داسو ڈیم واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں: وزیر داخلہ

  • منگل 20 / جولائی / 2021
  • 5230

وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکومت نے داسو میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور چینی حکومت اس سے مطمئن ہے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ 48 گھنٹے میں اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے وزارت خارجہ اور وزیر اعظم آفس بھیج چکی ہے۔

ہم نے 700 گھنٹے اسلام آباد اور راولپنڈی کی فوٹیج کو دیکھا، 200 سے زیادہ ٹیکسیوں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان چار ٹیکسیوں اور ان کے مالکان تک پہنچے ہیں تاہم ہمیں افسوس ہے کہ ہماری اتنی کوشش کے باوجود وہ خود یہاں سے چلی گئی ہیں البتہ ہم نے مقدمہ کیا ہے اور ریاست پاکستان یہ مقدمہ لڑے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہاں افغان سفیر کی بیٹی کا ہونا بہت ضروری ہے، حکومت پاکستان اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹے گی حالانکہ ان کی درخواست اور ہماری تفتیش میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کسی ٹیکسی میں کوئی آدمی نہیں بیٹھا اور ہماری تفتیش کے مطابق یہ اغوا کا کیس نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  افغانی اور بھارتی اس کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، افغانستان کے حالات ان ہی کا معاملہ ہے۔ افغانستان کی قوم جو فیصلہ کرے گی وہ ہمیں قبول ہے کیونکہ پاکستان کا امن افغانستان سے وابستہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے افغان سفیر کی تحقیقات کی تمام فوٹیج وزارت خارجہ کو دے دی ہیں، افغان سفیر کی بیٹی نے ہمیں جو فون دیا اسے مکمل صاف کرکے دیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو بدنام کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں، یہ ساری کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں، مخصوص بین الاقوامی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی رہے اسی لیے انہوں نے داسو جیسے اقدامات کیے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جوہر ٹاؤن کا واقعہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) سے ایک روز قبل کیا گیا، داسو کا واقعہ جے سی سی اجلاس سے ایک روز قبل کیا گیا اور افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ بھی پاکستان کی جانب سے منعقد کیے جانے والے افغان کانفرنس سے چند روز قبل کیا گیا۔ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ ہے۔