آزاد کشمیر انتخابات کا فاتح کون؟

25جولائی کو آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے گیارہویں عام انتخابات کئی لحاظ سے منفرداور اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ایک تو حالیہ انتخابات میں آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں چار نئی سیٹوں کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں حالیہ انتخاب میں انتخابی حلقوں کی تعداد41سے بڑھ کر45ہو گئی ہے۔دوسری اہم تبدیلی انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے دکھائی دی جانے والی بھرپور سیاسی گرماگرمی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق کشمیر میں اس طرح کی بھر پور انتخابی مہم اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی۔اگرچہ سیاسی مہم کے دوران بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے دیے جانے والے بیانات میں حد سے زیادہ غیر ذمہ داری کے مظاہرے اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے گالی گلوچ اور پتھراؤ نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا کو آلودہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑی تاہم گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کی ملکی سیاست پر نظر دوڑائی جائے توآزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بیان بازی اور الزامات کی وجوہات کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے والی اہم ترین بڑی سیاسی جماعتیں وہی ہیں جنہوں نے پاکستان میں ہونے والے 2018کے عام انتخابات میں بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے یہ جماعتیں ملکی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کی بیان بازی اور الزام تراشی کی  سیاست جاری رکھے ہوئے تھیں، آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں اس کا عکس نظر آنا ہی تھا۔کشمیر کے حالیہ انتخابات میں تیسری اہم تبدیلی عوامی گہماگہمی کی صورت میں دیکھنے میں آئی ہے۔انتخابی مہم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام نے اس بار انتخابی مہم میں غیر معمولی دلچسپی اور جوش وخروش کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہوٹلز اور دوکانوں سے لے کر تعلیمی اداروں اور مساجد تک ہر عوامی جگہ پر سیاست پر بحث ہوتی رہی۔آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں سیاسی گرما گرمی اور عوامی گہما گہمی اس لحاظ سے خوش آئند کہی جا سکتی ہے کہ سیاسی معاملات میں عوامی شمولیت اور انتخابی مہم میں عوامی گہماگہمی میں اضافہ کسی بھی ملک اور خطے میں جمہوریت کے استحکام پکڑنے کی علامات سمجھی جاتی ہیں۔

آزاد کشمیر میں حصہ لینے والی جماعتوں کو ملنے والی متوقع نشستوں پر بات کرنے سے پہلے آزاد کشمیر کے انتخابی نظام کا مختصر جائزہ اور اس میں پائی جانے والی چند قباحتوں پر بات کرنا یہاں کے قدرے منفرد اور پیچیدہ انتخابی نظام کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی 53نشستوں پر مشتمل ہے۔45نشستوں پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں، پانچ سیٹیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جب کہ ایک ایک نشست ٹیکنوکریٹ، علماء مشائخ اور بیرون ملک کشمیریوں کے لیے مخصوص ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابی نظام کی انفرادیت یہ ہے کہ براہ راست انتخابات والی45نشستوں میں سے 12نشستیں پاکستان میں مقیم ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جوقیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔براہ راست انتخابات والی کل45نشستوں میں سے 33ممبران اسمبلی کا نتخاب آزاد کشمیر کے شہری کرتے ہیں جب کہ مہاجرین کے لیے مختص 12نشستوں پر اراکین کے انتخاب کے لیے پاکستان کے چاروں صوبوں میں پولنگ کا انعقاد ہوتا ہے۔انتخابی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے انتخابی حلقوں کی تقسیم انتہائی پیچیدہ ہے۔کئی حلقوں میں 3صوبوں کے علاقے شمامل کیے گئے ہیں جہاں تک پہنچنا کسی بھی امیدوار کے لیے عملی طور بہت مشکل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ان حلقوں میں آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی مکمل عمل داری نہ ہونے کے باعث وفاق سمیت صوبائی حکومتیں انتخابی عمل اور نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔آزاد کشمیر کے سیاسی و عوامی حلقوں میں پاکستان میں موجود مہاجرین کی ان 12نشستوں پر ہونے والے انتخابی عمل پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کے سیاسی حلقوں میں وقتاً فوقتا ً ان نشستوں پر براہ راست انتخابات کی بجائے متناسب نمائندگی کا طریقہ کار واضح کرنے یا ان نشستوں پر انتخابات کی مکمل عمل داری آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کو تفویض کرنے کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں لیکن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔تجزیہ نگاروں اور ماہرین کے ایک گروہ کی رائے یہ بھی ہے کہ گزشتہ 70برسوں سے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی ان نشستوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت اب مناسب  نہیں ہے۔

آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں  عمومی تاثر یہی ہے کہ جموں کشمیر میں وہی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے جو اسلام آباد میں برسراقتدار ہو۔آزاد کشمیر میں بننے والی پچھلی دو حکومتوں کو دیکھیں تو یہ تاثرکافی حد تک ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔آزاد کشمیر کے پچھلے عام انتخابات میں ن لیگ نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی جب کہ اس سے پچھلے انتخاب میں یہاں پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہی تھی۔مرکز سے امداد اور مراعات کے حصول کی خواہش میں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور الیکٹیبلزوفاق میں برسراقتدار جماعت کی صفوں میں شامل ہونا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔وسطی باغ کے حلقے میں تحریک انصاف کے امیدوار سردار تنویر الیاس کے حق میں سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشیدترابی کی دستبرداری کے بعد آزاد کشمیر کے حالیہ انتخاب میں کامیاب ہونے والی جماعت بارے اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں۔آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے فاتح کا بخوبی اندازہ گزشتہ سال گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابی عمل و نتائج پر عمیق نظر ڈالنے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ نومبرمیں گلگت بلتستان  میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف نے22نشستیں حاصل کرکے حکومت بنا لی تھی حالانکہ اس سے پہلے ہونے والے یہاں کے الیکشن میں تحریک انصاف ایک ہی نشست جیت پائی تھی اور مسلم لیگ (ن) نے یہاں سے 21نشستیں جیت کر حکومت بنائی تھی۔غالب امکان یہی ہے گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی تبدیلی سرکار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

آزاد کشمیر میں تبدیلی کی ہوا ضرور چلی ہوئی ہے تاہم وادی نیلم سمیت کشمیر کے کئی علاقوں میں پیپلز پارٹی  بھی کافی مقبولیت ہے۔مزید براں پچھلے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) کشمیر کے زیادہ تر حلقوں میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ہے۔تحریک انصاف کوپاکستان میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص نشستوں پر بھی سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا (ن) لیگ کے امیدواروں سے ہی ہوگا۔ رواں ماہ کے اوائل میں آزاد کشمیر کے سیاحتی دورے کے دوران وہاں کے باسیوں کے تاثرات سننے کوملے، زیادہ ترافراد ترقیاتی کاموں اور تعلیم و صحت کی معیاری سہولیات نہ ہونے کا شکوہ کرتے رہے۔کشمیر کی مقامی سیاسی قیادت فنانس بل، ترقیاتی فنڈزاور آزاد کشمیر میں وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے منصوبوں کی نگرانی کے طریقہ کار میں تبدیلیوں پربھی شدید تحفظات رکھتی ہے۔آخری بات یہ کہ آزاد کشمیر میں بھلے کسی بھی جماعت کی حکومت بنے، کشمیریوں کے اصل مسائل حل ہونے چاہیں۔