افغانستان کے نصف ضلعی مراکز طالبان کے کنٹرول میں ہیں: امریکی جنرل
- جمعرات 22 / جولائی / 2021
- 5480
امریکی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے نصف ضلعی مراکز پر قبضہ کرلیا ہے جو بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا اشارہ ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے اور صوبوں میں لڑائیوں میں اضافہ ہوا ہے اس کی بڑی وجہ غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا اور طالبان کی جانب سے سرحدی اضلاع پر کیے گئے بڑے حملے ہیں۔
امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرپرسن جنرل مارک ملی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسٹریٹیجک رفتار طالبان کے ساتھ ہے۔ مارک ملی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے 419 اضلاع میں سے 200 سے زائد طالبان کے کنٹرول میں ہیں، گزشتہ ماہ طالبان نے 81 ضلعی مراکز کا کنٹرول حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ نہیں کیا لیکن وہ ان کے نصف کے مضافات پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ افغان حکومت نے طالبان پر ملک کے 34 صوبوں میں سے 29 میں سینکڑوں سرکاری عمارات تباہ کرنے کا الزام عائد کیا تاہم طالبان کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
قبل ازیں دوحہ میں افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق نہ ہونے کے بعد کابل میں موجود نیٹو نمائندوں اور 15 سفارتی مشنز نے طالبان پر حملے روکنے کے لیے زور دیا تھا۔ اس ضمن میں جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ طالبان کے حملے ان کے مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرنے کے دعوے سے متضاد ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی مشن کے باضابطہ مکمل انخلا کے لیے 31 اگست کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے تاہم کابل میں امریکی سفارتخانے اور ایئرپورٹ کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کے سوا تمام فوجی دستے وطن واپس جاچکے ہیں۔