افغان سفیر کی بیٹی کا اسلام آباد میں اغوا اور تشدد

  • اتوار 18 / جولائی / 2021
  • 6280

پاکستان میں افغان سفیر کی صاحبزادی کے مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی اسلام آباد کی کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی گئیں اور وہاں سے دامن کوہ تک پہنچیں، سیف سٹی کیمروں کا ریکارڈ موجود ہے اور دو ٹیکسی ڈرائیورز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کھڈا مارکیٹ اسلام آباد کی وہ مارکیٹ ہے جہاں گاڑیوں کی مرمت کے لیے ورکشاپس موجود ہیں اور اس پوری مارکیٹ میں کوئی شاپنگ مال نہیں ہے۔ شیخ رشید نے بتایا کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا واقعہ 16 تاریخ کو پیش آیا۔ لڑکی کے بیان پر تھانہ کوہسار میں اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ امید ہے کہ ملزمان کو ایک دو دن میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سیف سٹی کیمروں کا ریکارڈ ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلی اور اسلام آباد کی کھڈا مارکیٹ تک ٹیکسی پر آئی۔ اور وہاں سے اس نے ایک اور ٹیکسی لی اور فوٹیج کے مطابق وہ راولپنڈی گئی۔ راولپنڈی جانے کے بعد وہاں سے دامن کوہ پہنچی۔ راولپنڈی میں شاپنگ مال سے نکلنے کی فوٹیج بھی موجود ہے۔ لیکن راولپنڈی سے وہ دامن کوہ تک کیسے پہنچی اس بارے میں ابھی تفصیلات نہیں ہیں۔

افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی سالگرہ کے لیے تحفہ لینے پیدل گھر سے نکلیں اور دو منٹ کی واک کے بعد ایک ٹیکسی لی۔ تحفہ خریدنے کے بعد گھر واپس آنے کے لیے ٹیکسی کے انتظار میں تھیں کہ ایک ٹیکسی میرے سامنے آ کر رکی اور میں اس میں سوار ہو گئی۔ پانچ منٹ کے بعد ٹیکسی رکی اور اس میں ایک اور شخص سوار ہو گیا۔

سلسلہ علی خیل کے بقول میرے احتجاج پر سوار ہونے والے شخص نے منہ بند رکھنے کا کہا اور کہا کہ تم اسی کمیونسٹ کی بیٹی ہو، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے اور کسی دن پکڑ لیں گے۔ بات کرنے کے دوران مذکورہ شخص نے مجھے دھکا دیا اور مارنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے میں خوفزدہ ہو گئی اور بے ہوش ہو گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب مجھے ہوش آیا تو میں کسی انتہائی گندی جگہ پر موجود تھی۔ مجھے سڑک نظر آرہی تھی۔ میں اس حالت میں گھر میں موجود کام کرنے والوں کی نظروں سے بچنے کے لیے براہ راست گھر نہیں جانا چاہتی تھی، اس لیے میں پارک کی طرف گئی اور وہاں سے میں نے اپنے والد کے ایک ساتھی کو فون کیا جو مجھے گھر لے آئے۔

واقعے پر اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں دفعہ 365، 354، 506 اور 34 دیگر کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ افغان سفیر کی صاحبزادی سے متعلق سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ایک ٹک ٹاکر کی زخمی حالت میں تصویر کو افغان سفیر کی صاحبزادی کہہ کر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا جس کے بعد ہفتے کی رات افغان سفیر نجیب علی خیل نے اپنی بیٹی کی تصویر ٹوئٹر پر جاری کی اور دیگر تمام تصاویر کی تردید کی۔