آزاد کشمیر کے انتخابات کا سبق
- تحریر سلمان عابد
- منگل 27 / جولائی / 2021
- 4660
آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج ماضی کے انتخابات کا تسلسل تھے۔ یہ اصول اور منطق درست ثابت ہوئی کہ آزاد کشمیر میں وہی جماعت انتخابات جیتے گی جس کی اسلام آباد میں حکومت ہوگی۔
اگرچہ بہت سے سیاسی پنڈت یا حکومت مخالف سیاسی اور صحافتی طبقہ ان انتخابی نتائج سے بہت بڑے سیاسی دھماکے یا حکومتی مخالفت میں کسی بڑے اپ سیٹ کی پیشگوئی کررہا تھا اسے سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ طبقہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے بڑے جلسوں کو بنیاد بنا کراس بیانیہ کو فروغ دے رہا تھا کہ اول پاکستان تحریک انصاف انتخاب نہیں جیت سکے گی اور دوئم اگر جیت گئی تو عددی تعداد بہت کم ہوگی اور ایک کمزور مخلوط حکومت بناسکے گی۔ لیکن انتخابی نتائج نے حکومت مخالف قوتوں کو بڑا مایوس کیا او ران کو سیاسی دھچکہ بھی لگا ہے۔
تحریک انصاف کی بڑے مارجن سے جیت کی تین بڑی وجوہات ہیں۔اول اسلام آباد میں ان کی وفاقی حکومت، دوئم مضبوط برادری سے جڑے افراد کی بطور امیدوار تحریک انصاف میں شمولیت،سوئم انتخابی جلسوں سے زیادہ توجہ مقامی جوڑ توڑسمیت عمران خان کو کشمیر کے وکیل کے طور پر قبول کرنا شامل ہے۔اب تک کے انتخابی نتائج میں کل 45نشستوں پر جو 44نتائج جاری ہوئے ہیں ان میں تحریک انصاف25 پیپلز پارٹی 11، مسلم لیگ ن6،مسلم کانفرنس اور جموں کشمیر پیپلزپارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔بہت سے لوگ مسلم لیگ ن کو دوسرے او رپیپلز پارٹی کو تیسرے نمبر کا درجہ دے رہے تھے۔لیکن پیپلز پارٹی کی کارکردگی کافی بہتر رہی اور وہ 11نشستوں کے ساتھ ایک مضبوط حزب اختلاف کے طور پر سامنے آئی ہے۔سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کا ہوا جو حکمران جماعت ہونے کے باوجود بہت بری شکست سے دوچا رہوئی۔مریم نواز کے بڑے بڑے سیاسی جلسے اور ان کی پاپولر سیاست بھی ووٹوں کی سیاست میں اپنا جادو نہیں چلاسکی اور نواز لیگ کا سیاسی بیانیہ بھی کہیں گم ہوکر رہ گیا۔گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات میں بدترین شکست سے مسلم لیگ ن اور مریم نواز کی سیاسی قیادت پر بھی سوالات اٹھے ہیں جن میں ان کی داخلی سیاست میں بیانیہ کا تضاد بھی شامل ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کے سیاسی سبق کو دیکھیں تو اس میں چار پہلو دیکھنے کو ملے ہیں۔اول ان انتخابات کے نتائج کے بعد ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ قومی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن،تحریک انصاف او رجماعت اسلامی کی براہ راست آزاد کشمیر کی انتخابی عمل میں شرکت کے بعد مقامی سیاسی جماعتیں جن میں مسلم کانفرنس، جموں کشمیر پیپلز پارٹی،لبریشن لیگ سیاسی طور پر کہیں گم ہوکر رہ گئی ہیں۔دوئم
اگر اسی منطق کے تحت آزاد کشمیر میں انتخابات ہونے ہیں کہ اسلا م آباد کی حکومت ہی آزاد کشمیر میں انتخاب جیتے گی تو پھر انتخابات کی سیاسی حیثیت پر ضرور سوال اٹھیں گے۔سوئم تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں،غداری کے سیاسی فتوی جاری کرنا،مودی کی حمایت و دشمنی کی سیاست، کشمیر کی سودا بازی اور کردار کشی پر مبنی مہم تک محدود رہی۔ کسی نے بھی مقامی مسائل اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق مسائل پر بات نہیں کی۔چہارم مسلم لیگ ن کے اینٹی اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیہ کو سیاسی پزیرائی نہیں مل سکی۔شہباز شریف کی عدم موجودگی نے بھی مسلم لیگ ن کی مفاہمتی سیاست کو کافی نقصان پہنچایا۔پنجم آزاد کشمیر میں اصل طاقت سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ مضبوط دھڑے بندی اور برادری کی سیاست ہے جو ہر جماعت کے ساتھ نظریہ ضرورت کے تحت شامل ہوجاتے ہیں او راسلام آباد میں موجود حکمران جماعت ان سیاسی فصلی بٹیروں کو اپنے ساتھ شامل کرکے انتخابی سیاست میں مرضی کا نتیجہ حاصل کرتی ہے۔ششم جو لوگ یہ سیاسی تھیوری پیش کررہے تھے کہ عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان سیاسی فاصلے بڑھ گئے ہیں وہ تجزیہ بھی غلط ثابت ہوا۔
جہاں تک اسلام آبا د کی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا تعلق ہے تو اس میں ایک بڑا کردار وہاں کے ووٹرز، برادری اور مضبوط سیاسی دھڑوں کا بھی ہے۔ کیونکہ وہ بھی سمجھتا ہے کہ جو نظام آزاد کشمیر میں موجود ہے اس میں وفاق کی سیاسی، انتظامی او رمالیاتی مدد کے بغیر صوبے کا نظام کو چلانا او ربالخصوص مقامی ترقی یا ترقیاتی وسائل کا حصول مشکل ہوگا۔ اسی سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر ایہاں کا ووٹرز بھی اپنا ووٹ کاسٹ کرتا ہے کہ اس کا علاقہ ٹکراؤ کی سیاست کی بجائے اسلام آباد سے مفاہمت کے ساتھ چلے او راسی میں اس کا سیاسی فائدہ ہے۔اسی اصول کے تحت 2021میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی ہے۔ جبکہ2011میں پیپلزپارٹی، 2016میں مسلم لیگ ن،2006میں مسلم لیگ ق کی حمایت یافتہ مسلم کانفرنس نے حکومت بنائی تھی۔ اس لیے اگر اب تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تو یہ کسی کہ لیے انہونی بات نہیں۔یہ ہی آزاد کشمیر کی سیاست ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے انتخابی دھاندلی اور عمران، اسٹیبلیشمنٹ، الیکشن کمیشن باہمی گٹھ جوڑ کی سیاسی دہائی بھی سامنے آئی ہے۔ بدقسمتی سے یہ کلچر اور روایت پاکستانی سیاست کا حصہ بن گئی ہے کہ کوئی بھی ہارنے والا امیدوار یا جماعت انتخابی نتائج کوکھلے دل سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔مسلم لیگ ن کی جانب سے تو انتخابی دھاندلی کا ماتم بے جا ہے کیونکہ بہت سی نشستوں پر مسلم لیگ ن تیسرے نمبر جبکہ پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر آئی ہے۔انتخابی اصلاحات واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اگر حکومت، حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن نے ان معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو انتخابی دھاندلی کی گونج سے ہم باہر نہیں نکل سکیں گے۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت او رحزب اختلاف میں موجود بداعتمادی بہت زیادہ ہے حالانکہ وزیر اعظم سمیت وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری مسلسل حزب اختلاف کو انتخابی اصلاحات کی دعوت دے رہے ہیں لیکن معاملہ سلجھنے کی بجائے زیادہ بگڑ گیا ہے۔
بہت سے سیاسی پنڈت آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو بنیاد بنا کر پاکستان میں 2023کے انتخابات کی منظر کشی کررہے ہیں۔ حالانکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے عام انتخابات کا موازنہ درست نہیں او رنہ ہی ان انتخابات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے مستقبل کا سیاسی منظر یا انتخابی منظرپیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی نے اسے اپنے سیاسی مخالفین پر سیاسی برتری دی ہے او راس کا یقینی طور پر سیاسی فریقین میں اثر بھی ہوگا او ر یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کمزور ہوگئی ہے یہ بھی درست نہیں۔ پاکستان کے
نئے عام انتخابات سے قبل بہت کچھ بدلنا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس برس اور اگلے برس پی ٹی آئی اپنی گورننس کی حالت میں بہتری کو عام آدمی کے مفاد کی سیاست سے کیسے جوڑ پاتی ہے۔اصل مقابلہ پنجاب میں ہی ہوگا جہاں مسلم لیگ او رپی ٹی آئی میں ایک بڑی سیاسی جنگ ہوگی اور یہ ہی جنگ مستقبل کے حکمرانی کا بھی فیصلہ کرے گی۔
مسلم لیگ ن کو اب اپنی سیاست کے کارڈ درست طو رپر کھیلنے ہوں گے کیونکہ ان کی مزاحمتی سیاست کا جادو اپنا سیاسی رنگ نہیں دکھاسکا او رخود شہباز شریف کا بھی یہ امتحان ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کی انتخابی سیاست کو کیسے بچا سکیں گے۔کیونکہ مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی میں اینٹی اسٹیبلیشمنٹ بیانیہ پر کافی تشویش پائی جاتی ہے اور ان لوگوں کا اپنا موقف ہے کہ اس بیانیہ کہ ساتھ ہم ووٹر سمیت طاقت کے مراکزمیں بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔
اہم بات کہ اب آزاد کشمیر کا وزیر اعظم کون ہوگا۔ اگرچہ سردار الیاس تنویر اور بیرسٹر سلطان کانام گونج رہا ہے،لیکن ممکن ہے کہ کوئی نیا نام بھی سامنے آجائے۔ وزیر اعظم اس طرح کے فیصلے کرنے میں کمال رکھتے ہیں۔