آزاد کشمیر میں ووٹوں کی گنتی جاری، تصادم میں 2 افراد ہلاک
- اتوار 25 / جولائی / 2021
- 6720
آزاد جموں و کشمیر میں 11ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور ووٹوں کی گنتی ہورہی ہے۔ ووٹنگ کے دوران 2 سیاسی گروپوں میں تصادم میں پاکستان تحریک انصاف کے 2 کارکن جاں بحق ہوگئے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 5 بجے مکمل ہوا تاہم پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں موجودووٹرز کو 5 بجے کے بعد بھی حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ جن پولنگ اسٹیشنز میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا وہاں ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی ہے۔
قبل ازیں کوٹلی کے انتخابی حلقے ایل اے 12 میں چڑھوئی کے علاقے میں ناڑ تھانے کی حدود میں پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے مابین فائرنگ سے 40 سالہ ظہیر احمد اور 50 سالہ محمد رمضان ہلاک ہوگئے۔ واقعے کے بعد حلقے میں موجود دیگر پولنگ اسٹیشنز میں ووٹنگ کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا تھا جو بعد ازاں بحال ہوگیا۔
انتخابی حلقے میں فائرنگ کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے 18 کے منڈہول بل بازار کے پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی کارکنان نے قبضہ کرکے بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی ہیں۔ الیکشن سیل کے سربراہ سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو واقعے کی تحریری شکایت جمع کروادی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابی حلقے ایل اے 30 میں پیپلزپارٹی کے چیف پولنگ ایجنٹ ضرار خان کو پولیس نے گرفتار کیا جبکہ پی ٹی آئی کارکنان دو روز قبل پی پی پی کارکن ضرار خان کے گھر پر فائرنگ کرچکے ہیں۔ چیف پولنگ ایجنٹ ضرار خان کی گرفتاری سے متعلق الیکشن کمیشن کو شکایت جمع کروائی گئی ہے۔
علاوہ ازیں ضلع جہلم میں پولنگ اسٹیشن ایل اے 32 میں ’سیاسی جماعت کے ڈنڈا بردار کارکنوں‘ کے حملے میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ضلع جہلم کے ایس پی ریاض مغل نے دعویٰ کیا کہ ڈھل چکھیاں میں پولنگ اسٹیشن ایل اے 32 میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے حملے میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل مظفر آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریا نے اُمید ظاہر کی تھی کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 56 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ انتخابی مراحل احسن طریقے سے پورے کیے گئے اور حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے مکمل انتظامات ہیں جبکہ الیکشن کی تیاری میں حکومت کی پوری معاونت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں خواتین ووٹرز کی شرح پہلے کے مقابلے میں زیادہ رہے گی۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 45 حلقوں میں مجموعی طور پر 32 لاکھ 20 ہزار 546 ووٹ رجسٹرڈ ہیں جبکہ ان میں سے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے 33 حلقوں میں 28 لاکھ 17 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ باقی رائے دہندگان میں سے 3 لاکھ 73 ہزار 652 مقبوضہ جموں سے آنے والے مہاجرین کی نمائندگی کرنے والے 6 حلقوں میں رجسٹرڈ ہیں۔
آزاد کشمیر میں 33 انتخابی حلقوں میں 587 اُمیدوار جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں پر 121 اُمیدوار مدمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر 24 خواتین اُمیدوار انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔