خطے کی سیاست کے لئے افغانستان کا چیلنج

افغانستان کے بحران کی ذمہ داری امریکہ اور افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے جو وہاں داخلی استحکام قائم کرنے میں ناکام رہے اور اب سیاسی طالبان  سے تصفیہ کرنے میں ناکام  ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ  افغان حکومت سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔اس کے علاوہ  بھارت کو بھی افغانستان کے موجودہ بحران اور طالبان کی سیاسی برتری پر کافی تشویش ہے۔ بھارت  نے اس ملک میں  بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔  اس کے باوجود بھارت وہاں پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا۔اسی طرح امریکہ  و افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ مختلف ادوار میں مختلف نوعیت کے مذاکرات کیے، مگر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا۔اس وقت افغان حکومت اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اپنی ناکامی کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالتی ہے۔ افغان حکومت بھارت  کی مدد سے چلائے جانے والا افغان میڈیا  میں افغانوں میں یہ سوچ اور فکر پیدا کررہا ہے کہ افغان امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔

سابق امریکی صدر بش اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بقول سیاسی تصفیہ کے بغیر امریکی انخلا بنیادی طو رپر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی کی ناکامی ہے۔  امریکہ  افغانستان اور اس پورے خطہ کو ایک  انتشار،بدامنی، لاقانونیت، تشدد اور ٹکراؤکی طرف دھکیل رہا ہے۔یہ مطالبہ امریکہ سے پاکستان کا بھی تھا کہ امریکہ ماضی کی غلطی دہرانے  کی بجائے انخلا سے قبل سیاسی تصفیہ کو ممکن بنائے۔دوسری طرف امریکہ  کے تھنک ٹینک میں یہ سوچ پختہ ہوئی کہ موجودہ  افغان حکومت  بحران کے حل میں  سیاسی بوجھ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ انخلا کے بعد کہہ رہا ہے کہ افغان بحران ہم نے نہیں بلکہ افغان حکومت اور طالبان نے مل حل  کرنا ہے اور دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کی اپنی ساکھ کیا ہے او رامریکی حمایت کے بغیر اس کی داخلی سطح پر کوئی بڑی حیثیت نہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغان حکومت تنہا  ہے۔

افغان حکومت، افغان صدراو ران کے سیکورٹی مشیر کی جانب سے مسلسل پاکستان پر تنقیدکی جاتی ہے اور اسے حالات کا ذمہ دار قراردیا جاتا ہے۔ اس پر پاکستان کا سخت ردعمل فطری تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ازبکستان میں ہونے والی کانفرنس میں  افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صاف، شفاف او رکھلے اندازمیں جواب دیا  اور ان کو عملی طور پر آیئنہ بھی دکھایا۔ وزیر اعظم عمران خان نے پانچ اہم باتیں کیں۔ اول دراندازی پاکستان سے نہیں بلکہ  افغانستان سے ہورہی ہے، دوئم ڈاکٹر اشرف غنی یا ان کی حکومت کی جانب سے افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہوگی او رہم افغان حکومت کی سوچ، فکر او رالزام تراشی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔سوئم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کا  کریڈٹ ہے او رہمارے علاوہ اس میں کسی او رنے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ چہارم ہم نے افغانستان کے امن میں سب سے زیادہ جانی، مالی او رانتظامی قربانی دی۔اسے تسلیم کرنے کی بجائے ہمارے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھنا یا ہم پر الزام عائد کرنا افغان امن کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔پنجم ہم پر اس الزام کی کوئی صداقت نہیں کہ ہم کسی ایک گروپ کی حمایت کررہے ہیں ہماری کوشش تمام فریقین میں باہمی اتفاق رائے پیدا کرنا اور افغان امن کو یقینی بنانا ہے کیونکہ افغان امن متاثر ہونے کی صورت میں سب سے زیاد ہ پاکستان متاثر ہوگا۔

اس سے قبل پاکستان امریکہ،افغان حکومت اور دیگر بڑی طاقتوں کے سامنے افغان بحران کے حل میں اپنا بیانیہ پیش کرچکا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہم  امن کے شراکت دار تو بن سکتے ہیں جنگ کے نہیں۔اسی طرح اس نقطہ کو بھی پیش کیا گیا کہ ہم افغان امن میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں ضامن کا نہیں او راب ہماری توجہ کا مرکز خطہ میں معاشیات کی بنیاد پر تعلقات کو قائم کرنا ہے اور ٹکراؤ  یا تنازعات کے کھیل کاہم حصہ نہیں بننا چاہتے۔کیونکہ ہم جیو سٹرٹیجک سے نکل کر جیو اکنامک کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب افغان حکومت کا  بھروسہ بھارت پر ہے او روہ بھارت کی مدد کو بنیاد بنا کر اپنے کارڈز کھیلنا چاہتا ہے۔ بھار ت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اسے افغانستان میں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے تو افغانستان کو غیر مستحکم کرنا اس کا اہم ایجنڈا ہوگا۔کیونکہ بھارت سمجھتا ہے کہ افغانستان کے عدم استحکام کا منفی اثر پاکستان او را س کی معاشی ترقی سمیت سی پیک  پر ہوگا۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر طالبان حکومت میں آتے ہیں تو بھارت طالبان مخالف قوتوں کی سرپرستی کرکے افغانستان او رپاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔

ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحا ل کے پیش نظر پاکستان، روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں بھی  صلاح و مشورہ جاری ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان ممالک کے ساتھ مل کر افغان امن میں باہمی تعاون چاہتے ہیں او را ن کا حالیہ دورہ ازبکستان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔یہ اچھی بات ہے کہ اب افغان عمل میں علاقائی ممالک کی اہمیت  بڑھ رہی ہے اور ان کی اپنی دلچسپی بھی ظاہر کرتی ہے وہ افغان امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ افغان امن کے لیے امریکہ نے بھی پاکستان کے ساتھ مل کر چار ملکی فورم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں امریکہ او رپاکستان کے علاوہ افغانستان اور ازبکستان بھی شامل ہوں گے۔اسی طرح طالبان کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ وہ جنگ کی بجائے مذاکرات کے زریعے افغان مسئلہ کے حل کو ترجیح دیں گے اور بزور طاقت کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

 بظاہر لگتا ہے کہ طالبان کو بھی یہ انداز ہے کہ  کابل فتح کرنے یا اپنی حکومت کے جھنڈے گاڑنے سے عالمی برادری کی حمایت مشکل ہوگی۔ پاکستان سمیت کئی ممالک بھی سمجھتے ہیں کہ خالصتاً طالبان حکومت مسئلہ کا حل نہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان جو اپنی فتح میں بہت آگے تک جاچکے ہیں وہ کیونکر  افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے اقتدار کی حصہ داری چاہیں گے۔اصل میں تو متفقہ یا اتفاق رائے کی حکومت اگر پہلے کسی تصفیہ کی صورت میں بن جاتی تومسئلہ حل ہوسکتا تھا۔ اب لگتا ہے کہ وقت بھی کافی تیزی سے بدل گیا ہے اور طالبان بھی کافی حد تک اپنی پوزیشن کو مضبوط بناچکے ہیں او رامریکی انخلا کے بعد افغان حکومت ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر افغان بحران بدستور جاری رہتاہے او رصورتحال میں زیادہ کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو  وہ خود کو اس نئے بحران سے کیسے بچاسکے گا۔اس لیے پاکستان میں افغان بحران کے حل میں جو حساسیت یا تشویش پائی جاتی ہے وہ کافی حد تک اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔خدشہ یہ ہے کہ اگر جلد معاملات حل نہیں ہوتے تو پاکستان بھی اس بحران کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ  پاکستان نے بھی اسلام آباد میں تمام فریقین پر مشتمل افغان امن کانفرنس کا فیصلہ کیا جو تاریخ دی گئی تھی اسے افغان صدر کی درخواست پر ہی ملتوی کیا گیا ہے۔

امکان ہے کہ یہ کانفرنس عید کے بعد ہوگی۔ ہمیں خود کو ڈپلومیسی کے محاذ پر زیادہ سرگرم اور فعال ہونا ہوگا اور ان قوتوں کو پیچھے دکھیلنا ہوگا جو افغان بحران کو حل کرنے کی بجائے بگاڑنا چاہتے ہیں۔