حکومت سرکاری اہلکاروں کی سیکورٹی پر اخراجات کم کرے گی
- منگل 27 / جولائی / 2021
- 4370
وفاقی کابینہ نے سرکاری اور دیگر اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر ہونے والے اخراجات کم کرنے کے لیے ’تھریٹ کمیٹیاں’ بنانے کی منظوری دی ہے۔
اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا وفاقی کابینہ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی وزیراعظم کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا ک کابینہ میں سیکورٹی اخراجات پر بات ہوئی اور کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیکیورٹی کے سب سے کم اخراجات وفاقی کابینہ پر ہو رہے ہیں۔ عدلیہ پر سیکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وزرائے مملکت، مشیران اور معاونین خصوصی کی سیکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی اہلکار تعینات ہیں اور ان پر 70 کروڑ روپے کا خرچ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں جج صاحبان کی سیکیورٹی کے لیے 377 پولیس اہلکار تعینات ہیں اور ان پر 28 کروڑ 70 لاکھ خرچ ہو رہا ہے۔ لاہور میں 11 کروڑ 43 لاکھ خرچ ہو رہا ہے، مجموعی طور پر عدلیہ کی سیکیورٹی پر تقریباً 140 کروڑ روپے خرچ ہورہا ہے، جس میں خیبرپختونخوا (کے پی)، سندھ اور بلوچستان شامل نہیں ہے تو ججوں کی سیکیورٹی کا معاملہ شاید 160 سے 170 کروڑ روپے سے بھی اوپر چلا جائے گا۔
کابینہ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے جو اخراجات ہیں وہ 44 کروڑ 60 لاکھ ہیں۔ ہمارے سابق سول اور پولیس کے اہلکار یا سرکاری ملازمین، یا سابق وزرائے اعظم، صدور ہیں، ان کے اخراجات تقریباً 30 کروڑ روپے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ایک رواج بن گیا ہے کہ جو سیکریٹریز اور آئی جیز ریٹائر ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ بہت سارے اہلکار لے کر چلے جاتے ہیں، اسی طرح اہم سرکاری شخصیات کی سیکیورٹی پر مجموعی طور پر 10 کروڑ 90 لاکھ روپے اور مجموعی 109 کروڑ روپے سے زائد وفاقی حکومت کا سالانہ بنیاد پر سیکیورٹی کا خرچ ہے۔ پنجاب حکومت کے سالانہ سیکیورٹی اخراجات 252 کروڑ 90 لاکھ روپے، کے پی پولیس 99 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا نظام وضع کرنے کا حکم دیا ہے اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تھریٹ کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ جو انفرادی خطرات کا جائزہ لیں گی اور اس کے مطابق سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی اور اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اس ضمن میں عدلیہ سے بات بھی کریں گے اور ان کے مطابق بھی آگے بڑھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کو کاروباری افراد، کمپنیاں اور خصوصاً نیا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی آسانی کے لیے فرسودہ قوانین کو ختم کرکے نئے قوانین کے اجرا کے عمل کا آغاز کرنے کا اختیار دیا ہے۔ کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت کی اجازت دی ہے، جمہوریہ چیک نے ہمارے لیے قانون میں ترمیم کی تھی اور اب پاکستان نے بھی اجازت دی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ دنیا بہت تیزی سے سائبر وار کی طرف جارہی ہے، آج ہم اپنی ساری بینکنگ ٹرانزیکشنز اے ٹی ایمز اور موبائل فون پر کر رہے ہیں تو اگر ریکارڈ ہیک ہوجائے تو مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔