پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا تعلق افغان صورت حال سے ہے: آئی ایس پی آر
- ہفتہ 17 / جولائی / 2021
- 6140
پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے برا اثر پاکستان پر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانے کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر بہت گہری نگاہ ہے، اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کررہے ہیں کیونکہ افغان امن عمل کے حوالے معاونت میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہرگز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں نے ہی کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح سے چلنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد صورتحال بگڑنے کی صورت میں متوقع اثرات سے نمٹنے کے لیے ہم نے بہت تیاری کی ہے۔ اور ہم نے اپنے ملک کی سیکیورٹی اور حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر بدامنی اور عدم استحکام ہو گا تو سب سے برا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور پرامن افغانستان میں بھی سب سے زیادہ اسٹیک پاکستان کا ہی ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہ راست تعلق ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں لڑائی اور تشدد کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانے کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے اور بلوچستان میں بھی کچھ عناصر کو تقویت مل سکتی ہے۔ وہاں موجود مختلف دہشت گرد گروپس اور غیرملکی خفیہ ایجنسیاں کی مدد سے وہ آپس میں اتحاد کر سکتے ہیں اور حالیہ واقعات اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم بہت عرصے سے اقدامات کررہے ہیں، ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہے اور ہمیں اس میں بے مثال کامیابی ملی جنہیں ہم کسی صورت میں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 2017 سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وژن کے مطابق مغربی زون کی مینجمنٹ کے حوالے سے بہت مؤثر اقدامات اٹھائے گئے، مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تنصیب تقریباً مکمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس کی ٹریننگ کی فوج نگرانی کررہی ہے جس کے تحت 40 ہزار پولیس اہلکاروں اور 7ہزار لیویز کے جوانوں کی ٹریننگ کی گئی، ایک جامع نظام نصب کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال سے تعلق بنتا ہے لیکن اس وقت پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ ان حملوں میں ملوث عناصر کی قیادت افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہے اور انہیں را اور بھارت کی مکمل سپورٹ حاصل رہی ہے لیکن یہ حملے ان کی جھنجلاہٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پچھلے 20سال میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور اس دوران 86ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ 152ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا ہے۔ اس جنگ میں ہم نے ہزاروں آپریشنز کر کے 46ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرایا، اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور میں آج پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں آج کوئی بھی منظلم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت اور سہولت کاری کے سدباب کے لیے قانون سازی ہوئی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی معاونت اور خطے میں امن کے حوالے سے کلیدی اور تعمیری کردار کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر لگائی گئی باڑ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے بھی یکساں فائدہ مند ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف نے اسے امن کی باڑ کہا ہے کیونکہ یہ کسی کو تقسیم نہیں کررہی بلکہ امن کو فروغ دے گی۔ پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں اور ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے دیں گے اور نہ کسی کی سرزمین اپنے خلاف استعمال ہونے دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوستان کا افغانستان میں اثرورسوخ بہت زیادہ ہے اور انہوں نے اس کا استعمال بھی کیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے افغانستان میں جو اربوں کی سرمایہ کاری کی اس کا مقصد وہاں اپنے قدم جما کر پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا۔
موجودہ صورتحال پر بھارت کے رویے اور ان کی جانب سے دیے جانے والے بیانات سے عیاں ہو چکا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے انتہائی جھنجلاہٹ کا شکار ہیں اور سب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس تمام تر صورتحال کو بھارت خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں چاہے کسی کی بھی حکومت ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر افغانستان مستحکم ہے تو بھارت کے لیے وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنا مشکل ہو گا اور وہ اس پورے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔
افغانستان کے نائب صدر امر صالح کی جانب سے پاک فضائیہ کی جانب سے افغان ایئرفورس کو دھمکانے کے الزام کو پاک فوج کے ترجمان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان انتہائی غیرذمے دارانہ ہے جس کو میں پورے وثوق کے ساتھ مسترد کرتا ہوں۔ تمام ممالک اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے طریقے سے کارروائی کرنے کا حق رکھتے ہیں، افغانستان کو بھی یہ حق حاصل ہے اور پاک فضائی کے حوالے سے دیے گئے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 26 جون کو کرم ایجنسی میں ایک ٹیلی کام کمپنی کے 16 مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، 10 کو انہوں نے اگلے دن چھوڑ دیا اور ایک کی لاش ملی تھی۔ پانچ مزدوروں کی بازیابی کے لیے وہاں آپریشن کیے گئے اور 11 جولائی کو ہم نے ان میں سے تین دہشت گردوں کو مار دیا جبکہ اس دوران ہمارے ایک کیپٹن اور سپاہی کی شہادت بھی ہوئی۔
ان شہادتوں کے باوجود ہم نے یہ آپریشن جاری رکھا اور بقیہ پانچ افراد کو بازیاب کرا لیا ہے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔