آزاد کشمیر کے انتخابات: وہی ہؤا جو ہوتا آیا ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 26 / جولائی / 2021
- 11860
اندازے قائم کئے جارہے تھے، سروے آچکے تھے، سرکار کے ترجمانوں نے دعوے بھی کئے ہوئے تھے۔ اب آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آگئے ہیں۔ ان میں اندازے، سروے اور دعوے سب کے سب درست ثابت ہوچکے ہیں۔ ایسا سو فیصد نتیجہ تبھی حاصل ہوسکتا ہے اگر ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات نے یہ بات ثابت کردی ہے۔
انتخابات میں شفافیت کا اندازہ صرف اس ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے متنازعہ تقریریں کرنے اور مشکوک سرگرمیوں میں حصہ لینے پر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت و بلتستان کو آزاد کشمیر سے نکل جانے کا حکم دیاتھا لیکن انہوں نے چونکہ عوامی دولت سے مریم نواز کے میک اپ پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کتاب عوام کے سامنے پیش کرنا تھا ، اس لئے وہ یہ حکم ماننے سے ’معذور‘ رہے ۔اور وزیر اعظم عمران خان کے پہلو میں بیٹھ کر وہ گل افشانیاں کیں کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے پر مجبور ہوں۔ پولنگ کے روز جب صحافیوں نے آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر عبدالرشید سلہریا سے دریافت کیا کہ ان کے حکم کے باوجود علی امین گنڈا پور آزاد کشمیر چھوڑ کر نہیں گئے ، وہ اس بارے میں کیا کہیں گے تو چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں کو کوئی کام کی بات کرنے کا مشورہ دیا۔ جو موجودہ حالات میں نہایت صائب معلوم ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بارے میں تین نکات نمایاں طور سے سامنے آئے ہیں:
1: آزاد کشمیر میں اسلام آباد کی حکومت ہوگی۔ سب کو یہ بات معلوم ہے اور سب اسے تسلیم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری سے چند روز پہلے جب ایک صحافی نے دریافت کیاکہ آزاد کشمیر انتخابات میں کیا نتیجہ ہوگا۔ ان کا جواب حکمت سے بھرپور تھا: ’وہی جو ہوتا آیا ہے‘۔ نتیجے نے واضح کردیا کہ آصف زارداری کیسی سیاسی حکمت رکھتے ہیں لیکن اس بار شیخ رشید بھی ایسی ہی حکمت سے بھرپور باتیں کرتے رہے تھے جنہوں نے اعلان کررکھا تھا کہ ان کی دوربین نگاہیں آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی کامیابی دیکھ رہی ہیں۔ اور وہ اس کا اعلان انتخاب والی رات کو لال حویلی سے کریں گے۔ انتخابات کے بعد اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ صرف آزاد کشمیر ہی نہیں تحریک انصاف سندھ میں بھی حکومت بنائے گی اور اپوزیشن یوں ہی ’فاؤل پلے‘ کا رونا روتی رہے گی۔ آصف علی زرداری سوچ لیں کہ کیا وہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے بھی تیار ہیں۔
2: ان انتخابات نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ سب سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کی انتخابات میں دھاندلی ایک متفقہ طریقہ ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ صرف ہارنے والے اس کے خلاف بولتے ہیں۔ البتہ اسے ختم کرنے پر کوئی راضی نہیں کیوں کل جیتنے کی باری ہماری بھی ہوسکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جیسے پاکستان کی تینوں بڑی جماعتوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کئے تھے تو اسی شدت سے دھاندلی کے الزامات بھی عائد کئے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آزاد کشمیر میں حکومت بھی مسلم لیگ (ن) کی ہے ، الیکشن کمیشن بھی ان کا بنایا ہؤا ہے۔ وہاں دھاندلی بھی وہی کریں گے۔ اب نتیجوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کی بات کودرست ثابت کردیا ہے بس اپنے امیدواروں کی بجائے تحریک انصاف کو جتوایا ہے تاکہ دھاندلی کا من پسند راگ مسلسل الاپا جاتا رہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے ٹوئٹ گواہ ہیں کہ دھاندلی کی گئی ہے البتہ عمران خان اور تحریک انصاف اسے اللہ کی مہربانی اور عوام کی تائد قرار دیں گے۔
3: آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنی مہم ’آزاد کشمیر کو صوبہ نہیں بننے دیں گے‘ کے نعرے پر چلائی تھی اور اپنے جلسوں میں اس بارے میں نعرے بازی بھی کرواتی رہی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت آزاد کشمیر کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے پر تلی ہوئی ہے بلکہ اس بارے میں فیصلہ بھی کیا جاچکا ہے۔ اسی دعوے کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے اس حیرت کا اظہار کیا تھا کہ ’یہ صوبہ بنانے کا الزام کہاں سے آگیا‘۔ البتہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والی تینوں پاکستانی سیاسی پارٹیوں نے عملی طور سے آزاد کشمیر کو پاکستان کے پانچویں صوبے کے طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ پاکستانی سیاست کو آزاد کشمیر لے جاکر ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے درحقیقت یہ ثابت کیاہے کہ انہیں کشمیر کی خود مختار حیثیت یا کشمیریوں کے حق خود اختیاری سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ صرف اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ کشمیر کی انتخابی مہم پاکستانی سیاسی لڑائی کا میدان جنگ بنی ہوئی تھی۔ کشمیر کا نام صرف ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور مخالف پر ’کشمیر فروشی‘ کا الزام لگانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ ورنہ تینوں پارٹیوں کے لیڈروں کی گفتگو ایک دوسرے کی سیاست بلکہ شخصیات پر کیچڑ اچھالنے تک محدود رہی تھی۔
آزاد کشمیر کی خود مختاری یا کشمیری عوام کے حق انتخابات سے گریز کا سب سے بڑا ثبوت تو وہ حلف نامہ بھی تھا جس پر تمام امید واروں نے کسی حیل و حجت کے بغیر دستخط کئے ۔ اس حلف نامہ میں انتخاب میں حصہ لینے والے ہر امیدوار کو یہ اقرار کرنا پڑا تھا کہ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا تہ دل سے حامی اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھتا ہے۔ حالانکہ کشمیر کے انتخابات میں نظریہ پاکستان کی حمایت یا مخالفت کا سوال بےبنیاد اور بے موقع ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کو اگرپاکستان کے ساتھ الحاق کاا قرار کرنا پڑتا ہے پھر بھارت سے یہ شکوہ کس منہ سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے زیر تسلط کشمیر میں من مانی کررہا ہے اور کشمیریوں کو انتخاب کی آزادی نہیں دیتا۔ وہ آزادی تو پاکستان بھی اپنے زیر انتظام کشمیر میں آباد لوگوں کو دینے پر تیار نہیں ہے۔ فی الوقت یہ حق انتخاب کے امیدواروں سے واپس لیا گیا ہے ، کسی اگلے مرحلے پر ووٹ ڈالنے والوں کو بھی کوئی ایسا ہی اقرار نامہ جمع کروانے کا حکم دیاجاسکتا ہے۔
پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے علاوہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ کسی پارٹی نے یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ انتخاب میں حصہ لینے والوں پر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حلف والی شق کے خلاف آواز اٹھاتی۔ البتہ عمران خان یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ جب کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو ان کی حکومت انہیں ایک نئے ریفرنڈم کا حق دے گی جس میں وہ یہ طے کرسکیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا خود مختار ملک بنانا چاہتے ہیں۔ البتہ آزاد کشمیر کے باشندوں کو جس طرح الحاق کا وعدہ کئے بغیر انتخاب میں حصہ لینے سے محروم کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں ایسے کسی ریفرنڈم کے امکان اور نتیجہ کے بارے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی پاکستانی کشمیرشاخ نے البتہ اس حلف نامہ کو ماننے سے انکار کیا کیوں کہ یاسین ملک کی قیادت میں قائم یہ جماعت خود مختار کشمیر کی حامی ہے۔ اسی لئے جے کے ایل ایف نے اس انتخاب میں امید وار کھڑے نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اگر فرنٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کر بھی لیتا تو پاکستان کے وضع کردہ انتخابی قواعد کے مطابق پاکستان کے ساتھ الحاق کا حلف نامہ دیے بغیر اس کے امیدوار انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ شاید اسی لئے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ والوں نے بھلائی اسی میں سمجھی کہ وہ اس مقابلے بازی سے دور ہی رہیں۔
پاکستان کی جن پارٹیوں نے بھی آزادکشمیر انتخاب کو پاکستانی سیاست کا ’رپلیکا‘ بنانے میں سر دھڑ کی بازی لگائی ہے ، انہیں یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ کشمیر کے موجودہ اسٹیٹس کو تسلیم کرتی ہیں اور اسے کوئی مستقل شکل دینے میں ہی پاکستان اور علاقے کی بھلائی سمجھتی ہیں۔ یہ وہی اصول ہے جو آگرہ مذاکرات کے دوران پاکستان سرکاری طور سے تسلیم کرچکا ہے۔ اب بھی سفارتی حلقوں میں کشمیر کے جس ممکنہ حل کی بات کی جاتی ہے اس میں اسی نکتہ پر زور دیا جاتا ہے کہ کشمیر کا جو حصہ بھارت کے زیر انتظام ہے، وہ اس کے تصرف میں رہے اور جو حصہ آزاد کشمیر کے نام سے پاکستان کے پاس ہے، اسے پاکستان کا مستقل حصہ مان لیا جائے۔ اس طرح لائن آف کنٹرول کو پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ سرحد تسلیم کرکے یہ دیرینہ تنازعہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ اور سفری سہولتیں بحال کرکے کشمیری شہریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔
تاہم پاکستانی سیاست میں کشمیر کو بنیادی اہمیت کا مسئلہ بنا کر ہر سیاسی پارٹی موجودہ مؤقف کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف کشمیر سے غداری کے الزامات بھی عائد کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت سے رہنمائی کی امید کی جاتی ہے۔ رہنمائی کسی مشکل سے نکلنے کے لئے نئے طریقے تلاش کرنے کا نام ہوتا ہے۔ نعروں اور ناقابل عمل دعوؤں کے انتظار میں قیادت کا یہ حق ادا نہیں ہوسکتا۔ پاکستان جن گوناں گوں مسائل اور چیلنجز کا سامنا کررہا ہے، ان کی روشنی میں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو کشمیر کے سوال پر کسی ایسے حل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی طرف بڑھنا چاہئے جو اسلام آباد اور نئی دہلی کے لئے یکساں طور سے قابل قبول ہو۔ اسی صورت میں اس خطے سے حالت جنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ تب ہی برصغیر کی کثیر آبادی کی فلاح و بہبود کے لئے وسائل فراہم ہوسکیں گے۔