آزاد کشمیر میں انتخابات کا ڈھونگ

آزاد کشمیر میں الیکشن کا دور دورہ ہے۔ ہر جماعت الیکشن میں میدان مار لینے کی خواہاں ہے جس میں زیادہ تر پاکستانی جماعتیں شامل ہیں۔ انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے۔

 ہر جماعت کو اپنا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے جبکہ سب کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ کشمیر میں اسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جس جماعت کی پاکستان میں حکومت ہوتی ہے۔ بس اس مرتبہ فرق یہ ہے پاکستان میں برسر اقتدار جماعت پی ٹی آئی سے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد متنفر دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجوہات پر اگر غور کیا جائے تو اس جماعت کے دور میں مودی نے کشمیر میں آرٹیکل 365ختم کیا اور کشمیر میں اپنے شہریوں کی آبادکاری کا سلسلہ شروع کیا۔ کشمیری اسی وجہ سے  5 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور کچھ لوگوں کو شبہ ہے کہ پی ٹی آئی تقسیم کشمیر کے فارمولے پر کاربند ہے۔

 انہی وجوہات کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی کشمیر میں مقبولیت اتنی زبردست نہی ہو سکی جتنی پاکستان میں الیکشن کے دوران رہی۔ اور کچھ پاکستان میں ان کی پرفارمنس بھی کشمیر میں مقبولیت کو کم کرنے کی وجہ بنی۔ آزادکشمیر کی موجودہ حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت کے متعدد وزراء اقتدار شفٹ ہوتا دیکھ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس وقت یہی دونوں جماعتیں بظاہر مدمقابل ہیں اور سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری  ہے۔

آزاد کشمیر میں الیکشن کی صورتحال پہلے اتنی سنگین کبھی بھی نہی رہی جتنی اس الیکشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق جیسے پچھلے الیکشنز میں پاکستانی برسر اقتدار جماعت آسانی سے کشمیر میں حکومت بنا لیتی تھی۔ اس مرتبہ ایسا نہی ہونے والا۔ کہا جا رہا ہے کہ کشمیر میں بھی پی ٹی آئی بیساکھیوں سے حکومت بنائے گی جیسے پاکستان میں حکومت کے لیے متعدد جماعتوں سے مدد لی گئی۔ کشمیر میں بھی یہی ہونے جا رہا ہے۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر کارکنان دل برداشتہ دکھائی دیے جبکہ آزادی پسند جماعتوں کو الیکشنز میں حصہ لینے کی اجازت نہ دینے جانے پر متعدد اضلاع میں الیکشن بائیکاٹ مہم بھی جاری ہے۔

جماعتوں کی مقبولیت کی بات کی جائے تو کشمیر کی برسر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) صرف راجہ فاروق حیدر کی وجہ سے مضبوط سمجھی جا رہی ہے جبکہ اس کے متعدد وزراء پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی مخلص کارکنان بھی ٹکٹس کی تقسیم سےناخوش ہیں۔

پی ٹی آئی کے وزراء کشمیر میں الیکشن کمپین کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مریم نواز مسلم لیگ ن کے جلسوں کی صورت طاقت کامظاہرہ کر رہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے علی امین گنڈا پور کمپئین کر رہے تھے۔ مگر ان کا عوام میں پیسوں کی تقسیم اور پھر ان کے سکیورٹی گارڈ ی جانب سے کشمیر کی حدود میں ہوائی فائرنگ کے بعد الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انہیں کشمیر بدر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

 الیکشن کمیشن کے حکم کے باوجود وہ عمران خان کے ساتھ کشمیر میں کمپین کرتے دکھائی  دیے۔ اور یہ بات بھی کشمیریوں میں مزید تحفظات کا جنم دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی ابھی اقتدار میں آئی نہی ہے مگر ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ درحقیقت پاکستانی سیاستدان مریم نواز عمران خان سب کشمیر میں باہمی اختلافات کی سیاست چمکا رہے ہیں۔ ان کے منشور میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آزاد ی اور آزاد کشمیر کی بہتری کے متعلق کچھ بھی دکھائی نہی دے رہا۔ یہ اپنے جلسوں میں ذاتی اختلافات اور عناد کی سیاست کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جہاں تک نتائج کی بات ہے تو اس میں کشمیر کی عوام  نتائج سے قبل ہی ان سیاستدانوں کےرویوں کی وجہ سے نالاں ہیں۔ اور  مکمل تحفظات کا اظہار کرہے ہیں۔ اور 25جولائی کو الیکشن نہی صرف ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔