مُلحد مذہبی معاشرے
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 19 / جولائی / 2021
- 23780
یوں تو برِصغیر میں بھانت بھانت کے مذہبی معاشرے ہیں، جن میں مودی اور آر ایس ایس کا ہندوتوا کا معاشرہ بھی ہے لیکن میں اپنی بات کرتا ہوں۔ روایت کے مطابق کسی بھی اسلامی مذہبی معاشرے کا آغاز آمنت ُ باللہ سے ہوتا ہے ۔
اور جان لینا چاہیے کہ اللہ نہ تو کسی آرائشی خط میں لکھا ہوا کوئی قلمی طُغریٰ ہے جسے کمرے کی دیوار پر آویزاں کیا جاتا ہے اور نہ کوئی ایسا اسم ہے جس کا واحد استعمال یہ ہے کہ اِسے تسبیح کے دانوں پر شمار کیا جائے۔ اللہ قانون ہے، اس کائنات کا فطری، تخلیقی، انسانی اور اخلاقی قانون جس کی پابندی اطیعو اللہ کہلاتی ہے اور جو معاشرے اطیعواللہ کی پابندی نہیں کرتے وہ ملحد ہوتے ہیں۔ اور تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مذہبی معاشروں کی غالب افرادی قوت کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ اللہ حاضر و ناظر ہے۔ وہ ہر بات سُن رہا ہے اور ہر ایک کے عمل کو دیکھ رہا ہے ، وہ ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے ۔ اور اللہ پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ہر اہلِ ایمان اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اُس کے احکامات کو سن رہا ہے۔ جو شخص دل سے اس بات کو تسلیم کرتا ہے وہ اللہ سامنے نہ تو جھوٹ بولتا ہے، نہ گالی دیتا ہے اور نہ ہی بدکلامی کرتا ہے اور چونکہ وہ اللہ کے حاظر ناظر ہونے کو صدقِ دل سے تسلیم کرتا ہے اس لیے وہ اللہ کی آنکھوں کے سامنے کوئی بے حیائی اور بد کاری نہیں کرتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رب کے حضور میں رشوت، کرپشن، زنا اور قتل و غاری کرتا یا اپنے بھائی کا کوئی بھی حق غصب کرتا ہے ، وہ اندھا ہے، بہرہ ہے، بے ایمان ہے اور ملحد ہے۔ وہ آدمی کی کھال میں درندہ ہے، جاہل ہے اور اللہ کا غدار ہے۔
اب اللہ رب العزت کے ایک دوسرے قانون کا ذکر کرتے ہیں۔ اس قانون کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ: لعنت اللہ علی الکاذبین۔ جھوٹ بولنے والے پر آسمان سے لعنت برستی ہے۔ یہ لعنت وہ پھٹکار ہے جو اصل انسانی چہرے کو تو مسخ کر دیتی ہے مگر اس کا خاکہ باقی رہ جاتا ہے۔ ر جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جھوٹوں کے گروہ اور حلقے لعنتی ہوتے ہیں اور اس قسم کے معاشرے میں مذہب کا مفروضہ سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لوگ مذہب کی عملی پابندی تو نہیں کرتے مگر دعوے بڑے بڑے کرتے ہیں اور خود مذہب کے علمبردار،، شارح اور چیمپیئن کہتے نہیں تھکتے۔ ایسے لوگوں کے مذہبی اجتماعات، مجالس اور محفلیں جھوٹ کی تقاریب ہوتی ہیں ۔
مذہبی دعوے کے بارے میں اللہ نے اپنی کتاب میں ایک قانون وضع کر کے نافذ کردیا ہے کہ (لما تقولون ما لا تفعلون) جس قانون پر تم عمل نہیں کرتے اُس کو زبان پر مت لاؤ۔ اگر تم عمل کے مسلمان نہیں ہو تو خالی خولی باتیں نہ بناؤ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ عمل کیے بغیر کسی بات کو زبان پر لانا بد ترین جھوٹ ہوتا ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احکامِ الٰہی کا گھر انسانی اعمال ہیں اور اگر اُنہیں اعمال کے گھروں میں نہ بسایا جائے تو وہ واپس آسمانوں کو لوٹ جاتے ہیں اور زمین پر وہی رہ جاتا ہے جس پر لوگ عمل پیرا ہوں ۔ چنانچہ جو معاشرہ جتنا توحید پرست ہوتا ہے وہ اُتنا ہی اطاعت اللہ کا پابند ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں میں خُدا کے قوانین کے بے حُرمتی نہیں کی جاتی کیونکہ ایسا کرنا انتہائی برائی اور بے حیائی کی بات ہے۔
ملحد معاشروں کی ایک اور نشانی یہ ہوتی ہے کہ صبر وہاں سے رُخصت ہوجاتا ہے ،کیونکہ اللہ نے ان اللہ مع الصابرین کا حُکم جاری کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے جو اہلِ صبر و رضا ہوں۔ چنانچہ لوگ خواہ ایمان لانے کے لاکھ دعوے بھی کریں مگر اُن کے اللہ کے مابین صبر و رضا کا رشتہ نہ ہو، تب تک اللہ اور بندے کے درمیان حجاب حائل رہتا ہے۔ ایسے مذہبی معاشرے اپنے مسلمان ہونے کے دعوے کی صداقت کا ثبوت مہیا نہیں کرسکتے بلکہ مذہب کا ناٹک رچانے والے ایسے معاشرے زمین کا بد ترین بوجھ ہوتے ہیں اور خُدا ایسے معاشروں پر رحمت کے فرشتوں کی پرواز معطل کردیتا ہے جس سے لوگ اپنی اپنی جعلسازی کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں۔ کیونکہ خُدا کو یہ ہر گز پسند نہیں کہ اُس کے نام پر کفر، منافقت ، جہالت اور لاقانونیت کو معاشرے کے تاروپود میں انجکٹ کیا جائے لیکن پچھلے بہتر سال سے جو کچھ ہورہا ہے اور جس جس طرح خُدا کے قوانین کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں ، اُس پر آسمان کا ردِ عمل لازمی ہو رہا ہے۔
ملحد معاشروں کی سب سے واضح اور نمایاں نشانی اُس کے قانون ساز اداروں اور اُن میں بیٹھے لوگوں کا بیانیہ ، ایک دوسرے سے طرزِ تخاطب اور اندازِ گفتگو ہوتا ہے اور جن معاشروں میں قرآن کے مجوزہ اصولوں کے مطابق گفتگو اور بحث و استدلال نہیں ہوتا اُس پر نحوست برستی ہے۔ قرآن نے اندازِ تخاطب اور طرزِ گفتگو کے بارے میں جو فارمولا وضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ (قولو للناسِ حُسنا) یعنی لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے گفتگو کرو مگر پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقے اس قانون کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔ سماجی تصویر کہتی ہے کہ ہمارے یہاں لفظی سرزنش، الزام تراشی، بہتان طرازی اور گالی گلوچ لوگوں کا روز مرہ ہیں۔ اور جہاں ایسا ہو جائے وہاں سے خدا رخصت ہوجاتا ہے اور الحاد باقی رہ جاتا ہے۔
اب اس تحریر کے آخر میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں مفتی ہوں، نہ قاضی اور نہ ہی عالم و فاضل بلکہ اللہ کا ایک عاجز اور مجبور بندہ ہوں۔ میں اپنے رب سے رابطے میں رہنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہوں اور یہ تحریر میرے براہِ راست مشاہدے کا حاصل ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو کفر و الحاد جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھے۔ اور اب آخر میں میرے مراقباتِ شبِ رفتہ:
خُلا کیا ہے، مری جاں وقت کیا ہے
خُدا جانے خُدا کا تخت کیا ہے
زمیں سے آسماں تک کے سفر میں
پہننا ہے مجھے جو رخت کیا ہے؟
ملائم، نرم، شیریں گفتگو میں
جو پتھر کی طرح ہے سخت، کیا ہے
کسی طبی محقق کو خبر کیا
دلِ دو نیم کیا، دو لخت کیا ہے
تو کیا آئن سٹائن جانتا تھا؟
زمیں زادوں کا آخر بخت کیا ہے؟