکت کے بعد داسو ڈیم کی تعمیر پر کام کرنے والی چین کی کمپنی نے منصوبے پر کام روک دیا ہے۔ پاکستان کے ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔
داسو ڈیم ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کرنے والے چین کے انجنئیرز کی بس کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے چین کے حکام پاکستان پہنچے ہیں جنہوں نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ دوسری جانب واقعے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو چین جانے کی ہدایت کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سانحے کے بعد وزرا کے متضاد بیانات اور حقائق چھپانے کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے خطرناک ہے۔ چین نے پاکستان کے حکام پر عدم اعتماد کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم بھیجی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 14 جولائی کو قراقرم ہائی وے پر حادثہ پیش آیا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ حادثے میں 9 چینی بھی نشانہ بنے۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم نے چینی ہم منصب سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے اپنے باشندوں کی سیکیورٹی سخت کرنے کی استدعا کی ہے۔ جس پر وزیرِ اعظم عمران خان نے وزارتِ خارجہ کو چین کے شہریوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شیخ رشید احمد نے بتایا کہ عمران خان نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو چین جانے کی ہدایت کی ہے۔ چین کی حکومت کو یقین دلاتے ہیں کہ ذمہ دار افراد کو کسی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان میں کام کرنے والے تمام چینی ورکرز کو فُول پروف سکیورٹی دین گے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کی طرف سے شام گئے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اسے گیس لیکج کے باعث ہونے والا حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں تاشقند میں موجود پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے وہاں موجود چین کے حکام سے ملاقات میں بھی یہی مؤقف اپنایا اور اسے ایک حادثہ قرار دیا۔ چینی حکام پہلے روز سے ہی اس مؤقف پر مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
واقعہ کے 24 گھنٹے گزرنے کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں واقعے میں دھماکہ خیز مواد استعمال ہونے کے شواہد ملنے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں دہشت گردی خارج از امکان نہیں ہے۔ بعد ازاں چین کی وزارتِ خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دہشت گردی ہے تو اس کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
اس کے بعد وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ خارجہ کی طرف کوئی بیان سامنے نہیں۔ ہفتے کو وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے اس واقعے کو کوئٹہ کے سرینہ ہوٹل کے واقعہ سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وہی لوگ ملوث ہیں جو کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں کارروائی میں شامل تھے۔ اپریل میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے جس وقت یہ دھماکہ ہوا رپورٹس کے مطابق اس وقت چینی سفیر سمیت اہم حکام کوئٹہ میں ہی موجود تھے۔