چلتے ہوتو وادی نیلم کو چلئے

یوں تو سارا کشمیر ہی قدرتی خوب صورتی سے مالا مال ہے لیکن قدرت نے جوفطری حسن وادی نیلم کو ودیعت کیا ہے،وہ کشمیر میں کسی اور وادی کے حصے میں نہیں آیا۔ مسحور کن خوب صورتی اور فطری حسن سے مالامال نیلم ویلی کا شمار دنیا کی حسین ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔

اس وادی میں آپ جا بجاحسین و جمیل اور سحر انگیز نظاروں کے علاوہ ٹھنڈے میٹھے چشموں، جھاگ اڑاتے شوریدہ پانیوں اور بلندی سے گرتی دل کش آب شاروں کو دیکھتے ہیں اور وادی کے ساتھ ساتھ بہنے والادریائے نیلم تو اس وای کے جھومر کی حیثیت رکھتا ہے۔مظفر آباد سے دریائے نیلم کے ہمراہ چلتے چلتے جہاں ایک طرف وادی نیلم کی خوب صورتی تہہ در تہہ کھلتی جاتی ہے، وہیں دریائے نیلم کی خوب صورتی اور دل کشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔کشمیر کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بارشیں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں موجود پہاڑاور جنگلات اتنے سرسبز وشاداب ہیں کہ ان کی دل کش خو ب صورتی آنکھوں کو خیرہ کیے رکھتی ہے۔ مشہور گیت کے بول ہیں " تیرے چہرے سے نظر نہیں ہٹتی، نظارے ہم کیا دیکھیں  " لیکن وادی نیلم میں معاملہ برعکس ہو جاتا ہے۔ وادی نیلم میں ایسے فطری حسن والے مقامات کی کمی نہیں جہاں خوب صورت اور دل جو محبوب کی رفاقت میسر ہوتے ہوئے بھی آپ یہاں کے دل کش و مسحور کن نظاروں کے سحر میں کھوجانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

 وادی نیلم میں سیاحت کے لیے جانے والوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ مظفر آباد سے 33کلومیٹر کے فاصلے پرمرکزی شاہراہ پر آنے والی دھانی واٹر فال پر تھوڑی دیر کے لیے ضرور ٹھہریں۔خاصی بلندی سے گرنے والی اس آبشار کا ٹھنڈا پانی آپ کو ایک دم فریش اور کول کر دے گا۔ دھانی واٹر فال سے نکلنے کے کوئی سات کلومیٹر کی مسافت پر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ آجاتا ہے۔نوسیری کے علاقے میں موجود اس پاور پلانٹ کا زیادہ تر سیاح گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی نظارہ کرتے ہیں تاہم وقت ہو تو یہاں چند منٹ رک کے اس پراجیکٹ کواچھی طرح دیکھ لینا چاہیے۔تین سیکشنز پر مشتمل اس پاور پراجیکٹ کا پہلا سیکشن یہاں تعمیر کیا گیا ہے۔یہاں دریائے نیلم کا پانی روکنے کے لیے ایک جھیل بنائی گئی ہے۔اس جھیل سے پانی زیر زمین ٹنلزمیں داخل ہوتا ہے اور یہ پانی تقریبا پچاس کلومیٹر طویل ٹنل سے گزر کر بجلی پیدا کرنے والی ان ٹربائنوں پر جا گرتا ہے جو مظفر آباد کے قریب نصب ہیں۔

نوسیری سے 45منٹ آگے چلتے ہوئے خوب صورت مقام کنڈل شاہی آتا ہے۔ کنڈل شاہی بازارسے بائیں ہاتھ اوپر کی طرف نکلنے والی سڑک پر ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نہایت ہی دل کش آبشار آتی ہے جسے کنڈل شاہی واٹر فال المعروف کٹن واٹر فال کہتے ہیں۔ جاگراں پاور پراجیکٹ کے لیے بنائی گئی اس خوب صورت ترین واٹرفال کا ٹھنڈا یخ پانی اتنے پریشر سے نیچے گرتا ہے کہ اس کی پھوار آپ کے چہرے کو فرحت انگیز تازگی بخشنے کے ساتھ ساتھ آپ کے دل و دماغ کو بھی معطر کر دیتی ہے۔کنڈل شاہی بازار سے مین روڑ پر رہتے ہوئے سیدھا آگے بڑھتے جائیں تو چند کلومیٹر آگے اٹھمقام آتا ہے جو نیلم کا ضلعی ہیڈ کواٹر ہے۔ اٹھمقام سے 12کلومیٹر آگے کیرن کا مشہور سیاحتی مقام آتا ہے۔یہاں سے بائیں ہاتھ اوپر کی جانب ایک سڑک "نیلم"نامی گاؤں کی طرف جاتی ہے جو خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔

کیرن سے بائیں ہاتھ اپر نیلم ویلج میں جانے کی بجائے سیدھا ہاتھ آگے بڑھتے رہیں تو تقریبا دس کلومیٹر دور دواریاں نامی خوب صورت گاؤں آتا ہے۔دواریاں سے رتی گلی جھیل کی طرف نکلتا ہے جس کا شمار پاکستان کی خوب صورت ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔12ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس دلکش جھیل کو دیکھنے کے لیے پورا ایک دن درکار ہوتا ہے۔عام طور پر شاردہ اور اس سے آگے، کیل، اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ جانے کا شیڈول بنائے ہوئے سیاح رتی گلی جھیل جانے کی بجائے دواریاں سے آگے چانگن اور ددھنیال سے ہوتے ہوئے رات تک شاردہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔شاردہ کا شمار وادی نیلم کے خوب صورت اور تاریخی مقامات میں ہوتا ہے۔یہاں دریا کے دونوں اطراف کافی آبادی ہے۔دریا کا پل عبور کر کے د وسری طرف تھوڑا اوپر چڑھیں تو آپ 2700سال قبل کی قدیم شاردہ پیتھ یا شاردہ یونیورسٹی کے کھنڈرات دیکھ سکتے ہیں۔وہاں پہنچ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں کیسے اس مندر کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔

پل کے اسی طرف بوٹنگ کا بھی بہت اچھا انتظام ہے۔شاردہ سے مزید آگے کی طرف بڑھتے جائیں تو19کلومیٹر کی مسافت کے بعد وادی نیلم کا  مشہور سیاحتی مقام کیل آتا ہے۔کیل بازار سے گذر کر سیاحوں کا واسطہ ایک دوراہے سے پڑتا ہے۔اوپر بائیں طرف جانے والی سڑک اڑنگ کیل نامی خوب صورت ترین گاؤں کی طرف لے جاتی ہے جب کہ نیچے سیدھا جانے والی سڑک مچھل سے ہوتی ہوئی وادی نیلم کے آخری سیاحتی مقام تاؤ بٹ تک جاتی ہے جس کا شمار وادی نیلم کے دل کش ترین مقام میں ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاردہ سے کیل، اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ کی طرف جاتے ہوئے آپ پر وادی نیلم اور کشمیر کا اصل حسن آشکار ہوتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خوب صورت و دل کش مقامات کی طرف جاتے یہ راستے خاصے کٹھن اور دشوار گزار ہیں۔خوابوں کی سرزمین کے نام سے مشہور اڑنگ کیل تک پہنچنے کے لیے کیبل کار(ڈولی لفٹ)کے زریعے ایک کلومیٹر کا سفر تو دلچسپ تجربہ معلوم ہوتا ہے تاہم دریا کے دوسری جانب جنگل میں گھرے پہاڑی ٹیلے پر30سے 45منٹ کی قدرے عمودی چڑھائی کا تجربہ بہت سوں کے اوسان خطا کر دیتا ہے۔

اسی طرح کیل سے 63کلومیٹر کی دوری پر واقع تاؤ بٹ پہنچنے کے لیے چار گھنٹے کا دشوار گزار جیپ ٹریک ہے۔اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ کے راستے پرپیچ اور کٹھن ضرور ہیں تاہم ان دونوں مقامات کے حسن میں کچھ ایسی انفرادیت اور پراسراریت ہے کہ آپ کا یہاں سے واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔وادی نیلم کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں ابھی بہت کچھ انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہے۔ اکثر سیاح سڑک کے آس پاس رہنے پر اکتفا کرتے ہوئے وادی نیلم کی خو ب صورتی سے محظوظ ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ خوب صورت ترین مقامات کی طرف جانے والے راستوں کا خراب ہونا ہے۔رتی گلی جھیل اور تاؤ بٹ کی طرف جانے والے راستوں کو بہتر بنا لیا جائے تووادی نیلم جانے والے سیاحوں کی بڑی تعدادیہاں کے خوب صورت ترین مقامات کی طرف جانا شروع کر سکتی ہے۔

وادی نیلم میں غیر ملکی سیاحت کے ٖفروغ پانے کا بھی بہت پوٹینشل موجود ہے تاہم اس کے لیے سیاحتی انفراسٹرکچر اور ہوٹلز کے معیار ات کو بہترین بنانے کے ساتھ ساتھ مواصلات کی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔