طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے افغانستان بھر میں کرفیو
- اتوار 25 / جولائی / 2021
- 4110
طالبان کی جانب سے شہروں پر کیے جانے والے حملے روکنے کے لیے افغان حکومت نے ہفتہ کے روز سے ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ دارالحکومت کابل اور دو دیگر صوبوں کے علاوہ ملک میں رات دس بجے سے صبح چار بجے کے درمیان ہرقسم کی نقل و حرکت منع ہوگی۔
طالبان اور افغان افواج کے مابین گزشتہ دو ماہ کے دوران لڑائی بڑھ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عسکریت پسند گروپ نے ملک کے آدھے حصے پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ جنگجو امریکی فوج کی واپسی کے بعد دیہی علاقوں، سرحدی گزر گاہوں اور دیگر علاقوں کو واپس لیتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی زیر قیادت فورسز نے اکتوبر 2001 میں افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔
طالبان نے ایک بار پھر ملک میں اہم سڑکیں قبضے میں لے لی ہیں کیونکہ وہ سپلائی کے راستوں کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان متعدد بڑے شہروں کے قریب آ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان پر قبضہ نہیں کر سکے۔
افغان وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تشدد روکنے اور طالبان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے 31 صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کابل، پنجشیر اور ننگرہار کو استثنیٰ حاصل ہے۔
طالبان کی پیش قدمی کے دوران قندھار شہر کے نواح میں رواں ہفتے شدید جھڑپیں ہوئیں۔ امریکہ نے جمعرات کے روز اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پرفضائی حملہ کیا، چونکہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام 31 اگست کو ہونا ہے۔ اس وجہ سے آئندہ مہینوں کے بارے میں خدشات ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکیوں کا انخلا جائز ہے کیونکہ امریکی افواج نے یہ یقینی بنایا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر غیر ملکی جہادیوں کے مغرب کے خلاف سازشوں کا اڈہ نہیں بن سکتا۔ اس ماہ کے شروع میں امریکی فوجی خاموشی سے بگرام ایئر فیلڈ سے روانہ ہوگئی تھیں۔
امریکی انٹلیجنس کے کچھ تجزیہ کاروں کو اندیشہ ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر طالبان اپنا کنٹرول واپس سنبھال لیں گے۔ اسلامی شدت پسند گروہ افغان طالبان نے 1996 میں افغانستان پر قبضہ کیا تھا اور اگلے پانچ برس تک ملک پر ان کی حکمرانی قائم رہی۔
نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان کو شکست دے دی۔ اس کے بعد ملک میں جمہوری نظام کے تحت انتخابات ہوئے اور نیا آئین بنایا گیا لیکن طالبان شکست کے باوجود ختم نہ کیے جا سکے اور وہ مسلسل چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں اور حملے کرتے رہے، جس نے افغان، امریکی اور نیٹو افواج کو مصروف رکھا۔