سابق گورنر سندھ ممتاز بھٹو انتقال کرگئے
- اتوار 18 / جولائی / 2021
- 4900
سابق گورنر سندھ اور سینئر سیاستدان ممتاز علی خان بھٹو 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
ممتاز بھٹو کے ترجمان ابراہيم ابڑو نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ ممتاز بھٹو کا انتقال کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ممتاز بھٹو کی میت ان کے آبائی علاقے لاڑکانہ منتقل کی جارہی ہے جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔
ممتاز بھٹو نے 1960 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اولین رکن کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ ممتاز بھٹو نے 1940 کی قراردادِ پاکستان کے تحت صوبائی خودمختاری کی حمایت کی اور اس کے حصول کے لیے پوری زندگی جدوجہد کی اور یہ انہی کی سیاسی کامیابی ہے کہ اب پارلیمنٹ اور سینیٹ میں بھی ہمیں صوبائی خود مختاری کی گونج سنائی دیتی ہے۔
مرحوم نے سوگواران میں ایک بیوہ اور 2 بیٹوں سمیت 4 بچے چھوڑے ہیں، ان کی پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے. جن سے ممتاز بھٹو کا ایک بیٹا امیر بخش بھٹو ہے جو اب پی ٹی آئی کے رہنما بھی ہیں۔ ممتاز بھٹو کی دوسری اہلیہ سے ان کے دوسرے بیٹے علی حیدر بھٹو ہیں جو ایک صحافی ہیں۔
خیال رہے کہ ممتاز بھٹو سابق وزيراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کزن اور قریبی ساتھی تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اولین قائدین میں سے ایک ہیں۔ ممتاز بھٹو وفاقی وزیر، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے ممتاز علی بھٹو کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سردار ممتاز علی بھٹو کے انتقال پر افسوس ہوا، اس غم میں ان کے اہلخانہ کے ساتھ شریک ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے سابق گورنر سندھ اور ممتاز سیاسی رہنما ممتاز علی بھٹو کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔