محدود تعداد میں عازمین نے فریضہ حج ادا کیا، مسجد نمرہ میں خطبہ حج
- سوموار 19 / جولائی / 2021
- 6340
سعودی عرب میں مسلسل دوسرے برس کورونا وائرس کے باعث محدود تعداد میں حج کی ادئیگی شروع ہوگئی ہے اور آج حجاج میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اس کا سب سے اہم رُکن وقوفِ عرفہ ادا کررہے ہیں۔
ماضی میں حج کے لیے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان سعودی عرب آتے تھے تاہم گزشہ برس شروع ہونے والی کورونا کی عالمی وبا کے باعث سخت احتیاطی تدابیر کے پیشِ نظر حج کے لیے محدود تعداد کو اجازت دی گئی ہے۔ اس سال حج کے لیے 18 سے 65 برس کے ایسے 60ہزار افراد کو آنے کی اجازت دی گئی ہے جو کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔
کورونا سے بچاؤ کے لیے سماجی فاصلے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ اور مسجد حرام میں جراثیم کُش اسپرے کے لیے روبوٹس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حاجیوں کو آبِ زم زم کی فراہمی کے لیے بھی روبوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حجاج کو اسمارٹ واچ سے ملتے جلتے خصوصی کڑے بھی پہنائے گئے ہیں جن کے ذریعے حج منتظمین سعودی عرب کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کی مدد سے حجاج کا آکسیجن لیول، ویکسین کا ڈیٹا وغیرہ مانیٹر کر رہے ہیں۔
اس آلے کے ذریعے حج کی معلومات حاصل کرنے اور ہنگامی حالات میں مدد کے لیے کال کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ حج کے لیے آںے والے 60 ہزار افراد کو 20 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور کم سے کم انسانی رابطے کے لیے انہیں کیمپوں، ہوٹل، بسوں سمیت دیگر سہولتوں کے استعمال کے لیے ’اسمارٹ حج کارڈ‘ فراہم کیے گئے ہیں۔
پورا دن عرفات میں گزارنے کے بعد سورج غروب ہوتے ہی عازمین منی اور عرفات کے درمیان مزدلفہ کے مقام پر رات کو کھلے آسمان کے نیچے قیام کریں گے۔
مسجد نمرہ میں شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ عاقبت مومنین کے لیے ہے، اللہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے حدیث بیان کی اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ گویا تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور ایسا ممکن نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
احسان کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اطاعت اختیار کرو اور اسی کی اطاعت میں جھکو، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، مسلمان اللہ ہی کی عبادت کرے، اسی سے مدد طلب کرے اسی سے دعا مانگے۔ اللہ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور اسی کے لیے قربانی کریں، اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی عبادت کریں اور اس نے جو کچھ اپنے نبیﷺ پر نازل فرمایا ہے اس کی اطاعت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ یومِ عرفہ کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ آج کے دن تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لیے دینِ اسلام کے لیے راضی ہوگیا۔ تم میں سے جو کوئی ماہ رمضان پائے اسے چاہیے کہ وہ ماہ رمضان کے روزے رکھے اور حج اسلام کا پانچواں ستون ہے، جس کی استطاعت ہو اسے چاہیے کہ وہ حج ادا کرے۔
اللہ پر ایمان لائیں، اللہ کے فرشتوں پر ایمان لائیں، اللہ کی کتابوں پر ایمان لائیں، اللہ کی تقدیر پر ایمان لائیں اور ہر اچھی بری تقدیر کو تسلیم کریں۔ اللہ کی عبادت بجا لائیں، اللہ کی اطاعت کریں اور اسی سے مدد مانگیں۔ قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ تمارے لیے مسخر کردیا ہے جسے تم حکم الہیٰ سے آسانی سے تسخیر کرسکتے ہو۔
اس کے لیے اللہ نے تمہیں آنکھیں، دل اور عقل دی ہے جس کے ذریعے تم کائنات کو مسخر کرسکتے ہو۔ اللہ نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اللہ نے قرآن مجید میں اس کا ارشاد یوں فرمایا کہ ہم نے اہل ایمان پر ہم نے احسان فرمایا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ہماری آیات پڑھ کر انہیں سناتا ہے، حکمت کی باتیں سکھاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
اللہ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ تم احسان کرو، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایمان والوں کو بشارت دو کہ اللہ کی رحمت بہت قریب ہے، جنہوں نے احسان کیا اللہ انہیں قیامت کے دن اور زیادہ عطا فرمائے گا، یہی احسان کرنے والے لوگ حقیقی معنوں میں جنت والے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حجاج کرام دعا کریں تو اپنے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ممالک و شہروں کے لیے بھی دعا کریں کیونکہ آپ جب دعا کرتے ہیں تو آسمان اور زمین کے فرشتے فخر کرتے ہیں۔ خطبہ حج کے اختتام پر اللہ کی حمدو ثنا، مناسک حج کو بیان کرنے کے بعد اذان ظہر دی گئی۔
واضح رہے کہ رواں سال خادم حرمین شریفین نے شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ کو عرفات کا خطبہ دینے کے لیے مقرر کیا ہے۔
مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے۔ آٹھ ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔ 9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔