پیگاسس سپائی وئیر: یہ سلسلہ تو چلے گا
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 24 / جولائی / 2021
- 5070
گزشتہ ہفتے دنیا کے ممتاز نیوز اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی تو عام لوگوں کو بڑی حیرانی ہوئی۔ ایک غیر معروف اسرائیلی کمپنی نے ایک انتہائی کامیاب سپائی وئیر یعنی جاسوس سوفٹ وئیر بنا یا جس سے اینڈرائید سمیت کئی موبائل فونز کے سسٹم اور ڈیٹا تک رسائی ممکن ہے۔
نہ صرف رسائی بلکہ یہ سوفٹ وئیر اس فون کے نظام کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔ نفاست کا یہ عالم کہ سوفٹ وئیر زیرو کلک پر بھی اپنا کام شروع کر سکتا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پچاس ہزار سے زائد نمبرز تک اس سپائی وئیر سے جاسوسی کی گئی۔ بنیادی انسانی حقوق، پرائیویسی اور میڈیا کی آزادی سے متعلق اداروں کو تو جیسے آگ گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ نے دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ ٹارگٹ کئے جانے والے لوگوں کا تعلق زیادہ تر انتہائی معتبر اور اعلی سیاسی، عسکری، انتظامی، میڈیا، ہیومن رائٹس اور اپوزیشن سے پایا گیا۔ سپائی وئیر بنانے والی اسرائیلی کمپنی نے موقف لیا کہ ’یہ ایک انتہائی مخصوص اور طے شدہ مقاصد کے لئے تیار گیا سوفٹ وئیر صرف حکومتوں کو بیچا گیا۔اس سوفٹ وئیر سے عام لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ محفوظ بنانا اور دہشت اور جرائم میں ملوث لوگوں کی سرکوبی میں مدد دینا تھا‘۔
جن ممالک نے اس سپائی سوفٹ وئیر کو خریدا اور کھلے دل سے استعمال کیا، ان میں بھارت کا نام نمایاں تھا۔ بھارت میں ڈھنڈیا مچی تو معلوم ہوا کہ کم از تین سو سے زائد کنفرم ایسے نمبرز سامنے آئے جن کی جاسوسی کی گئی۔ مودی کیبنٹ کے دو وزرا، راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن ارکان، میڈیا اور انسانی حقوق سے متعلق کئی نام سامنے آنے پر بھارت میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ لوک سبھا میں تو تکار اور شور شرابے کی وجہ سے کم از کم دو بار اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ فوری طور پر ایک اینٹی سپائی وئیر سوفٹ وئیر بھی سامنے آیا جسے انسٹال کرنے پر آپ جانچ سکتے ہیں کہ آپ کا فون پیگاسس سپائی وئیر کے کنٹرول میں ہے یا ماضی میں ایسی کوشش کی گئی۔
پاکستان میں اس تہلکہ خیز خبر سے دلچسپی صرف بھارت کے حوالے سے اس کے ٌ بھیانک اور گھناؤنے ٌ کردار تک ہی رہی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا ایک پرانا زیر استعمال نمبر بھی ٹارگٹ فہرست میں شامل بتایا گیا۔ پاکستان کے کئی حساس افراد اور اہم عہدوں پر فائز افراد کے نمبرز بھی ٹارگٹ کئے جانے کے شواہد ہیں۔ بھارت میں حریت کانفرنس کے کئی رہنماؤں اور سکھ کمیونٹی کے مخالف اراکین کے نمبرز کی نشاندہی پر بھارت کے کردار پر میڈیا میں ایک دو روز زور دار رپورٹس سامنے آئیں، اس کے بعد حسبِ معمول نیوز سائیکل کی دیگر خبروں نے دھیان مبذول کروا لیا۔
سپائی سافٹ وئیر بھلے پیگاسس ہو یا کوئی اور، یہ سپائی وئیر اسی وقت کار آمد ہوتے ہیں جب ان کا شکار بے خبر ہو، اس کا سسٹم معمول کے مطابق ٌ نارمل ٌ استعمال میں ہو۔ جب استعمال کنند ہ خبر دار ہوگیا اور اینٹی سپائی سوفٹ وئیرز کی بریگیڈ پلے اسٹور پر فراہمی ہو جائے تو ایسے سپائی سوفٹ وئیر کچھ دیر کے لئے دوکان سمیٹ کر ہائیبرنیشن یعنی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جس طرح کاروبار ِ دنیا گرمی جاڑے، بارش سیلاب اور زلزلے میں بھی جاری رہتا ہے، اسی طرح نئے سپائی وئیر خاموشی سے کوئی نئی اوڑھنی اوڑھ کر اپنے مشن پر روانہ کر دئے جاتے ہیں۔
کیوں؟ اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔ سائیبر ورلڈ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا میدان بڑا دلچسپ ہے۔ صارفین کے لئے اس مفید فیچرز اور سوشل میڈیا کی رنگین اور ہر وقت آباد دنیا کی چہل پہل ہے جس کی عادت ایک بارلگ جائے تو چھٹتی نہیں یہ کافر مونہہ سے لگی ہوئی والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک سے ایک نئی ایپ متعارف ہو رہی ہے کہ ڈاؤن لوڈ کرو، کو نٹینٹ بناؤ اور دنیا پر چھا جاؤ۔ کوئی سنسر کی بک بک نہ کسی سے پوچھ گچھ کی جھک، نہ انتظار نہ قطار، ادھر ذہن میں چھپاک سے کوئی آئیڈیا آیا ادھر آپ نے موبائل فون میں ایپ کھولی، کچھ ہی وقت میں کونٹینٹ دنیا پر یلغار کرنے کے لئے تیار۔
فیس بک، واٹس اپ سمیت درجنوں ایسی مستند اور مشہور عالم ایپس ہیں جن پر عام صارف اب تکیہ کرنے لگا ہے، اس کی ڈیلی لائف کاروباری، سماجی اور پرسنل روٹین سب ان ایپس کی محتاج ہے۔ دن میں گھنٹوں ایک عام آدمی ان ایپس کی نذر کر دیتا ہے۔ اب تو عالم ہے کہ لوگ بجلی جانے پر اتنے پریشان نہیں ہوتے جتنا اس پر فکر میں ہلکان ہوجاتے ہیں کہ وائی فائی نہ ہونے کے سبب سوشل میڈیا کی دوری کیسے برداشت ہو گی۔ مہمان داری کے آداب تک میں تبدیلی آگئی کہ اب سلام دعا کے بعد اکثر مہمان میزبان کی جانب سے چائے پانی پوچھے جانے سے پہلے ہی پوچھتے ہیں: وائی فائی کا پاس ورڈ کیا ہے؟
مزے کی بات یہ ہے یہ سب مزے فری ہیں۔ فیس بک، واٹس اپ، انسٹا فون، گوگل سمیت بے شمار ایپس سب فری ہیں لیکن عملاٌ ایسا ہے نہیں۔ ایک امریکی کہاوت مشہور ہے کہ کوئی فری کا لنچ نہیں ہوتا۔ ایک اور مشہور مقولہ ہے کہ اگر آپ کو کوئی سہولت مسلسل مفت پہنچائی جا رہی ہے، کوئی قیمت چارج نہیں ہو رہی، تو جان لیں کہ وہ سہولت اصل پراڈکٹ نہیں بلکہ آپ خود اس کے لئے ایک پراڈکٹ ہیں۔ یہ بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جن کا سالانہ ریونیو درمیانے ملک کی کل جی ڈی پی سے بھی زائد ہے، وہ اپنے صارفین کے ڈیٹا سے یہ سب ریونیو کماتے ہیں۔
پیگاسس سپائی وئیر نے اپنا وقت پورا کر لیا۔ سات سال قبل ایک معمولی سی کمپنی جس کا سالانہ ریونیو چالیس ملین ڈالر تھا، دو سال قبل ایک ارب ڈالرز کی مالیت میں خرید لی گئی۔ خریدار کم عقل تھے نہ بیچنے والے، نئی سائبر دنیا میں یہ دھندا تو چلتا رہے گا، آج یہ سوفٹ وئیر ہے تو کل دوسرا، یہ سلسلہ تو اب یونہی چلتا رہے گا۔ مشتری البتہ جتنا ہوشیار باش ہو سکتا ہے ہو جائے، یہ اس کی اپنی صوابدید پر ہے۔