چین اور پاکستان کا افغانستان میں جنگ بندی کا مطالبہ
- اتوار 25 / جولائی / 2021
- 6510
پاکستان اور چین نے تمام افغان اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک جامع جنگ بندی پر اتفاق کریں اور مذاکرات سے طے شدہ سیاسی تصفیے کے حصول کے لیے مل کر کام کریں۔
چین کے صوبے سچوان کے دارالحکومت چینگڈو میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک مکالمے کا تیسرا اجلاس منعقد ہونے کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی نے اپنے مطالبے پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے افغان امن عمل میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پرامن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کے لیے ’افغان کے زیر قیادت اور افغان ملکیت‘ پر مبنی عمل کی حمایت کرتے رہیں گے۔ دونوں اطراف نے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور پاکستانی اور چینی کارکن زخمی بھی ہوئے۔
فریقین نے مشترکہ تفتیش کے ذریعے مجرمان اور ان کے قابل مذمت ارادوں کو بے نقاب کرنے، قصورواروں کو سزا دینے، چینی منصوبوں، شہریوں اور اداروں کی جامع حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے اور اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔
فریقین نے دوطرفہ تزویراتی، معاشی اور سلامتی تعاون، کووڈ 19 اور بین الاقوامی اور علاقائی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر دوطرفہ مفادات کے تحفظ اور خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے فروغ کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔
فریقین نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ پائیدار پاک چین دوستی، سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے اہم سنگ میل کو پہنچی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے چینی ہم منصب نے ہمہ جہتی تعاون کو مستحکم کرنے، اعلیٰ سطح کے تبادلے کی رفتار کو برقرار رکھنے، بیلٹ اینڈ روڈ کی شراکت داری کو آگے بڑھانے، دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح تک فروغ دینے اور دونوں ممالک اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔