افغان عہدیداروں کے احمقانہ بیانات سے ان کی سبکی ہورہی ہے: معید یوسف
- جمعرات 22 / جولائی / 2021
- 6080
قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان کے سینئر عہدیداروں کے احمقانہ بیانات سے خود افغانستان کی سبکی ہورہی ہے اور یہ عہدیدار جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں معید یوسف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں جامع سیاسی حل کے لیے سہولت کاری جاری رکھنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ہماری کوششیں جاری رکھنے کے لیے حال ہی میں صدر اشرف غنی سے ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔
کابل میں چند بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کی جانب سے تلخ اور غلط بیانات، جو بدقسمتی سے ہمارے افغان بہن بھائیوں پر بطور سینئر عہدیدار کے مسلط ہیں اور مسلسل دوطرفہ تعلقات خراب کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد اپنی ناکامیوں سے توجہ سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو روزانہ اس طرح کے احمقانہ بیانات سے شرمندہ کیا جا رہا ہے، افغانوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ہر کوئی ان بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کے مذموم ایجنڈے کو دیکھ سکتا ہے۔ ہم افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعاون پر شرپسند عناصر کے اثرات پڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔
اسی طرح دفترخارجہ نے بھی افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے ان الزامات کی تردید کردی تھی کہ پاک فضائیہ نے اسپن بولدک کی سرحدی گزرگاہ سے طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی کسی بھی کارروائی پر افغان سیکیورٹی فورسز کو باضابطہ وارننگ دی ہے- امر اللہ صالح نے اپنے ایک متنازع بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاک فضائیہ کئی علاقوں میں طالبان کو فضائی مدد فراہم کررہی ہے۔