ابنارمل معاشروں کا المیہ

قانون اور انسان  مترادفات ہیں۔ انسان زمین پر خُدا ئے  بزرگ و بر تر کا چلتا پھرتا قانون ہے۔  دوسرے الفاظ میں قانون کی پابندی فردِ واحد سے لے کر چھوٹے بڑے سبھی معاشرتی اداروں پر فرض ہے۔

 بالکل اُسی  طرح جیسے حقیقی مسلمانوں پر نماز فرض ہے  اور نماز کے قیام کا مطلب  برائی اور بے حیائی کا قلع قمع  اور خاتمہ  لیکن جن معاشروں میں  نماز، برائی اور بے حیائی  ایک ساتھ ، بانہوں میں بانہیں ڈال کر چلیں  وہ معاشرہ اپنی صورت مسخ کر بیٹھتا ہے۔ ایسا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے۔  اس طرح کے  گمراہ معاشروں میں  افرا د  اور ادارے  قانون شکنی کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں  اور پھر اُن کے لیے باقاعدہ جواز گھڑتے ہیں ۔ کبھی سیاسی خلفشار کو جواز بنا کر ملکی آئین توڑتے ہیں ،  سول معاشروں کو فوجیاتے ہیں ،  انصاف کی کھُلے بندوں خرید و فروخت ہوتی ہے  اور ایسے معاشروں میں ہر فرد کی ایک قیمت ہوتی ہے جسے ادا کر کے اُسے ہر ناجائز کام لیا جا سکتا ہے۔  ایسے معاشرے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس  کے اصول کے تحت  چلاتے ہیں جس کے نتیجے میں پورا ملک مویشی منڈی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ قانون ہے کیا؟  قانون فطرت کے مقاصد، شریعت کے  اصولوں اور  ملکی آئین  میں درج قواعد و ضوابط  کے احترام، عملی اطلاق  اور سختی سے پابندی  کا نام ہے۔  اس پابندی میں ریاضیاتی پیمانوں کے مطابق  قانون کی ساری شقوں پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے۔  قانون فرد کو سونے جاگنے، اُٹھنے بیٹھنے ، دوسروں سے معاملات کرنے  اور اپنوں  اور بیگانوں کے حق میں انسانی ذمہ داریاں پوری کرنی سکھاتا ہے  اور جب کوئی شخص  ان قوعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ  معاشرتی حقوق سے محروم ہوجا تاہے۔  تب آدمی سے آدمی نہیں بلکہ جانور سے جانور ملتا ہے ،  بد روحیں،  اپنے جیسی بد روحوں سے ملتی ہیں کیونکہ  قرآن نے انسان اور قانون کو لازم و ملزوم قرار دیا ہے جس کا ذکر سورہ   بقر میں سبت والوں کے ذکر میں کیا گیا ہے کہ انہیں قانون کی پابندی نہ کرنے کی پاداش میں انسان سے بندر بنادیا گیا۔ 

چنانچہ جہاں لاقانونیت کا دور دورہ ہو  وہاں معاشرہ ابنارمل لوگوں کی بھیڑ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسے  نام نہاد معاشروں میں  لاقانونیت لاقانونیت سے ہاتھا پائی کرتی ہے  اور اس معاشرتی جنگ میں لاقانون کو قانون کے نام پر  احترام دیا جاتا ہے۔  اس دھماچوکڑی میں ہر فرد دوسرے کو  دوش دیتا ہے اور ہر ادارہ دوسرے ادارے کو  موردِ الزام ٹھہراتا ہے ۔  اور یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس سارے خلفشار کا ذمہ دار وہ خود ہے۔  اس ضمن میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ نبی ﷺ  کے حکم کے مطابق ہم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ بھی۔ اور جو کچھ ہورہا ہے اُس کی ذمہ داری براہِ راست مجھ پر اور آپ پر ہے۔ یہ ہم سب کی زندگی کی کہانی ہے۔ 

جی ہاں، زندگی ایک کہانی ہے۔ میری اور آپ کی کہانی۔ ہم سب اس کہانی کے کردار ہیں ۔ کردار اپنے رول اور ڈائیلاگ کے سہارے نبھایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس عہد میں کردار عمل سے فارغ ہے  اور صرف ڈائلاگ سے ہی  کردار  نبھاتا ہے۔  گویا اس عہد کے آدمی کا دھڑ تو ہے نہیں صرف سر ہے  اور ہر شخص اپنے وجود کی بالائی منزل میں رہتا ہے  جس سے نیچے وہ کبھی نہیں اُترتا۔  چنانچہ ہمارا معاشرہ بے دھڑ کے سروں کا معاشرہ ہے  جس میں شاہراہوں،  سڑکوں،  گلی کوچوں ،  گھروں اور  دفتروں میں  سر ہی سر نظر آتے ہیں۔ بے دھڑ کا آدمی  قوتِ عمل سے محروم ہوتا ہے  جو نقل تو کرسکتا ہے مگر عقل سے کام نہیں لے سکتا۔  چنانچہ اس عہد میں بے دھڑ کے سروں نے طوفانِ بد تمیزی برپا کر رکھا ہے، ایک گونہ آفت مچا رکھی ہے ۔ تبصروں، تجزیوں اور پریس کانفرنسوں کا وہ  طوفان برپا  ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔  اور جہاں سب بولنے والے ہوں وہان سننے والا کوئی نہیں ہوتا ۔

 چنانچہ ہمارا المیہ  در المیہ یہ ہے کہ یہاں عوام نام کی کوئی انسانی  چیز نہیں ہوتی۔  یہاں لوگ شریفوں،  زرداریوں،  جرنیلوں،  ملاؤں  اور فوج کے نامزد سول سیاست دانوں کے  ریوڑ ہیں  جنہیں لاٹھی جس طرف ہانک دے وہ اُسی طرف چلتے چلے جاتے ہیں ۔  فوج، پیپلز پارٹی، نون، قاف، ، جے یو آئی اور پی ٹی آئی ان ریوڑوں کو ہانکنے والے  گڈریے ہیں ۔ ان کی اپنی کوئی قدرو قیمت یا اوقات نہیں مگر یہ قائد اعظم، اسلام اور بھٹو کے نام پر  عوام کو دھوکہ دیتے ہیں   اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنی  تجوریاں بھرتے چلے جاتے ہیں ۔  یہ لوگ بزعِم خویش بڑے معرکے کے لوگ ہیں جو بہتر سال سے ایک ملک چلا رہے ہیں جو چل ہی نہیں پارہا ہے:

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت ریز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اور وہ اس لیے کہ لوگ نمود و نمائش کے بھوکے ہیں ۔  وہ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں ۔ پی پی نون سے سے حسد کرتی ہے، نون اور ے یو آئی، پی ٹی آئی سے حسد کرتی ہیں اور حسد نفرت کا اظہار ہے۔  سیاسی اکابرین کمزوروں سے تکبر سے پیش آتے ہیں  جو بد عنوانی کی ایک صورت ہے ۔ اس صورتِ حال میں سادگی  کا تصور کتنا مشکل ہے۔  لوگ جو ہوتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ اداکاری کرتے ہیں:

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ آدمی سدا ایک سا نہیں رہتا ۔ ہر نیا لمحہ ایک نئے  عہد کی بشارت  بنتا ہے، ایک نئی گہرائی دریافت ہوتی ہے  اور فکر و عمل کی ایک نئی سطح دریافت ہوتی چلی جاتی ہے ۔ چنانچہ جو لوگ ہوش مند اور  با شعور ہوتے ہیں وہ اداکاری نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں وہ اُن کی گزشتہ کل کی سوچوں کا ماحصل ہے  جب کہ ہمارا آج کا فکری سرمایہ ہمارے فردا کی تعمیر کرے گا ۔ یعنی پاکستانیوں کی معاشرتی زندگی ان کے اپنے ذہن کی تخلیق ہے  اور ہمارے سیاسی جنات یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ  اگر کوئی شخص بد نیتی سے بولتا ہے اور عوام کو گمراہ کرتا ہے  تو مصائب اور نحوست  اُس کا پیچھا کرتے ہیں ۔ ہماے سیاسی اکابرین تو اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ  نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ نفرت کو محبت ہی ختم کرسکتی ہے اور یہ اٹل اور دائمی قانون ہے جسے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:

سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سُن کر دعائیں دیں

کیا ان لوگوں میں ، جو عشقِ رسول ﷺ کا دم بھرتی ہیں، ایسے لوگ موجود ہیں جو گالی کا جواب دعا سے دینا جانتے ہیں؟  ہمارے لیڈر  تو یہ بھی نہیں جانتے کہ انسان اس دنیا میں امن و امان سے رہنے کے لیے

آیا ہے  اور جو لوگ اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے برسرِ پیکار نہیں رہتے۔  بیشتر سیاسی نابغے عیش و نشاط کے لیے جیتے ہیں اں میں سے اکثریت کی روح منضبط نہیں ہے ۔ ان میں سے بیشتر اپنی خوراک کو بھی ضابطے میں نہیں رکھ سکتے۔  ایسے لوگ کاہل اورنیکی کی قوتوں سے محروم ہو جاتے ہیں  لیکن جو لوگ پاکستان کو مملکتِ خداداد مانتے ہیں  وہ سچائی کے راستے  پر چل کر پاکستان کو جنت نظیر بنا سکتے ہیں  اور راست فکری ان کو  سلامتی سے ہمکنار کر سکتی ہے اور مسلمان وہی ہوتا ہے جو سلامت رہتا ہے۔ ہر طوفان، ہر عذاب، ہر وبا اور ہر فریب سے سلامت۔  مگر کہاں ہیں وہ لوگ؟