امریکی وزیر خارجہ دورہ بھارت میں افغان تنازع پر بات کریں گے
- منگل 27 / جولائی / 2021
- 4430
امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اپنے پہلے سرکاری دورے پر بدھ کو بھارت پہنچ رہے ہیں۔ وہ دو روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ خارجہ جے شنکر اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقاتیں کریں گے۔
ان کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل جنوبی اور وسطی ایشیائی اُمور کے لیے امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ ڈین تھامپسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹنی بلنکن بھارتی حکام کے ساتھ مذاکرات میں انسانی حقوق، جمہوریت اور شہریت کے متنازع ترمیمی قانون سی اے اے سمیت دیگر اُمور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت دونوں انسانی حقوق اور جمہوریت کی مشترک قدریں رکھتے ہیں۔
ان کے بقول بھارت اور امریکہ کے درمیان بہت مضبوط دو طرفہ تعلقات ہیں اور وہ مزید مضبوط ہوں گے۔ بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ ماہ انسانی حقوق کے ایک کارکن 84 سالہ اسٹن سوامی کی حراست کے دوران موت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور بھارت سے اپیل کی تھی کہ وہ جمہوریت کی مضبوطی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے اہم کردار کا احترام کرے۔
اسرائیلی سافٹ ویئر 'پیگاسس' کی مدد سے سینکڑوں افراد کی جاسوسی کے الزام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تھامپسن نے کہا کہ بھارت میں پیگاسس جاسوسی کے معاملے میں انہیں زیادہ علم نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع معاملہ ہے۔ لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی ٹیکنالوجی کا اس طرح سے استعمال نہ ہو۔
کویت اور بھارت کے دورے پر روانگی سے قبل ایک ٹوئٹ میں اینٹںی بلنکن نے کہا تھا کہ وہ دورہ کویت اور نئی دہلی کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ تعاون اور مشترکہ مفادات سمیت دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
باخبر ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ اور بھارتی اہل کاروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سیکیورٹی، سائبر، دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کے امور پر بھی گفتگو ہو گی۔ اس کے علاوہ انڈو پیسفک، خطے میں چین کی بڑھتی سرگرمیوں، افغانستان اور کرونا جیسے امور بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
ڈین تھامپسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلنکن اس بات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے کہ ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لیے بھارت اور امریکہ کو کیسے کام کرنا چاہیے۔ اس سوال پر کہ کیا اس دورے میں بھارت اور پاکستان تعلقات پر بھی تبادلہ خیال ہو گا؟ ڈین تھامپسن نے کہا کہ امریکہ سختی کے ساتھ اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے تنازعات باہمی گفت و شنید سے حل کرنے چاہئیں۔
امریکہ کو اس بات پر خوشی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر پر عمل جاری ہے۔ امریکہ ہمیشہ دونوں ملکوں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرتا رہے گا کہ وہ باہمی رشتوں کو مزید مستحکم کریں۔ ادھر بھارتی اخبار 'ہندوستان ٹائمز' نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے ٹیرر فنانسنگ اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا معاملہ بھی نئی دہلی کے ایجنڈے بھی شامل ہو گا۔
اخبار کے مطابق بھارت امریکہ سے مطالبہ کرے گا کہ وہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے۔ خیال رہے کہ پاکستان ٹیرر فنانسنگ اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کے بھارتی الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
دریں اثنا بھارتی وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر بھارت کو فخر ہے اور چوں کہ انسانی حقوق کا معاملہ ایک آفاقی معاملہ ہے اس لیے بھارت اس پر تبادلہ خیال کے لیے بھی تیار ہے۔
خیال رہے کہ بھارت کی مودی حکومت کو دائیں بازو کی ہندوتوا نواز سیاست کو آگے بڑھانے اور مبینہ طور پر اقلیتوں کو الگ تھلگ کرنے کے الزامات پر تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مذہب یا طبقے کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بے بنیاد ہے۔ وہ انسانی حقوق کا احترام کرتی ہے اور اگر کوئی شخص قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
البتہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں عدم برداشت کا ماحول بنتا جا رہا ہے اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے مودی حکومت پر دباو ڈالے۔