نواز شریف کی افغان مشیر برائے قومی سلامتی سے ملاقات پر تنقید

  • ہفتہ 24 / جولائی / 2021
  • 5910

متعدد حکومتی وزرا نے لندن میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب  کی مسلم لیگ  (ن) کے قائد نواز شریف کے ساتھ ملاقات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے اسے پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

گزشتہ شب افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر نواز شریف کے  ساتھ حمداللہ محب کی ایک تصویر شئیر کی گئی  تھی جس کے بعد سے حکومتی وزرا نے اس ملاقات پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ اور کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اپنی ناجائز دولت کی حفاظت کے لئے پاکستان کے دشمنوں  سے ہاتھ ملارہے ہیں۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے  نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ نواز شریف کو پاکستان سے باہر بھیجنا خطرناک تھا۔ ایسے لوگ بین الاقوامی سازشوں میں مددگار بن جاتے ہیں۔ افغانستان میں را کے سب سے بڑے حلیف حمد اللہ محب سے ملاقات ایسی ہی کارروائی کی مثال ہے۔ مودی، محب یا امراللہ صالح ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے۔ انسانی حقوق کی  وزیر شیریں مزاری نے ایک ٹوئٹ میں کہ حمداللہ   محب،  پاکستان کو طوائف خانہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ گالی تحریک انصاف کو نہیں بلکہ پاکستان کو دی گئی تھی۔ ایسے شخص سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کی کون سی بات ہوسکتی ہے۔ یہ ذاتی مفاد کے تحفظ کی شرمناک کوشش ہے۔

بابرا عوان کا کہنا تھا کہ جس حمداللہ محب نے پاک سرزمین کے خلاف گھٹیا اور غلیظ زبان استعمال کی، نواز شریف نے اسے لندن میں وہی پروٹو کول دیا جو جاتی امرا میں بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوئزار اور کشمیریوں کے ازلی دشمن مودی کو اپنے گھر میں دیا تھا۔  دیگر متعدد وزیروں نے بھی اس ملاقات کی خبر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور  اسے ملک دشمنی سے تعبیر کیاگیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اس تنقید کومسترد کرتے ہوئے حمداللہ محب سے نواز شریف کی ملاقات کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات  ہمسایہ ملکوں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اس اصول کے عین مطابق ہے جس  کے لئے نوزشریف نے انتھک محنت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کی بنیاد ہی اس اصول پر ہوتی ہے کہ دوسروں کی بات سنو اور اپنا مؤقف واضح کرو۔ موجودہ حکومت اس اصول پر عمل کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے اسے خارجہ امور میں شدید ناکامی کا سامنا ہے۔