دو الگ الگ دنیائیں
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 17 / جولائی / 2021
- 9450
دنیا کے ان تمام بچوں کے نام کہ میں بھی ایک بچہ تھا اور ستاروں کو دیکھ کر ان کے پاس جانے کے خواب دیکھتا تھا ۔ آج میں اپنے کئی جوان ساتھیوں کے ہمراہ سپیس شپ میں ہوں، اور یہاں سے نیچے خوبصورت ، بلا کی خوبصورت زمین کا نظارہ کر رہا ہوں ۔
سوچیں اگر ہم یہ کرنے کے قابل ہو چکے ہیں تو اور کیا کیا نہیں کر سکتے۔۔۔۔ یہ الفاظ رچرڈ برینسن نے زمین سے 86 کلومیٹر اوپر خلائی حدود کے قریب پہنچ کر اپنے مداحوں سے کہے۔ گزشتہ ہفتے کمرشل خلا نوردی کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا گیا۔ ارب پتی رچرڈ برینسن اپنی کمپنی ورجن گلاکٹک کے ذریعے اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ اپنی ہی کمپنی کے تیار کردہ خلائی جہاز میں 90 منٹ کی خلائی پرواز پر گئے اور خیریت سے واپس زمین پر پہنچے ۔ کمرشل خلا نوردی پر گزشتہ دو دہائیوں سے کام ہو رہا ہے۔ 60 کی دہائی میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے بعد سپیس میں قدم جمانے کا عمل تیزی سے شروع ہوا۔ سپیس اسٹیشن ، خلائی مشنوں سمیت خلائی سفر اور زمین کے گرد سیٹیلائیٹ وغیرہ سپیس ٹیکنالوجی کی حامل بڑی طاقتیں ہی سرکاری سطح پر متحرک رہیں۔ خلائی برتری کی دوڑ شروع ہوئی تو یہ سرگرمیاں تیز تر ہوتی چلی گئیں ۔ فوجی اور دیگر کمرشل مقاصد کے لئےخلائی برتری کا یہ نیا میدان اب بڑی طاقتوں اور نجی سرمایہ کاروں کے لئے نئی دنیا ہے۔
اس نئی دنیا میں کمرشل خلا نوردی یا خلائی سفر ایک خواب ، کاروبار اور مہم کی صورت میں بہت سے سرمایہ کاروں کے حواس پر چھایا ہوا ہے۔ خلائی سفر اور مہمات جو ماضی قریب تک سرکاری یا سرکار کی سرپرستی میں ممکن تھیں، اب اس پر نجی سرمایہ کاروں کے درمیان دوڑ لگی ہوئی ہے۔ جس رفتار سے ٹیکنالوجی میں پیش رفت ہو رہی ہے، کوئی دن جاتا ہے کہ کمرشل خلائی سفر عام سی بات ہوگی۔ گو ابتدائی سالوں میں یہ سفر بہت مہنگا ہو گا۔ مگر ٹیکنالوجی میں دھڑا دھڑ ہونے والی نئی ایجادات کے سبب اخراجات عام دسترس میں آنے کی توقع ہے۔
کمرشل خلائی سفر میں پہل اور سبقت کی دوڑ میں دنیا کے تین ارب پتی اور ان کی ٹیکنالوجی کمپنیاں سب سے نمایاں ہیں ۔ ورجن ائیر کے رچرڈ برینسن، امازون کے جیف بیزوس اور سپیس ایکس کے ایلن مسک ۔ تینوں کمپنیاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری اور سالوں سے ریاضت کر رہی ہیں ۔ تینوں کے انداز اور اہداف اپنے اپنے اعتبار سے قدرے مشترک اور کچھ منفرد بھی ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق خلائی سفر اور خلائی امکانات نہایت ٹیکنیکل اور سنجیدہ موضوع ہے مگر ارب پتیوں کی دوڑ میں ساری توجہ اس کے زرق برق میڈیا کوریج تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
رچرڈ برینسن کی کمپنی نے 2022 سے خلائی پروازوں کے لئے 600 سے زائد ٹکٹیں 240000 امریکی ڈالرز کے حساب سے ایڈوانس فروخت کی ہیں۔ امیزون کے جیف بیزوس نے کمرشل ایڈوانٹیج اور سبقت کے نکتہ نظر سے ابتدائی قیمت دو لاکھ ڈالرز مقرر کی ہے۔ ان کا ٹارگٹ ہے کہ اس قیمت کو بالآخر چالیس ہزار ڈالرز تک لایا جا سکے تاکہ خلائی سفر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہنچ میں ہو سکے۔
رچرڈ برینسن کی خلائی پرواز پر دو نمایاں اعتراض ہوئے۔ اول: ان کا سپیس شپ زمین سے 86 کلومیٹر تک اوپر محو پرواز ہوا۔ خلائی مسافروں نے کچھ دیر کے لئے خلا میں ہونے کے سبب بے وزنی کی کیفیت کو بھی انجوائے کیا لیکن تکنیکی اعتبار سے وہ خلا میں داخل نہیں ہوئے بلکہ اسے چھو کر آئے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے خلا کی حد زمین کی سطح سے ایک سو کلو میٹر کے فاصلے سے شروع ہوتی ہے۔ امیزون کے پروجیکٹ کی خلائی پرواز زمینی سطح سے ایک سو کلومیٹر کے مطابق ڈیزائن اور پلان کی جا رہی ہے۔ ایلن مسک کا منصوبہ اس سے بھی کچھ اوپر جانے کا ہے۔
دوسرا اعتراض: ٹائمنگ کے اعتبار سے یہ خلائی سفر نامناسب تھا۔ پوری دنیا کووڈ19 کو مصائب کا سامنا ہے۔ کئی ممالک بہت شدید متاثر ہیں جب کہ دیگر ممالک جہاں اس کے اثرات قدرے کم یا کنٹرول میں ہیں وہاں بھی زندگی نارمل نہیں۔ ورلڈ بنک سمیت بہت سے ادارے اور سروے چیخ چیخ کر دہائی دے رہے ہیں کہ کووڈ 19 نے درمیانے اور نچلے طبقات کی زندگیوں کو شدید زک پہنچائی ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ معاشی اور معاشرتی نظام شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں پہلی کمرشل خلائی پرواز کا تاریخی معرکہ کچھ عرصے کے لئے مؤخر ہوجاتا تو کوئی ہرج نہ تھا۔ کووڈ 19 کے متاثرین کے سامنے کامیابی کے جشن اور میڈیا پر ہاو ہو ان کے ذہنی دباؤ اور مصائب پر ایک بے مہر تازیانہ تھا۔
رچرڈ برینسن کا جواب اپنی جگہ مگر سوال اتنا غلط بھی نہیں۔ اس۔سوال کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ جانا جائے کہ رچرڈ برینسن کی بھی وہی دنیا ہے جس کی بابت سے جتلایا جا رہا ہے۔ رچرڈ برینسن کی دنیا سمجھنے کے لئے ایک معروف موٹیویشن تھیوری کا حوالہ یہ گتھی سلجھانے میں معاون ہو سکتی ہے۔ معاشیات اور نفسیات میں گزشتہ صدی چالیس کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات ابراہام میسلو نے ایک انتہائی اہم تھیوری پیش کی۔ موٹیویشن تھیوری کے سلسلے میں انہوں نے انسان کی تمام ضرورتوں کو پانچ کیٹیگریز میں تقسیم کیا۔ ان کیٹیگریز کی ترتیب کے لئے انہوں نے ایک پیرامڈ کی صورت میں انہیں ترتیب دیا۔ اس تھیوری کو
Hierarchy of Needs
کہا جاتا ہے۔
میسلو نے انسانی ضروریات کو پانچ کیٹیگریز میں یوں تقسیم کیا ہے: بنیادی ضروریات کی دو کیٹیگریز میں کھانے پینے، رہنے سہنے، رہائش، امن اور سلامتی شامل ہیں۔ نفسیاتی اور ذہنی ضرورتوں کے دوسرے گروپ میں دو کیٹیگریز ہیں جو انسانی شناخت، رشتوں، تعلقات، دوستی، عزت، احترام اور پہچان سے متعلق ہیں ۔ پانچویں اور سب سے اوپر کیٹیگری نجی اطمینان یعنی انسانی کی اپنی ذات کی رفعت، اپنے خوابوں اور تخلیقی معراج کا حصول شامل ہیں ۔رچرڈ برینسن کی دنیا اس کیٹیگری میں سب سے اوپر والی سطح پر ہے جو ایک الگ دنیا ہے۔
دنیا میں غربت کا عفریت بے قابو ہو رہا ہے۔ سالانہ غربت رپورٹ کے مطابق دنیا کے ٹاپ ایک فیصد لوگوں کے پاس دنیا کی کل دولت کا دو تہائی سے بھی زائد ہے۔ اسی پچاسی افراد دنیا کے پچاس فیصد لوگوں کی مجموعی دولت سے بھی زائد کے مالک ہیں ۔ ورلڈ بنک کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق کرونا کی وبا کی وجہ سے پینتیس کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے لڑھک گئے۔ ایک اور جائزے کے مطابق کئی ملکوں میں درمیانے طبقے کے معیار زندگی کو بھی شدید جھٹکے لگے ہیں ۔ غربت اور کووڈ19 کے جبر تلے بسنے والوں کی دنیا ایک الگ دنیا ہے۔ اس دنیا کے مسائل اور خواب رچرڈ برینسن کی دنیا سے بالکل الگ ہے۔
اس پس منظر میں دیکھیں تو ارب پتی رچرڈ برینسن کی ٹائمنگ کے بارے میں بے اعتنائی سمجھ میں آتی ہے۔ اس کے ہاں اور اس جیسے اور بے شمار ارب پتیوں کے پاس اور طرح کے مسائل ہیں، پہل کی دوڑ ہے، سبقت لے جانے کا جنون ہے، تاریخ میں نام لکھوانے کا سودا ہے۔ یہ ان لوگوں کی دنیا ہے جب کہ ایک دوسری دنیا ہے جہاں بیماری اور بھوک کی گرفت ڈھیلی ہی نہیں ہو پاتی ۔ دنیا کبھی بھی مساوات کی علمبردار نہ تھی مگر جس قدر عدم مساوات اب ہے، ایسی بھی کبھی نہ تھی۔ یہ دو دنیائیں ساتھ ساتھ لمبا عرصہ جی پائیں گی؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم تر ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو ایک سالوں کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں میں مایوس کن گورننس اور تلخ زندگی سے گھبرا کر مظاہرے اس امر کا اشارہ ہیں کہ اس الگ دنیا کے باسیوں کی برداشت جواب دے رہی ہے ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بالائی طبقے اپنی الگ دنیا کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ورلڈ آرڈر میں ہونے والی تبدیلیاں نئی صف بندیوں کی غماز ہیں۔ ان تبدیلیوں سے یقیناً بالائی دنیا کی ترتیب اور ہئیت کچھ تبدیل ہو جائے گی مگر یہ الگ الگ دنیائیں بدستور ساتھ ساتھ قائم رہیں گی۔۔