افغان نائب صدر کی جانب سے سقوطِ ڈھاکہ کی تصویر ٹوئٹ کرنے پر پاکستان کا سخت ردِعمل

  • جمعرات 22 / جولائی / 2021
  • 3610

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں پائی جانے والی سرد مہری میں مزید شدت آ ئی ہے۔ بدھ کو افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی ایک متنازع ٹوئٹ کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں جانب کے حکام کے درمیان لفظی نوک جھونک جاری ہے۔

افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے بدھ کو ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں منگل کو افغان صدارتی محل کے قریب ہونے والے راکٹ حملوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔  اُنہوں نے اپنی ٹوئٹ کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1971 کی جنگ کے اختتام پر پاکستانی جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی جانب سے سرنڈر دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔

افغان نائب صدر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہماری تاریخ میں ایسی کوئی تصویر نہیں ہے اور نہ ہی ہو گی۔ ہاں میں منگل کو راکٹ حملے کے دوران کچھ دیر کے لیے گھبرا گیا تھا۔ لہذٰا پاک ٹوئٹر اٹیکرز اس تصویر کا غم ہلکا کرنے کے لیے دہشت گردی اور طالبان کی مدد حاصل کرنے کے بجائے کوئی اور راستہ تلاش کریں۔

منگل کو افغان صدارتی محل میں نمازِ عید کے دوران راکٹ حملے ہوئے تھے۔ چند راکٹ صدارتی محل کے قریب گرے تھے۔ اس وقت صدر اشرف غنی، اعلٰی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور نائب صدر امر اللہ صالح کے علاوہ دیگر افغان حکام نماز عید ادا کر رہے تھے۔

امر اللہ صالح کے 'سہم' جانے پر کئی پاکستانی صارفین نے اپنی ٹوئٹس میں امر اللہ صالح کا مذاق اُڑایا تھا۔ خیال رہے کہ افغان نائب صدر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ امر اللہ صالح کی اس متنازع ٹوئٹ پر سب سے پہلے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جوابی ٹوئٹ کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان آپ جیسے دغا بازوں کا نہیں بلکہ بہادر افغانوں کا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آپ جیسے بزدلوں کو افغانستان اور خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں، وقت آنے پر آپ لوگ سب سے پہلے ملک سے بھاگیں گے۔ بعدازاں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ افغانستان کو روزانہ ایسے 'احمقانہ' بیانات کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم افغان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ چند 'زہر آلود دماغ' رکھنے والے عناصر کے باعث پاکستان افغان عوام کی حمایت اور علاقے میں قیام امن کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بدقسمتی سے افغان قیادت نے کچھ لوگوں کو ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں کے اُوپر مسلط کر دیا ہے جو اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دو طرفہ تعلقات کی خرابی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔