آزاد کشمیر صوبہ بنے گا یا آزاد مملکت کا حصہ؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 23 / جولائی / 2021
- 13090
دو روز بعد آزاد کشمیر کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ حکمران تحریک انصاف کو یقین ہے کہ ماضی کی ’شاہ پرست‘ روایت کے عین مطابق آزاد کشمیر میں اب ان کی جماعت کے جیتنے کی باری ہے۔ مرکز کے براہ راست کنٹرول میں ہونے کے سبب گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی یہ روایت راسخ ہوچکی ہے کہ وہاں وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جو مرکز میں حکمران ہو۔ تحریک انصاف اس روایت کو کیوں تبدیل کرے گی؟
وزیر اعظم عمران خان انتخابی مہم کی قیادت کے لئے بنفس نفیس آزاد کشمیر میں موجود ہیں جہاں جلسوں میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ آزاد کشمیر میں اسی جماعت کی حکومت ہے کیوں کہ جب پانچ سال پہلے یہاں انتخاب ہوئے تھے تو اس وقت اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ اس مسلمہ اصول کے تحت تو لیگی قیادت کو تحریک انصاف کی کامیابی پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن اس دوران پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران پاکستانی سیاست میں گروہ بندی میں شدت آئی ہے اور کسی بھی سیاسی معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ وزیر اعظم نے آزاد کشمیر کے حالیہ دورہ کے دوران ایک بار پھر ذاتی حملوں اور کرپشن کے الزامات پر اصرار کے ذریعے سیاسی ماحول میں کسی مفاہمت سے انکار کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے دعوؤں کے باوجود ملکی معاشی حالات میں بہتری کے آثار نہیں ہیں اور اپوزیشن بوجوہ کوئی ایسی سیاسی مہم منظم کرنے میں ناکام رہی ہے جو موجودہ سیاسی انتظام کے لئے خطرہ بن سکے۔ اس لئے اب کشمیر کے انتخابی جلسے محاذ جنگ کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں۔
عمران خان نے آج تراڑ کے مقام پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق ملنے اور کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ مل جانےکے بعد کشمیریوں کو ایک ایسے ریفرنڈم کا حق دینے کا اعلان بھی کیا جس میں وہ یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدہ ریاست کے طور پر اپنا وجود قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے بعد کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی بات پہلے بھی کرچکے ہیں۔ اسے دہرا کر اور مزید شفاف طریقے سے بیان کرکے ملک کے وزیر اعظم نے دراصل یہ اقرار کیا ہے کہ وہ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی عمران خان نے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں اپنی پارٹی کے علاوہ متعلقہ اداروں بمعنی اسٹبلشمنٹ یا پارلیمنٹ سے کوئی رائے لینے اور اس سوال پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سیاسی رنگ آمیزی کے لئے کشمیریوں کو خود مختار ہونے کا حق دینے کی بات کرکے دراصل ایسے ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں جو خود مختار کشمیر کے دعویدار اور خواہاں ہیں۔
کشمیر کو خود مختار ریاست کا حق دینے کے بارے میں وزیر اعظم کے بیان کا جائزہ لیا جائے تو اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے ۔ حتی کہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی اس کا ذکر موجود نہیں ہے اور نہ ہی پارٹی کے کسی بااختیار پلیٹ فارم نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہے جس کی روشنی میں عمران خان کشمیریوں کو’خود مختاری ‘ دینے کا اعلان کررہے ہیں۔ یوں بھی یہ ساری بیان بازی ایسے قیاسات پر استوار ہے جن کے حقیقت بننے کا آئیندہ چند نسلوں تک کوئی امکان نہیں ہے۔ گویا کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک والا معاملہ ہے اور اسی کا فائدہ اٹھا کر عمران خان کشمیریوں کی آزادی کے چیمپئن بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ اول تو اقوام متحدہ کی قراردادیں 70 برس پرانی ہیں اور خود اقوام متحدہ کے ادارے بھی ان پر عمل درآمد پر اصرار نہیں کرتے۔ اس دوران بھارت میں مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرتے ہوئے اسے براہ راست وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا ہے۔ شہریت کے ایسے قوانین لاگو کئے گئے ہیں کہ اگر پچاس سو سال میں کبھی کسی قسم کے استصواب کی ضرورت پیش آبھی گئی تو مقبوضہ علاقے کی آبادی میں عقیدے کی بنیاد پر ایسا توازن پیدا کیا جاچکا ہوگا کہ کوئی فیصلہ بھارت کے خلاف نہ آسکے۔
مقبوضہ کشمیر میں اگر ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں کے برابر یا زیادہ ہوگئی تو کشمیر کی آزادی یا حق خود اختیاری کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ازخود بے سود ہوکر رہ جائے گا۔ پاکستان کشمیر میں مسلمان اکثریت کی وجہ سے اس ریاست کا دعویدار ہے۔ یہ صورت حال تبدیل ہوگئی تو کشمیر کے بارے میں پاکستان کو اپنی حکمت عملی اور بیانیہ کو از سر نو ترتیب دینا پڑے گا۔ اس ممکنہ اندیشے کے پیش نظر پاکستان کو ابھی سے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت، پانی کی فراہمی کے لئے اس علاقے کی ضرورت اور کشمیریوں میں آباد ہمہ قسم لوگوں کے حق خود ارادی کے حوالے سے زیادہ شفاف اور ٹھوس مؤقف استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ اسے مقبوضہ کشمیر میں اسلامی انتہا پسند گروہوں کی سرپرستی و ہمنوائی اور کشمیر کی آزادی کو صرف مسلمانوں کے حق کے طور پر پیش کرنے کی بجائے وہاں آباد ہر قسم کے عقیدہ و گروہ کے ساتھ تعلق و مواصلت کا اہتمام کرنا چاہئے۔ گو کہ اس کے لئے گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران کشمیر اور اسلام کو لازم و ملزوم قرار دینے کا بیانیہ ترک کرنا پڑے گا۔ تاہم غلط مفروضے پر استوار مؤقف جس قدر جلد تبدیل کرلیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
اس کے باوجود اگر عمران خان اس اصول سے متفق ہیں کہ کشمیری عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی و خواہش کے مطابق کرسکیں تو ان کی حکومت اقوام متحدہ کو یہ باقاعدہ تجویز دینے کا اقدام کیوں نہیں کرتی ۔ پاکستان سرکاری طور سے اعلان کردے کہ اب وہ اس خطے میں جو ریفرنڈم چاہتا ہے اس کے تین نکات ہوں گے۔ کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے علاوہ خود مختار ریاست بنانے کا بھی فیصلہ بھی کرسکیں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پہلے کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں پھر عمران خان انہیں انعام کے طور پر ایک نئے ریفرنڈم کا ’حق‘ دیں گے کہ اگر وہ خود مختار رہنا چاہتے ہیں تو فیصلہ کرلیں۔ ہاتھ گھما کر کان پکڑنے کے اس طریقہ ہی کی وجہ سے حکومت اور وزیر اعظم کی کشمیر پالیسی کے بارے میں شدید شبہات سامنے آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام (ف) حکومت پر کشمیر فروشی کا الزام عائد کرتی ہیں۔ یہ الزامات جتنےبھی بے بنیاد ہوں لیکن عمران خان نے بطور وزیر اعظم اور چئیرمین تحریک انصاف ان کو مسترد کرنے کے لئے کوئی دو ٹوک مؤقف اختیار نہیں کیا۔ بلکہ جوابی وار کے طور پر وہ اپوزیشن لیڈروں پر شخصی حملے کرتے ہیں۔
اسی غیر واضح صورت حال کی وجہ سے مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کو پاکستان کا ایک صوبہ بنانا چاہتی ہے اور اس بارےمیں فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ مریم نواز نے اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کئے لیکن آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر آزاد کشمیر اسمبلی میں یہ سوال اٹھا چکے ہیں اور وفاقی حکومت کی طرف سے اس تشویش کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اب تراڑ کے جلسے میں وزیر اعظم عمران خان نے معصومیت سے سوال کیا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ صوبہ بنانے کا الزام کہاں سے آگیا؟‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گفتگو کا رخ نواز شریف کی بے ایمانی اور کرکٹ میں اپنی ایمانداری کے ’ایمان افروز‘ قصے بیان کرنے کی طرف موڑ دیا۔ حالانکہ انہیں اس سوال کا براہ راست اور سادہ جواب دینا چاہئے تھا کہ حکومت آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ جواب موجود نہیں ہے۔ اس لئے الزام بھی موجود رہے گا اور شبہات میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔
ماضی کے تجربات کی روشنی میں دو روز بعد تحریک انصاف آزاد کشمیر میں کامیاب قرار دی جائے گی۔ اس متوقع کامیابی کا استقبال کرتے ہوئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو انتخابی دیانت کے دعوؤں اور وعدوں کو بھول جانا چاہئے۔ کیوں کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت نہیں ہوگی کہ آزاد کشمیر کے عوام مسلم لیگ (ن) کے بعد اب اچانک تحریک انصاف کے حامی ہوچکے ہیں۔ اس کا ایک ہی مقصد ہوگا کہ دھاندلی اور مطلوبہ انتخابی نتائج حاصل کرنے کا دیرینہ طریقہ ترک نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن دھاندلی کا شور مچائے گی ۔ اور اگر ڈسکہ ضمنی انتخاب جیسی کوئی احمقانہ پیش رفت سامنے آگئی تو ان الزامات کو مسترد کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
تاہم اگر کوئی احتجاج نہ بھی ہؤا اور تحریک انصاف نے جس طرح چئیرمین سینیٹ منتخب کروایا تھا، ویسے ہی جھرلو کی مدد سے وہ آزاد کشمیر حکومت پر بھی قبضہ کرلیتی ہے تو عمران خان بہر حال دیانت کے دعوؤں کی بنیاد پر ملنے والی اخلاقی برتری سے ضرور محروم ہوجائیں گے ۔ عوام پر واضح ہوجائے گا کہ تحریک انصاف بھی ملک کے انتخابی نظام کی اصلاح نہیں چاہتی بلکہ صرف اپنی جیت کو یقینی بنانے کو اہم سمجھتی ہے۔